Daily Mashriq

ڈاکٹر یا عطائی؟

ڈاکٹر یا عطائی؟

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں مریضوں کی شرح اموات بڑھنے پر بورڈ آف گورنر کا متعدد پروفیسرز اور سینئر سرجنزکی تعلیم اور تربیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے انہیں مزید مہارت کیلئے طبی تعلیمی اداروں سے رجوع کرنے کی ہدایت بورڈ آف گورنرز کا حقیقت پسندانہ اقدام یا فیصلہ ضرور ہے لیکن اس سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تعینات سینئر ڈاکٹروں کی مہارت پر جو سوال اٹھتا ہے وہ نہایت تشویشناک اور پریشان کن ہے۔ جن جن شعبوں کے ڈاکٹروں کو مزید تربیت لینے کی ہدایت کی گئی ہے یہ صرف ان کی تعلیم وتربیت اور تجربے پر اظہار عدم اطمینان اور ان کو نااہلیت کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنا نہیں بلکہ صوبے میں طبی تعلیم کے معیار اور اس قسم کے ڈاکٹروں کو سند ملنے کا معاملہ بھی قابل توجہ ہے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ طبی تعلیم اور طب کے پیشے اور شعبے کا براہ راست تعلق انسانی زندگی اور صحت سے ہے اس شعبے میں ماہر امراض قلب ماہرین جراحت یا فزیشنز ہی کی تعلیم‘ تربیت‘ مہارت اور تجربہ ہی اہم نہیں بلکہ انستھیزیا سے لیکر تشخیص مرض وعلاج تک کے مراحل سے وابستہ ٹیکنیشنز وغیرہ کا بھی یکساں قابلیت واہلیت کا حامل ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ہسپتال اور مذبح میں فرق کیا باقی رہ جائے گا؟ محولہ صورتحال نہ صرف صوبے میں طب وجراحت اور علاج وتشخیص کے سارے نظام اور ذیلی شعبوں کا جائزہ لینے اور اصلاح احوال کا متقاضی معاملہ ہے وہاں اس قسم کے عناصر افراد کو علاج سے روک دینے کا اقدام بھی ناگزیر ہے تاکہ عطائیوں اور ڈاکٹروں کا فرق واضح ہو۔

بنکوں میں سرکاری حسابات کا دیرینہ مسئلہ

صوبائی حکومت کا کمرشل بینکوں میں سرکاری اداروںکے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرنے کا اقدام بالآخر ایک راست اقدام کے زمرے میں آتا ہے۔ محکمہ خزانہ نے اپنے مراسلے میں بنکوں پر واضح کیا ہے کہ مذکورہ تفصیلات فراہم نہ کرنے والے بینکوں اور مالیاتی اداروں کیخلاف کارروائی کیلئے سٹیٹ بینک سے رابطہ کیا جائے گا ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں تھوڑے سے نفع یا کسی بھی مصلحت کے تحت قومی وصوبائی یا ادارے کے مفاد کو پس پشت ڈالنے کی ریت بد پائی جاتی ہے۔ سرکاری حسابات کمرشل بینکوں میں رکھنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک عام وجہ ان بینکوں میں کسی کیلئے حصول ملازمت کو آسان بنانے یا پھر پہلے سے ملازمت پر مامور شخص کا ٹارگٹ پورا کرکے اس ملازمت ومراعات کا تحفظ ہے۔ یہ ایک ایسی وباء ہے جس کا جال ڈال کر کمرشل بنک سرکاری اداروں کا اکاؤنٹ حاصل کرکے بھی مسابقت میں آگے نکلنے کیلئے کوشاں ہیں علاوہ ازیں بھی وجوہات ناممکن نہیں۔ ہماری یادداشت میں اس قسم کی تنبیہہ وہدایات پہلے ادوار کی بھی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر اس ہدایت کے اعادے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ حکومت تکلف برت رہی ہے اور وزارت خزانہ کی ہدایت کو سرکاری ادارے پرکاہ کی حد تک بھی اہمیت نہیں دے رہے۔ اس ضمن میں سخت اقدامات اٹھانے میں اب مصلحت اور تساہل کا مظاہرہ نہ ہو تو سرکاری خزانے کی رقم سرکاری اور منظور شدہ بنکوں میں واپس آئے۔

اپرچترال کے عوام احتجاج پر مجبور کیوں؟

گولین گول پن بجلی گھر سے بجلی نہ ملنے پر تحریک حقوق اپر چترال کے عمائدین کا احتجاج اور لانگ مارچ مذاکرات کے بعد ایک ماہ کیلئے مؤخر کرنے کے بعد متعلقہ حکام کو ان کے مطالبے کو پورا کرنے کیلئے سنجیدہ مساعی شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ چترال میں مقامی طور پر ضرورت سے کہیں زائد بجلی کی پیداوار کے باوجود مقامی افراد کو محروم رکھنے کا رویہ ان کے بنیادی حق سے انکار ہے جس کی آئین وقانون میں کوئی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں