Daily Mashriq


مہمند ڈیم کے ’متنازع‘ ٹھیکیدار سے واپڈا کے مذاکرات

مہمند ڈیم کے ’متنازع‘ ٹھیکیدار سے واپڈا کے مذاکرات

اسلام آباد: مہمند ڈیم کے ٹھیکے کی نیلامی کے طریقہ کار اور مفاد پر تنازع کے باوجود واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمپنی ڈیسکون انجینئرنگ کی ڈیم بنانے کے لیے 309 ارب روپے کی بولی پر ان سے مذاکرات کر رہی ہے۔

واپڈا چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل مزمل حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی ذخائر کو بتایا ہے کہ واپڈا کی سرمایہ کاروں، ڈیسکون، چائنا گیزہوبا اور ووئتھ ہائیڈرو کے اتحاد سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بات چیت جاری ہے جبکہ کنٹریکٹ تاحال باضابطہ طور پر نہیں دیا گیا ہے۔

سینیٹر احمد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ کنٹریکٹر اور کلائنٹ کے درمیان مذاکرات سے 15 سے 20 فیصد ڈسکاؤنٹ مل سکتا ہے کیونکہ ڈیم کی تعمیر میں سب سے زیادہ ضرورت اسٹیل، سیمنٹ وغیرہ کی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ بولی کی رقم کو 50 ارب تک کم کرسکتے ہیں جب آپ ایک ایک آئٹم کی طرف جائیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا اور دیگر عوامی اداروں کی نیلامی میں شفاف طریقہ کار اپنانے اور تمام قوائد کی پاسداری کرنے کے دعوے کے باوجود ان کے نیلامی کے میکانزم میں کئی خامیاں ہیں جس کی مثال ہے کہ ایک ٹھیکیدار نے بلوچستان میں نو لونگ ڈیم کی سب سے کم بولی 27 ارب روپے لگا کر نیلامی جیتی تھی جو بعد ازاں متنازع ہوگئی تھی۔

ایک سال بعد واپڈا نے اس کی دوبارہ نیلامی کی اور ان (سینیٹر احمد خان) کی کمپنی نے 18 ارب روپے کی بولی لگائی لیکن پہلے نیلامی جیتنے والے ٹھیکیدار نے نظر ثانی کرکے اس ہی کام کے 17 ارب روپے کی بولی لگائی اور ٹھیکہ دوبارہ جیت لیا تھا جو ایک بڑا سوالیہ نشانہ ہے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے واپڈا حکام نے سینیٹر احمد خان کے نولونگ بولی کے نتائج کی تصدیق کی اور کہا کہ حتمی بولی 17 ارب کے بجائے 19 ارب روپے تھی۔

سینیٹ کمیٹی جس کی صدارت سینیٹر شمیم آفریدی کر رہے تھے، نے فیصلہ کیا کہ نولونگ ڈیم پر خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور سینیٹر احمد خان اور واپڈا چیئرمین کو اس اجلاس میں مکمل ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا جائے گا۔

اجلاس میں سینیٹرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واپڈا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان چند چینی کمپنیوں کے ہاتھوں پھنس گیا ہے کیونکہ چند بین الاقوامی کمپنیاں جن میں یورپی کمپنیاں بھی شامل ہیں نے کافی عرصہ قبل ہی ملک میں کام چھوڑ دیا تھا جبکہ ملک کی مقامی کمپنیوں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ میگا پروجیکٹس مکمل کرسکیں۔

لیفٹننٹ جنرل حسین کا کہنا تھا کہ ڈیسکون ملک کی سب سے بڑی انجینیئرنگ کمپنی ہونے کے باوجود ایسے بڑے منصوبے اکیلے مکمل کرنے کی قابلیت نہیں رکھتی اور اسے چینی کمپنیوں کو بھی کام میں شراکت دار بنانا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’2 سے 3 چینی کمپنیاں ہمارے ساتھ کھیل کھیل رہی ہیں، ہم پھنس چکے ہیں‘۔

واضح رہے کہ یورپی کمپنیاں پاکستان سے بہت عرصہ قبل جاچکی ہیں اور 2002 میں ہونے والا غازی بروتھا آخری منصوبہ تھا جسے اطالوی کمپنی نے مکمل کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا 2 ہزار سے 3 ہزار پاکستانی انجیئرز کو دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم میں ملوث کرنا چاہتی ہے جبکہ پاکستانی انجینیئروں کا ماہانہ معاوضہ 45 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ سے 3 لاکھ کردیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر 6 ہزار پاکستانی مہمند ڈیم اور تقریباً 15 ہزار دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے کام کریں گے جس کی وجہ سے مقامی صلاحیت بڑھے گی۔

واپڈا چیئرمین کا کہنا تھا کہ مہمند ڈیم کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 5 سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں