سینیٹ الیکشن

سینیٹ الیکشن

3 مارچ کو ہونیوالے سینٹ کے الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں۔ اُمیدوار میدان میں آگئے ہیں، کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ عوام کی نظریں ایم پی ایز پر ہیں اور ایم پی ایز کی نگاہیں اُمیدواروں پر جمی ہوئی ہیں، اُمیدواروں کی توجہ بٹی ہوئی ہے۔ وہ ایم پی ایز کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں لیکن اصل کھلاڑیوں کی جانب بھی متوجہ ہیں۔ ایک رکن اسمبلی نے کچھ عرصہ قبل بتایا تھا کہ میدان تب سجے گا جب اسلام آباد سے چند مخصوص لوگ پشاور آکر پنج ستاری ہوٹل میں ڈیرے جمائیں گے۔ انہیں ایک سیاسی جماعت کیساتھ ساتھ مقتدر حلقوں کی آشیرباد بھی حاصل ہوگی۔ ابھی چند روز پہلے بتایا کہ وہ آئے تھے کچھ لوگوں کو ذمہ داریاں تفویض کرکے چلے گئے ہیں اور الیکشن سے پہلے دوبارہ آئیں گے۔ عجب تماشہ ہے سیاسی جماعتیں بے بس ہیں اور ان کی قیادت پریشان کہ اپنے ارکان اسمبلی کو کس طرح قابو کریں، عام انتخابات قریب ہیں، ضمنی الیکشن کا آپشن بھی نہیں، ایسے حالات میں ایم پی ایز پارٹی ڈسپلن کی پابندی کریں یا آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کچھ کمائی کریں، یقیناً قناعت پسندوں کی بھی کمی نہیں لیکن کچھ لوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی اب صورتحال سے سمجھوتہ کر چکے ہیں اور وہ اپنے ارکان اسمبلی کو ''خوش کرنے'' کا موقع فراہم کر رہے ہیں، اسلئے پارٹی ٹکٹ بھی ''تگڑے'' اُمیدواروں کو تھما رہے ہیں۔ ان حالات میں''نظریاتی کارکن'' مایوس ہی ہوگا، خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کا جو منظرنامہ بنا ہے اس میں اپوزیشن جماعتوں کے تگڑے اُمیدواروں کی توجہ تحریک انصاف کی صفوں پر ہے مگر پرویز خٹک بھی اپنی مہارت منوا چکے ہیں۔ 2015ء کے سینیٹ الیکشن میں اصل حریف مسلم لیگ ن کو ساتھ ملا کر انہوں نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ جوڑ توڑ کے ماہر آفتاب احمد خان شیرپاؤ دیکھتے رہ گئے اور ٹیبل ٹاک کے ماہر مولانا فضل الرحمن بھی ارکان اسمبلی کو قائل نہ کر سکے۔ اس مرتبہ بھی تحریک انصاف کی صفوں میں کوئی انتشار نظر نہیں آرہا، انہوں نے انتظام کر لیا ہے اگر ''مقتدر قوتوں'' نے عین موقع پر داؤ نہ کھیلا، پرویز خٹک نے جے یو آئی، مسلم لیگ ن اور قومی وطن پارٹی کے قلعوں میں نقب لگا دی ہے اور بڑی مہارت کیساتھ مولانا سمیع الحق کو میدان میں لے آئے ہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت بھی اب انہیں بلیک میل نہیں کر سکتی، بلکہ اس کا اپنا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ حکمران اتحادی کا ساتھ دے ورنہ اپوزیشن سے وہ کیا حاصل کر پائے گی۔ گزشتہ الیکشن میں حصہ بقدر جثہ کا فارمولہ نہیں ماناگیا اور اضافی نشستیں حاصل کرنے کے زعم میں اپوزیشن کو منتشر کر دیا گیا۔ اس کا فائدہ تحریک انصاف کیساتھ ساتھ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اے این پی نے اُٹھایا تھا۔ اس مرتبہ بھی جے یوآئی کا ہی امتحان ہے روایتی حریف کو ہرانا ہے تو کھلے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مگر اس بار بھی کچھ اُمید نہیں۔ دعوے تو بہت ہیں مگر معلوم نہیں کہ وہ کونسا ایسا داؤ چلائے گی جس سے پانسہ پلٹ جائے گا، بظاہر تو کوئی امکان نہیں۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے 10ساتھی بھی اب منتشر ہیں، مولاناگل نصیب خان جے یو آئی کے بظاہر اصولی اور ترجیحی اُمیدوار ہیں، اگر انہیں پہلی ترجیح سے ہٹایا گیا تو شاید سارا کھیل ہی بگڑ جائے۔ گزشتہ الیکشن میں بھی وہ جنرل سیٹ کی آس لگائے بیٹھے تھے مگر جب ٹیکنوکریٹ کا ٹکٹ دیا گیا تو انہوں نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے اور وقت نے ثابت کر دیا تھا کہ ان کا فیصلہ درست تھا۔ اس مرتبہ صوبائی مجلس عاملہ نے پورے اہتمام کیساتھ محض ان کا نام تجویز کیا مگر طلحہ محمود پھر بھی میدان میں ہیں اور وہ بھی جنرل سیٹ پر، اب معلوم نہیں کہ جے یو آئی کے15 ممبران صوبائی اسمبلی جنرل سیٹ پر کس کو پہلی ترجیح کا ووٹ دیں گے، ہاں مگر تاثر یہی ہے کہ مولانا گل نصیب خان ہی اصولی اُمیدوار ہونگے۔ انجینئر امیر مقام بھی پیر صابر شاہ کو میدان میں لاکر نیا کھیل شروع کر رہے ہیں جس کا فائدہ وہ عام انتخابات کے بعد لینا چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی تو داؤ لگا رہی ہے ایک بھی نشست ہاتھ آگئی تو غنیمت ہے اب تک کی صورتحال کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ کھیل اب بھی پرویز خٹک کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے ناراض ساتھیوں کو قابو کر رکھا ہے۔ جاوید نسیم جو بڑے باغی بنے پھرتے تھے۔ اب وزیراعلیٰ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ انہیں تو گزشتہ سینٹ انتخابات کا تلخ تجربہ بھی ہے۔ پرویز خٹک نے جے یو آئی، مسلم لیگ اور قومی وطن پارٹی سے بھی ارکان توڑ رکھے ہیں۔ انہیں یہ بھی اندازہ ہے کہ سینیٹ الیکشن کے نتائج آئندہ عام انتخابات کا رخ بھی متعین کریں گے، نئے حلیف بھی بنیں گے اور پرانے حلیفوں کو بھی آئینہ دکھایا جائے گا۔ ایک اور اہم بات جو اس الیکشن میں سامنے آئی ہے وہ یہ کہ لکی مروت کا سیف اللہ خاندان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے گلزار خان مرحوم کا خاندان کھیل سے باہر ہیں۔ انہوں نے کوششیں ضرور کی ہیں مگر دال نہیں گلی، ایسا لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی بساط پر اب نئے مہرے نظر آئیں گے پرانے اب نہیں چلیں گے۔ مولانا سمیع الحق کا بھی عجیب المیہ ہے، ایم ایم اے کیساتھ جانا وہ گناہ سمجھتے ہیں، تحریک انساف کیساتھ وہ جارہے ہیں مگر وہ انہیں کھل کر ساتھ نہیں رکھنا چاہتی کہ عالمی برادری اس پر انگلی نہ اُٹھائے یا ''لبرل'' طبقہ اسے طعنہ نہ دے۔ مولانا سمیع الحق ان کی سیاسی ضرورت ہیں۔

اداریہ