Daily Mashriq

دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

پاکستان کے سابق صدر اور میدان سیاست کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری نے پریس والوں سے کندھا مانگا ہے۔ ان کی یہ بات سن کر ہم حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی، اسداللہ خان غالب نے بچوں کو فارسی اور اردو کے الفاظ سمجھانے کی خاطر جو قادرنامہ لکھا تھا اس کے مطابق کندھے کو دوش بھی کہتے ہیں

ہے شکم پیٹ اور بغل آغوش ہے

کہنی آرنج اور کندھا دوش ہے

کندھا دوش کو کہیں یا دوش کندھے کو دونوں صورتوں میں کندھا جنازے کو دیا جاتا ہے، یا کسی زمانے میں بابل کے آنگن سے رخصت ہونے والی دلہن بٹیا کی ڈولی کو دیا جاتا تھا جو آج کل متروک ہوچکی ہے، اگرآصف علی زرداری کی کندھا دینے سے مراد شانہ سے شانہ ملا کر چلنے یا شانہ بشانہ چلنے کی ہے تو پھر ان کو کندھا دینے والے ’جنس بہ ہم جنس کند پرواز، کبوتر بہ کبوتر، باز بہ باز‘ کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ان کا ساتھ وہی لوگ دے سکیں گے جو ان جیسی شہرت کے حامل ہوںگے، ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں، ہر شعبۂ زندگی کی طرح ممکن ہے پریس اور میڈیا میں بھی ایسے لوگ موجود ہوں جو ان کی اس کال پر ان کا ساتھ دینے کیلئے چل پڑیں، کیونکہ میدان سیاست کے ایسے شہسوار پہلے ہی عمران خان کی حکومت کو گرانے کیلئے مردان میدان بن کر ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور وہ گزرے ہوئے کل آگ اور پانی جیسے رشتے میں رہنے کے باوجود ان کا ساتھ دینے کی قسمیں کھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے۔ سیاستدانوں کی اس پکتی کھچڑی کے ردعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے بڑے جارحانہ انداز میں کہا ہے کہ جیل میں آذان قاتل دیتا ہے، نماز ڈاکو پڑھاتا ہے اور ’ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز‘ کے مصداق ایک ہی تھیلی کے سارے چٹے بٹے اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ ہمیں فواد چودھری کی اس بات سے ہرگز اتفاق نہیںکیونکہ جیلوں میں سارے ہی چور یا اچکے نہیں ہوتے۔ ہماری معلومات کے مطابق وہاں بے گناہ قیدیوں کی اکثریت ہوتی ہے جو جرم ناکردہ کی پاداش میں سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ سزا کاٹنے والے صرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے سزا نہیں کاٹتے انہیں مرمر کر جینے اور جی جی کر مرنے کی سزا جیل کی کال کوٹھڑیوں سے باہر بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ غربت، ناداری اور فاقہ کشی کے علاوہ قدم قدم پر دھوکہ، فراڈ، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، چور بازاری، اقرباء پروری، ظلم زیادتی، رشوت ستانی، ناانصافی اور سفارش جیسی کتنی سزائیں ہیں جو جیل سے باہر نام نہاد آزاد زندگی گزارنے والے کاٹتے رہتے ہیں۔ ٹیکس غریب بھرتے ہیں اور عیش زرداروں کے حصے میں آتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے نام نہاد آزاد زندگی گزارنے والے عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہوں، بقول ساغر صدیقی

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

جب انسان زندگی کے بہت سارے شب وروز گزار لیتا ہے تو وہ عہد پیری کی سزا بھگتنے کے بعد جرم ضعیفی کی پاداش میں مرگ ناگہانی کے تختے پر جا لٹکتا ہے کہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

کل ہی کی خبر ہے کہ سیاست کے بے تاج بادشاہ کا ہیلی کاپٹر کسی ناگہاں حادثہ کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ بال بال بچ گئے اگر خدا نخواستہ آپ ہیلی کاپٹر کے حادثہ کا شکار ہوجاتے تو پورے ملک میں کہرام مچ جاتا، اور جانے کہاں کہاں سے لوگ کندھا دینے چلے آتے اور پورا ہوجاتا ارمان نوابزادہ آصف علی زرداری کا، اللہ نہ کرے ایسا وقت آئے، لیکن یہ بھی اک حقیقت ہے کہ ایسا وقت آکر رہتا ہے جب اس دنیا میں آنے والا انسان آج مرے کل دوسرا دن کے مصداق مر بھی جاتا ہے اور مرنے کے بعد کھپ بھی جاتا ہے، مرنا اور مرنے کے بعد کھپ جانا کسی کے مر جانے کے بعد اس کے دفن ہوجانے کو کہتے ہیں، لیکن اپنے دوراقتدار میں حضور ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگا کر جانے کیا باور کرانا چاہتے تھے، ہم سادہ لوح لوگ تو یہی سمجھے کہ خاکم بدہن ونصیب دشمناں پاکستان مر چکا ہے اور اب اسے کھپنا یا دفن ہونا چاہئے، گمان ہے کہ جس طرح زرداری کندھا دینے کی اصطلاح کو شانہ بشانہ چلنے کے معنی دیتے ہیں اسی طرح وہ پاکستان کھپے کے معنی بھی جدا لیتے ہوںگے، زرداری ملک کی بہت بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر ہیں، وہ جب کسی عوامی رابطہ مہم پر پنجاب کا دورہ کرتے ہیں تو اپنے سیاسی جلسوں میں بڑی صاف اور شستہ پنجابی زبان میں تقریر کرتے نظر آتے ہیں، وہ سندھ میں رہ کر سندھی زبان اور سندھی لب ولہجہ کا استعمال کرنے میں حق بجانب ہیں لیکن مرنے کھپنے اور کندھا دینے جیسے الفاظ کے مفہوم ومعانی سے ان کی ناآشنائی ایک جدید اور پڑھے لکھے معاشرے میں ان کو پینڈو ثابت کرکے ان کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے، یہ میرا ذاتی تجزیہ یا کسی فرد واحد کی بات نہیں ہماری قومی زبان اردو کی ٹانگیں توڑنے کے مترادف ہیں یہ روئیے۔ جس کی اصلاح اسی صورت میں ہو سکے گی جب ہم اپنی قومی زبان سے لگاؤ اور رغبت پیدا کریں گے، بصورت دیگر ہمیں کہنا پڑے گا کہ

یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

متعلقہ خبریں