Daily Mashriq


فرقہ واریت کے خلاف بھی ضرب عضب کی ضرورت

فرقہ واریت کے خلاف بھی ضرب عضب کی ضرورت

وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے حوالے سے معروضات پر ایوان میں تنقید اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معروضی حالات میں فرقہ وارانہ گروپوں کو کالعد م قرار دینے کے بعد ان کو بھی طالبان کی طرح دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کیا جائے شاید ایسا ممکن نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ اس حوالے سے دورائے نہیں کہ فرقہ وارانہ تنظیموں کا دامن بدترتین قسم کے فسادات اور قتل و غارت گری سے پاک نہیں ۔فرقہ وارانہ تنظیموں کی عسکریت اور باہم تصادم اور خاص طور پر ٹارگٹ کلنگ ایک دوسرے کے معابد پر حملے ایک دوسرے کے مراکز کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی جیسے سنگین حالات وواقعات کا ارتکاب کسی سے پوشید ہ امر نہیں۔ ان تنظیموں کو کالعدم قرار دینا ، ان پر پابندی ان کے عمائدین اور خاص طور پر فرقہ وارانہ منافرت پر کارروائیوں میں براہ راست ملوث ارکان کو گرفتار کر کے مقدمات چلا کر کیفر کردار تک پہنچا نے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہیںہونا چاہیئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتیں اپنے اس فرض میں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ حق گوئی سے کام لیا جائے تو اس طرف توجہ ہی دینے کی کم ہی زحمت گوار ا کی گئی ۔ کہیں اعتقاد آڑے آیا تو کہیں سیاسی اور گروہی مفادات آڑے آتے رہے اگر حکومتیں چاہیں تو اولاً یہ تنظیمیں قائم ہی نہیں ہو سکتی تھیں پھر ان کے پنپنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا مگر بو جوہ حساس اداروں سمیت حکمرانوں ۔پولیس اور انتظامیہ ہر جانب سے صرف نظر کی پالیسی اختیار کی گئی بعض الزام لگانے والوں کے مطابق ان کی مدد ہوتی رہی جس سے اتفاق ممکن نہیں ۔ قطع نظر ان حالات کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے ان تنظیموں کے حوالے سے دیئے گئے بیان کو محض مخالفانہ انداز میں لینا درست نہیں بلکہ اس مخالفت کے پس پردہ اگر دیکھا جائے تو یہاں بھی فرقہ وارانہ تنظیموں کی دشمنی اور مخالفت کے با وجود ان کی حمایت اور ان پر پردہ ڈالنے کی سعی جھا نکتی نظر آتی ہے ۔فرقہ وارانہ تنظیموں اوران کی سرگرمیوں کے حوالے سے من حیث المجموع رائے قائم کرنا شاید ہی ممکن ہے کیونکہ صائب الرائے عناصر بھی کسی نہ کسی مکتبہ فکر سے متاثر ہ ہوتے ہیں اور یوں غیر جانبداری سے رائے قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے یا پھر غیر جانبداری جان بوجھ کر خیال نہیں رکھا جاتا۔ ہمارے تئیں فرقہ وارانہ تنظیموں کی موجودگی پاکستا ن میں ہونے کے باوجود ان کو ملکی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان عناصر کے قلا بے انداز فکر ہی کے نا تے سے نہیں بلکہ ان کو ایندھن بھی باہر ہی سے ملتا ہے۔ باہم لڑائی کا وطن عزیز پاکستان کو مرکز بنانے والے بھی ہمارے معاملات میں دخیل اور ملک میں قیام امن و استحکام امن میں خلل میں بھی ان کا حصہ ہے۔ فرقہ وارانہ تنظیموں میں ایسے عناصر کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اغیار کے آلہ کار ضرور ہوں گے مگر ان کا مقصد اور ہد ف مخالف فرقہ اور اس کے افراد ہی ہوں گے مگر ایسے عناصر کی بھی موجو د گی سے انکار ممکن نہیں کہ جو فرقہ واریت کے علاوہ دشمن کے ہاتھوں کھیلنے اور ان کی تائید و حمایت اور ایندھن لیکر آلہ کار بن کر دوہرے مسائل کا باعث ہیں ۔تیسرے درجے میں پھر محولہ ہر دو قسم کے عناصر ایک مرتبہ پھر ایک ہی قطار میں شمار ہوں گے اس لئے کہ یہ عناصر درپردہ اور کئی خفیہ ہاتھوں درہاتھوں جانے انجانے میں وطن عزیز کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں جن کا مقصدپاکستان کی تعمیر و ترقی کو روکنا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہو تا ہے اور وہ مسلسل اس سعی میں مصروف ہیں ۔ بنا بریں ملک میںانتشار بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی مساعی میں ملوث ہر فرد تنظیم اور گروہ دشمنوں ہی کی نمائندگی کا مرتکب قرار پاتا ہے جن کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت کارروائی سے گریز نہیں کیا جانا چاہیے مگر شاید اس طرح سے تو عدم استحکام آئے گا ان عناصر کے خلاف کھل کر کارروائی میں مصلحت آڑے آئی ہے لہٰذا بہتر ہوگا کہ ان عناصر کو ہتھیار اٹھانے والے اور براہ راست خون ریزی کرنے والے جھتے اور ان کے سر پر ستوں اور ان تنظیموں کی عسکری کارروائیوں سے ہٹ کر قیادت میں تفریق کر کے اول الذکر کے خلاف طاقت کا استعمال اور موخرالذکر سے معاملت کی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے جس کا وزیر داخلہ نے بھی اشارہ دیا ہے اور تنقید کی زد میں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ہمیں حساس معاملات پر تضاد ات کا شکار ہونے اور مفادات و مصلحتوں کااسیر بننے کی بجائے قومی مفاد میں بالکل اس طرح اتحاد و یکجہتی کے ساتھ راست اقدام کا فیصلہ کرنے اور اس پر تمام مصلحتوں سے بالا تر ہو کر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح طالبان کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کامیاب اور عملی راست اقدامات کئے گئے جن کی کامیابی سے ملک کا امن بحال ہوا۔ اگر استحکام امن مقصود ہے تو فرقہ وارانہ تنظیموں سے بھی اسی طرح نمٹنا ہوگا جس طرح طالبان سے مذاکرات اور مصلحت کی مساعی کی گئیں فرقہ وارانہ تنظیموں سے ان سے بڑھ کر مصالحت اور معاملات طے کرنے کی سعی کی جائے اور رواداری کی فضا ء اختیار کی جائے۔ بصورت دیگر طاقت کا بلا امتیازرا ستہ اختیار کرنا مجبوری ہوگی ۔

متعلقہ خبریں