Daily Mashriq

سیاسی اُفق پر رسہ کشی کے اُبھرتے آثار

سیاسی اُفق پر رسہ کشی کے اُبھرتے آثار

قومی اسمبلی کی تقریباً چھ ماہ کی تاخیر کے بعد تشکیل پانے والی کمیٹیوں کے عین فعال ہونے اور کام شروع کرنے کے دن اور موقع پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین شہباز شریف کو پی اے سی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا حکومتی عندیہ بلکہ اعلان پر حزب اختلاف کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں کو نہ چلنے دینے، بائیکاٹ اور قانون سازی کے عمل سے اجتناب کی دھمکی سامنے آئی ہے۔ بعید نہیں کہ عمل اور ردعمل کی ایک دوڑ شروع ہو جائے اور حکومتی وجمہوری نظام میں تعطل آجائے جس کا اس وقت ملک قطعی طور پر متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس سطور کے رقم ہوتے وقت قومی اسمبلی کی7 قائمہ کمیٹیوںکے اجلاس ہونا تھے۔ واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روز36قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کی منظوری دی تھی جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئیں۔ سپیکر نے کمیٹیوں کیلئے ارکان کے ناموں کی بھی منظوری دی تھی۔ دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف کے وزیر کی جانب سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی چھوڑنے سے متعلق کئے جانے والے مطالبے پر مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے کسی بھی اقدام سے معاملات سنگین شکل اختیار کر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کنٹینر پر چڑھنا نہیں چاہتے لیکن ہم حکومتی معاملات کو چلانے میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس کے جواب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی نااہلی پر تحریک انصاف کی حکومت کیساتھ جنگ کرنے پر اُتر آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں آئیں اور حکومت یا کسی شخص کو گالی دیں۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا بھی کہنا ہے کہ شہباز شریف کو عہدے سے ہٹایا گیا تو قائم کمیٹیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حکومت کیلئے پی اے سی کے چیئرمین کو ہٹانے کا قانونی راستہ عدم اعتمادی کی صورت میں موجود ہے لیکن پی اے سی کا معاملہ صرف اس حد تک ہی نہیں۔ وزیر ریلوے کی جانب سے پی اے سی کی ممبرشپ کی سعی کے طور پر بھی ایک معاملہ درپیش ہے جبکہ تحریک انصاف کے ممبران اس بات پر تیار نہیں کہ وہ مستعفی ہوکر شیخ رشید کیلئے جگہ بنائیں۔ حکومت کی جانب سے شہباز شریف کو ہٹانے کیلئے ووٹنگ کے وقت حکومت کے اتحادی جماعتوں کا ووٹ اہم ہوگا جو اس وقت اگر ناراض نہیں تو راضی بھی نہیں۔ حکومتی وفد نے مسلم لیگ(ق) کی قیادت سے ملکر اور ان کو ایک قومی وصوبائی وزارت دیکر قائل کر لیا ہے لیکن ایم کیو ایم نے بھی موقع دے کر سر اُٹھا لیا ہے۔ ان سارے معاملات کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ حکومت حزب اختلاف سے ایک طے شدہ عہدے پر معاملات بگاڑنے کی متحمل ہوسکتی ہے لیکن بعید بھی نہیں کہ حکومت وہ غلطی دہرائے جس کے اکثر موجودہ وسابق دونوں حکمران عادی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں معاشی بحران اور مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ملکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے ازخود متحرک ہوکر اور باربار اسی مقصد کی خاطر غیر ملکی دورے کئے اور یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی سربراہ سے ہمراہ وزرائے خزانہ وخارجہ کے ملے ہوں۔ علاوہ ازیں تبدیلی وبہتری کے جس ایجنڈے پر عملدرآمد کی عوام حکمرانوں کے وعدوں کے پیشرفت کے منتظر ہیں مگر جہاں پیشرفت کے آثار کی بجائے سخت حالات کا مسلسل عندیہ مل رہا ہو ایسے میں ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر حکومت کیلئے مصلحت کی ردا اوڑھنے اور محاذآرائی کی کیفیت سے حتی المقدور گریز کی پالیسی ہی موزوں نظر آتی ہے مگر دیکھا جائے تو یکے بعد دیگرے حکومتی صفوں کے کچھ عناصر پورے ہوش وہواس میں گرما گرمی کے ماحول کو ٹھنڈا ہونے نہیں دیتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کو شہباز شریف منظور نہیں تھے جس کا وزیراعظم عمران خان نے بار بار صراحت سے تذکرہ بھی کیا تھا تو ان کو چیئرمین پی اے سی بنایا ہی کیوں اور اگر بنایا گیا ہے تو محض وزیر کے پروٹوکول کے برابر سیکورٹی اور پروٹوکول میں اجلاسوں کی صدارت اور اسمبلی آمد پر ان کو ہٹانے کا کیا جواز بنتا ہے۔ اس طرح تو سابق وزیراعظم نواز شریف کو بڑی حد تک یہ سب کچھ بطور قیدی کے بھی میسر ہیں، جہاں تک شہباز شریف کا اسمبلی میں ترکی بہ ترکی کا سوال ہے اگر حکمران جماعت کے بعض وزراء اور اراکین ابتدا ہی میں اسی کا ادراک کرلیتے اور ایوان میں وہ الفاظ استعمال نہ کرتے جس کا اب خود ان کو سامنا ہے تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ ان تمام حالات وواقعات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ تحریک انصاف میں پوری طرح سے مشاورت اور معاملے کے تمام پہلوؤں اور نتائج کا دانشمندانہ تجزیہ کرنے کے بعد فیصلے کرنے کا فقدان ہے۔ اصولی طور پر جب بھی کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ طے ہو جائے اس کے بعد اس پر قائم رہنا ہی مصلحت ہے یہاں تک کہ واپس مڑنا ناگزیر نہ ہو جائے۔ پی اے سی کے چیئرمین کو ممکنہ طور پر ہٹانے کے منظرنامے میں قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بائیکاٹ اور ایوان کی کارروائی میں رخنہ مسلم لیگ(ن) کو تحریک انصاف کی صف میں ضرور کھڑا کر ے گی اور تاریخ اپنے آپ کو معمولی رد وبدل کیساتھ دہرائے گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس پر تلی بیٹھی ہیں جس سے حکومت کی ناکامی ہی کا خدشہ نہیں نظام کی ناکامی کا خطرہ اصل خطرہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں