مشرقیات

مشرقیات

ابن سعد حضرت جعفر سے روایت کرتے ہیں اوروہ حضرت محمد باقر سے وہ امام زین العابدین سے کہ ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق کے پاس یمن کے حلے (پوشاک) آئے۔ حضرت عمر نے لوگوں میں تقسیم کردئیے۔ وہ یہ پوشاک پہن کر مسجد نبویۖ میں آئے۔ آپ روضہ نبویۖ اور منبرکے درمیان بیٹھے ہوئے تھے' لوگ آتے' سلام کرتے اور دعا دیتے۔ اتنے میں حضرات حسن وحسین مکان سے باہر نکلے۔ ان کے جسم پر ان جوڑوں میں سے کوئی حلہ نہیں تھا۔
حضرت عمر افسردہ اور اُداس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: میں ان بچوں کی وجہ سے مغموم ہوں کہ ان کے بدن کے مطابق کوئی حلہ نہیں تھا' سب بڑی عمر والوں کے لئے تھے' پھر آپ نے یمن اپنے عامل (گورنر) کو لکھا کہ حضرت حسن وحسین کے لئے دو حلے بھیجو اور تاخیر نہ کرنا۔ اس نے فوراً دو پوشاکیں بھیجیں۔ آپ نے اپنے ہاتھوں سے ان دونوں کو پہنایا تب اطمینان ہوا۔ ایسی اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر یہ پہلا انسانی معاشرہ جس کی بنیاد محبت نبوی' تربیت ایمانی اور تعلیمات قرآنی پر پڑی تھی ایک بے خار انسانی گلدستہ بن گیا جس کا ہر پھول اور ہر پتی اس کیلئے با عث زینت تھی۔
(مفکر اسلام' سید ابو الحسن علی ندوی)
حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا جس کا ارادہ اپنی مملکت کی زمین کی سیر اور حال دیکھنے کا ہوا۔ اس نے شاہانہ جوڑا منگایا۔ ایک جوڑا لایا گیا وہ پسند نہ آیا' دوسرا منگایا وہ بھی پسند نہ آیا، غرض بار بار رد کرنے کے بعد نہایت پسندیدہ جوڑا پہن کر سواری منگائی گئی۔ ایک عمدہ گھوڑا لایاگیا' پسند نہ آیا' اس کو واپس کر دیا، دوسرا منگایا وہ بھی پسند نہ آیا۔ غرض سارے گھوڑے منگائے گئے۔ ان میں سے اپنی پسند کا گھوڑا لے کر سوار ہوا۔ راستے میں چلتے چلتے ایک شخص نہایت سادہ خستہ حال ملا' سلام کیا۔ بادشاہ نے توجہ بھی نہ کی، خستہ حال نے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ بادشاہ نے ڈانٹا کہ لگام چھوڑ۔ اتنی جرأت کرتا ہے، معلوم ہے میں کون ہوں؟ اس نے کہا مجھے تم سے کام ہے۔ یہ کہہ کر زبردستی لگام چھین لی۔ کہا میں ملک الموت ہوں اور تیری جان لینے آیا ہوں۔ یہ سن کر بادشاہ کا چہرہ فق ہوگیا، دماغ چکرا گیا، زبان لڑ کھڑا گئی۔ کہنے لگا: اچھا مجھے اتنی مہلت دے دے کہ میں گھر جاکر اپنے سامان کا نظم کروں۔ فرمایا مہلت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر اس کی روح قبض کرلی۔ وہ گھوڑے سے لکڑی کی طرح نیچے گر گیا۔
کیا نظام قدرت ہے، جو حکیم جس مرض میں ماہر تھا اسی کا شکار ہوکر چل بسا۔ سل کے مرض میں ارسطاطالیس' افلاطون فالج سے ' حکیم لقمان اور جالینوس اسہال سے وفات پائے' حکیم اجمل خان دل کی بیماری سے جس بیماری میں یدطولیٰ رکھتے تھے' اسی میں ختم ہوئے۔

اداریہ