Daily Mashriq


نوشتہ دیوار کی مخبری کی کیا ضرورت ؟

نوشتہ دیوار کی مخبری کی کیا ضرورت ؟

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی سے قانون سازی کے چار ماہ بعد کرپشن کی نشاندہی کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کمیشن کے قیام میں ناکامی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ہمارے تئیں حکومت کو بد عنوانی کے اطلاع دہند گان کے تحفظ اور ترغیب دونوں کا اہتمام ضرور کرنا چاہیئے لیکن یہ بد عنوان افراد کا بھانڈا پھوڑنے کا کافی حربہ نہ ہوگا اور کئی وجو ہات کی بنا ء پر اس کی کامیابی پر بھی سوال اٹھتا ہے ۔ بد عنوانی کا کھوج لگانے کے لئے قانون سازی اور کمیشن کے قیام کی ضرورت و افادیت اپنی جگہ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو اس تکلف کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے اقدامات ایسے معاشرے کی ضرورت ہوتے ہیں جہاں خفیہ اور غیر محسوس طریقے سے کرپشن کی جاتی ہو ۔ وطن عزیز میںکھلم کھلا کرپشن کسی سے پوشیدہ امر نہیں بلکہ بد عنوان عناصر بد عنوانی کو چوری سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات وہ اس پر فخر کرتے بھی نظر آتے ہیں جیسا یہ مر دانگی کا کوئی کام ہو۔ ایسے معاشرے میںدیگر اقدامات پر وقت ضائع کرنے کی بجائے شہرت کے حامل بد عنوان عنا صر کے خلاف براہ راست اقدام ہونا چاہیئے ۔ بد عنوان عناصر کاکھوج لگانا اس لئے بھی مشکل نہیں ہونا چاہیئے کہ مختلف محکموں کے اوسط درجے کے اہلکار اس قدر پر تعیش زندگی اختیار کئے ہوتے ہیں وہ مال حرام لٹانے اور نمو د و نمائش کا اس قدر شوق رکھتے ہیں کہ انہیں دیکھ کرہی بے اختیار مال مفت دل بیر حم کا محاورہ زبان پر آجا تا ہے اس طرح کے عناصر کا کھوج لگانے اور ان کی منجری کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے۔ کیا حکومت کے پاس اس طرح کے عناصر کے خلاف راست اقدام کا کوئی طریقہ موجود نہیں اس طرح کے عناصر ہی کے باعث معاشرے میں رشوت و بد عنوانی کو فروغ مل رہا ہے۔ حکومت اگر اپنے متعلقہ محکموں کے ذریعے بد عنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرنا چاہے تو انہیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ علاوہ ازیں محکمہ جاتی آڈٹ اور خصوصی آڈٹ سے بد عنوانی کے واقعات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ۔صرف بد عنوانی کے مقدمات کا سراغ لگانا بھی کافی نہیں بلکہ راشی اور بد عنوان عناصر کے خلاف مکمل تحقیقات اور عدالتوں سے ان کو سزا دلوانا ہی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے جس پر اکثر وبیشتر توجہ نہیں دی جاتی ۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ سرکاری محکموں کے معروف راشی افراد پر ہاتھ ڈالے تاکہ ان سے تحقیقا ت کے نتیجے میں افسران بالا کے ملوث ہونے کے شواہد اور ثبوت خود بخود سامنے آئیں جن کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے ۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی معائنہ ٹیموں کی رپورٹس پر سنجید گی سے کارروائی ہو تو صوبے میں کرپٹ عناصر میںخود بخود ہلچل مچ جائے گی اور عوام کو حکومتی اقدامات پر یقین بھی آئے گا اور وہ اس پر اعتماد بھی کرنے لگیں گے ۔

بلاوجہ کے فیصلے

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبوں کے ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے کا معقول انتظام کر کے مریضوں کو ریفر ہونے کی مشکل سے بچانے کی بجائے ریفر کرنے پر پابندی عائد کر کے مریضوں کے علاج معالجے میں آسانی لانے کی بجائے اس میں رکاوٹ بن جانا حیران کن امر ہے ۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر وں کی جانب سے مریضوں کو بلا وجہ ریفر کرنے کے اقدامات سے یکسرا نکار ممکن نہیں لیکن من حیث المجمو ع ایسا قرار دینا درست نہیں کوئی بھی ڈاکٹر کسی مریض کو اس وقت ہی دوسرے ہسپتال بھیجے گا جب مریض کے مرض کی نوعیت اس امر کی متقاضی ہو یاپھر اس ہسپتال میں مریض کے علاج معالجہ کی سہولت موجود نہ ہو یہ دونوں صور ت بلا وجہ نہیں کسی اور صورت میں ڈاکٹروں سے کم ہی اس امر کی توقع ہے کہ وہ خواہ مخواہ ایک مریض کو سہولت دینے کی بجائے اس کے لئے زحمت کا سامان کریں ۔ محکمہ صحت کو ان وجوہات اور اسباب وعلل کا جائزہ لینے اور ان مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو مشکلا ت کا باعث بنتے ہیں۔ ریفر کرنے پر پابندی سے مریضوں کی مشکلات و تکا لیف میں اضافہ ہوگا بلاوجہ ریفر کرنے کی تعریف و تشریح کو ن کرے گا اور اس کا تعین کیسے ہوگا کہ کس مریض کو متعلقہ ڈاکٹر نے درست ریفر کیا ہے اور کس مریض کو غلط طور پر بھجوایا گیا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ محکمہ صحت کے حکام اس طرح کے غیر ضروری اقدامات پر وقت ضائع کرنے کی بجائے ہسپتالوں اور شفا خانوں کا انتظام درست کرنے پر توجہ دیں ۔ وہاں سے ڈاکٹروں اور متعلقہ طبی عملے کی تعیناتی و موجود گی یقینی بنائی جائے۔ ادویات اور تشخیصی سہولیات کی موجود گی یقینی بنائی جائے تاکہ مریض اس اعتماد کے ساتھ ہسپتال جائیں کہ وہاں پر ان کا علاج ممکن ہوگا اور ڈاکٹروں کو بھی خود کو تہی دست پا کر مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں کو بھجوا نے کی خجالت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔توقع کی جانی چاہیئے کہ محکمہ صحت کے حکام ڈنگ ٹپائوقسم کے اجلاسوں اور مشاورت کی بجائے مریضوں کے مسائل اور مشکلات کے حل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کاو تیرہ اختیار کرینگے اور عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے بہتر نظام وضع ہوگا ۔

متعلقہ خبریں