Daily Mashriq


کیا فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہی؟

کیا فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہی؟

فوجی عدالتوں کے تسلسل یا احیاء کے بارے میں اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کی سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے حوالے سے یہ توقع پوری نہ ہوسکی کہ سپیکر ایاز صادق اپوزیشن لیڈروں کو اس بات پر قائل کر لیں گے کہ ملک میں امن وامان کی صورت حال اب بھی ویسی ہے یا اس کے قریب ہے جیسی دو سال پہلے تھی۔ جب دہشت گردی کے سویلین ملزموں کے مقدموں کی سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ اور اس وجہ سے فوجی عدالتیں ضروری تھیں۔ فوجی عدالتوںکا قیام ایک آئینی ترمیم کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا کیونکہ آئین میں فوجی عدالتوں کی گنجائش نہیںہے۔ حالات کی سنگینی کے پیش ِ نظر ماورائے آئین اقدام کی اجازت محض دو سال کے لیے پارلیمنٹ نے دی تھی۔ توقع یہ تھی کہ اس دو سال کے عرصے میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوںکے اتفاقِ رائے سے جو نیشنل ایکشن پلان منظور کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد ہو جائے گا۔ اور اس کے نتیجے میں وہ ہنگامی صورت حال نہیں رہے گی جس میں فوجی عدالتوں کو ضروری سمجھا جائے۔ نیشنل ایکشن پروگرام اہداف پر مشتمل ایک پروگرام ہے جس کے چیدہ چیدہ نکات قارئین کو یقینا یاد ہوں گے لہٰذا انہیں یہاں دہرانا مناسب نہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے فوج کی طرف سے یہ شکایت میڈیا میں نظر آئی تھی کہ سویلین حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنی ذمہ داریاں کماحقہ پوری نہیںکیں۔ اس پر بہت اظہارِ برہمی کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ادارے اپنے اپنے دائرہ کار تک اپنے آپ کو محدود رکھیں۔ 

7جنوری کو فوجی عدالتوں کی دو سال کی مدت ختم ہو گئی۔ اسکے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں اہم وفاقی وزراء اور نئے سپہ سالار جنرل باجوہ اور ان کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے بھی شرکت کی۔ بتایا گیا کہ اس اجلاس میں فوجی عدالتوں کے احیاء پر اتفاقِ رائے سامنے آیا۔ حکومت کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کو قائل کریں کہ ایک بار پھر آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کا تسلسل ضروری ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ حکومت بھی خود چند روز پہلے تک فوجی عدالتوں کے احیاء یا تسلسل کی قائل نہ تھی ۔ حکمران مسلم لیگ کے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ فوجی عدالتوں کی کارکردگی بھی کچھ اچھی نہیںرہی تھی۔ اور پھر اگلے ہی روز انہوںنے یہ بیان واپس لے لیا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ رانا ثناء اللہ لاعلم ہیں۔ اگر حکومت فوجی عدالتوں کے تسلسل کی قائل ہوتی تو 7جنوری سے پہلے ہی دو سال کی مدت میں توسیع کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی۔ یہ کام یکایک سپیکر ایاز صادق کے سپرد نہ کیاجاتا جنہوں نے ایک دن کے نوٹس پر اپوزیشن کے رہنماؤں کو اس حوالے سے مشاورت کی دعوت دی۔ نہ انہوںنے سیاسی جماعتوں کو اپنے ارکان سے مشاورت کا موقع دیا اور نہ ایک دوسرے سے باہمی مشورے کا۔ یہ طریقہ وہ بہتر ماحول پیدا کرنے کا نہیں تھا جس میں اپوزیشن پارٹیوں کی رضامندی حاصل کرنے میں آسانی ہوتی۔ اس رویہ سے لگتا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کی طرف سے ماورائے آئین خصوصی عدالتی نظام کے تسلسل کی تجویز اعتراف ہے کہ ملک میں وہ خصوصی حالات اب بھی موجود ہیں جو دو سال پہلے ملکی سلامتی کو دہشت گردی کے باعث تھے۔جن کے تدارک کے لیے نہ صرف عارضی اقدام کے طور پر فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری پارلیمنٹ سے لی گئی تھی بلکہ پارلیمنٹ میں نمائندگی کی حامل تمام سیاسی جماعتوں نے بیس نکاتی ایکشن پلان کی منظوری بھی دی تھی۔ ایکشن پلان میں کچھ کام فو ج کے کرنے کے تھے اور کچھ سویلین حکومت کے ذمہ داری تھے ۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ فوج کی طرف سے یہ شکایت آئی تھی کہ سویلین حکومت یہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ توقع تھی کہ سپیکر ایاز صادق اپوزیشن جماعتوں کو مشاورت کی دعوت دینے سے پہلے انہیں نیشنل ایکشن پلان پر عملد رآمد ' فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی ضرورت کے حوالے سے کوئی بریف تیار کر چکے ہوں گے۔ لیکن مشاورتی اجلاس میں اپوزیشن کی اہم جماعتوں نے جو سوال اٹھائے ان کے تسلی بخش جوابات نہ دیے جا سکے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ اس مشاورتی اجلاس سے پہلے ہی پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں سے رابطے کیے جاتے۔ لیکن مشاورتی اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام ف اور خیبر پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا انتخاب کیا۔ آخر طے پایا کہ 17جنوری کو ایک بار پھر مشاورت کے لیے ملاقات ہو گی جس میں حکمران مسلم لیگ اپنے موقف کی وضاحت کرے گی کہ فوجی عدالتوں کو برقرار رکھنا کیوں ضروری ہے۔ اور اپوزیشن جماعتیں اپنی قیادت کے ساتھ مشاور ت کے بعد اپنا موقف بیان کریں گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مؤقف کم و بیش آ چکا ہے۔ اس میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے سوالات اہم ہیں جن کا جواب حکومت کی طرف سے پیش کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت اورآئین سے تعلق رکھنے والے اس معاملے پر خود سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں اور حکومت کی طرف سے یہ اعلان کیا جائے کہ فوجی عدالتوں کے تسلسل کے لیے جو دو سال کی مزید مدت طلب کی جا رہی ہے اس کے دوران حکومت ان تمام تقاضوں کو پوری طرح کب پورا کرے گی جن کے پورے ہونے سے ملک میں فوجی عدالتوں کی ضرورت نہ رہے۔ یعنی نظام عدل میں کب اصلاحات نافذ کی جائیں گی اور نیشنل ایکشن پلان پر کب تک مکمل عمل درآمد ہو جائے گا۔ پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی قائم کر دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں