Daily Mashriq

ہم کیوں نہیں سوچتے

ہم کیوں نہیں سوچتے

مختلف مطالعاتی رپورٹوں کے مطابق موسم کی تبدیلی کے انسان کی طبیعت پر مختلف اثرات مرتب ہوا کرتے ہیں۔ برلن جرمنی میں مشاہداتی ٹیم نے ان موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی اور اس میں موسمیاتی تبدیلیوں کو انسانی مزاج پر اثرانداز ثابت کیا۔ انہی موسمیاتی تبدیلیوں کو ہی قابو میں رکھنے اور اپنے شہر کے بہترین مفاد میں استعمال کرنے کیلئے برلن میں ایک نیا پلان تیار کیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جرمنی میں گرمی کی شدت اور بارشوں میں اضافہ ہوتا جائے گا جو ان کے طرز زندگی پر منفی طور پر اثرانداز ہونے والا ہے۔ اس ساری صورتحال کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی اور اب اس حکمت عملی کے نتیجے میں برلن کو ’’اسفنج سٹی‘‘ میں تبدیل کرنے پر غور وفکر ہو رہا ہے۔ اسفنج سٹی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سطح زمین کو کنکریٹ‘ تارکول اور سیمنٹ سے بچایا جائے‘ پیدل چلنے والے راستوں پر زیادہ سایہ دار درخت ہوں‘ گھروں کی چھتیں تک گھاس سے ڈھکی ہوئی ہوں۔ عمارتوں کے بیرونی رنگ ہلکے رکھے جائیں تاکہ یہ عمارتیں گرمی کو جذب کرنے کے بجائے منعکس کریں۔ سڑکوں‘ پارکنگ ایریاز اور گلیوں کی تعمیر میں ایسے طریقے اختیار کئے جائیں جن سے پانی زمین کے اندر جذب ہوسکے۔

شہر میں تالاب اور جھیلیں وغیرہ بنائی جائیں‘ گھروں میں لان اور سڑکوں کے کنارے درختوں میں اضافے کا مقصد بارش کے پانی کو محفوظ بنانا ہے۔ زمین میں پانی کے انجذاب کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جرمنی اور یورپ کے دیگر ملکوں میںکم ازکم چار سے پانچ ڈگری درجہ حرارت کے اضافے کا امکان ہے۔ ان سارے اقدامات کے نتیجے میں گرمی کی شدت میں اس اضافے کو دو ڈگری تک محدود کیا جانا مقصود ہے۔ ایک طرف جرمنی اور یورپ میں موسمیاتی تبدیلیوں کو قابو میں رکھنے کی کوششیں ہیں اور دوسری جانب پاکستان کی صورتحال ہے جو انتہائی دگرگوں ہے۔ صرف گلگت بلتستان کے حوالے سے اگر صورتحال کاجائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو کچھ حیران کن بلکہ پریشان کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ گلگت بلتستان کا علاقہ قریباً 74,496 مربع کلو میٹر ہے جس کا ایک بڑا حصہ گلیشیئرز پر مبنی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے آغاز سے پہلے بھی گلگت بلتستان کا علاقہ اپنی جغرافیائی پوزیشن کے باعث مختلف عوامل سے اثرانداز ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ اثرپذیری کئی گنا بڑھ جانے کا امکان ہے۔ دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ان گلیشیئرز اور جھیلوں پر بہت برے طور پر اثرانداز ہوتی ہیں جن کے باعث ان گلیشیئرز کا بہت تیزی سے پگھلنا تیز اور اچانک سیلابوں کا رونما ہونا ایک معمول بنتاجا رہا ہے۔ گلگت بلتستان چونکہ پہاڑی علاقہ ہے اس لئے وہاں وہ اقدامات نہیں کئے جاسکتے جو سیلابوں سے ہونے والے نقصان سے بچاؤ کیلئے میدانی علاقوں میں کئے جاتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں سیلابوں کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں صورتحال بگڑ رہی ہے۔

درجہ حرارت کے بڑھنے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً4059 گلیشیئرز ہیں جو 12764 مربع کلومیٹر پر محیط ہیں جبکہ منجمد جھیلوں کی تعداد 1782 ہے جو قریباً نوے مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ ان میں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قریباً 44 خاصی خطرناک ہو چکی ہیں۔ خود گلیشئرز میں کئی قسم کی تبدیلیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔گلگت بلتستان سے متصل چترال کے دونوں اضلاع خاص طور پر اپرچترال میں بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے۔

دنیا میں ایسے ممالک ہیں جو متوقع تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی روک تھام کرنے کیلئے آج حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں اور ہم کسی اندازے‘ کسی رپورٹ کا سہارا لئے بغیر سڑکیںبنا رہے ہیں۔ پاکستان میںکوئی ٹرانسپورٹ پالیسی نہیں لیکن ’’سڑک بناؤ‘‘ پالیسی ہے کیونکہ ترقیاتی کاموں میں نہایت احسن طریقے سے کمیشن بنایا جاتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے دور میں خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت صوبے میں شجرکاری اور جنگل لگانے میں خاص کام کیا ہے موجودہ دور حکومت میں پنجاب میں اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں لیکن جس قسم کے حالات اور صورتحال ہے اس میں کیا یہ کافی ہے۔ یقیناً نہیں میرے تئیں تو حکومت چاہے جتنے بھی اقدامات کیوں نہ کرے سرکاری طور پر اس مشکل میں کمی تو لائی جاسکتی ہے قابو پانا تو درکنار خطرات میں کمی لانے کیلئے عوام کی سطح کی اور انفرادی طور پر کوششوں کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ برسوں کے بگاڑ کو سال دوسال میں ٹھیک کیا جاسکے۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر اگر ساری توقعات حکومت سے لگا دیں تو یہ خودکشی ہوگی۔ حکومت کو اپنا کام ضرور کرنا چاہئے۔ حکومت کو شجرکاری کیساتھ ساتھ تحفظ جنگلات کی ذمہ داری پر بھی پوری طرح توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کا بہترین حل پودے لگانا اور پودوں کی نگہداشت کو قومی سطح پر مشغلہ بنانا ہے۔ جب تک ہم بطور قوم اپنے حصے کے ماحول کی صفائی اور آبادی میں اضافے اورصنعتوں میں اضافہ اور صنعتی آلودگی ٹریفک کی آلودگی میں کمی لانے کیلئے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے اس گمبھیر مسئلے پر قابو پانا ممکن نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں