Daily Mashriq


'' دیگر'' زبانوں کی گنتی

'' دیگر'' زبانوں کی گنتی

ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جس میں ہر حوالے سے اکثریت کو ہی ترجیح دی جاتی ہے جبکہ اقلیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ریاست اپنی نااہلی یا کسی ایجنڈے کے تحت ملک کی اقلیتوں کو نظر انداز کرنا شروع کردے تو اس کے تباہ کُن نتائج سامنے آتے ہیں۔ ' ہینڈ بُک آف ہائوسنگ اینڈ پاپولیشن سینس پاکستان 1998ئ' پڑھ کر مجھے معلوم ہوا کہ مردم شماری میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعدا د کو 'دیگر' کے خانے میں رکھا گیا ہے۔ 1998ء میں ہونے والی آخری مردم شماری میں ملک کی صرف چھ زبانوں کو مقامی زبانوں کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ باقی 67 زبانوں کو 'دیگر' شمار کیا گیا ہے۔ جن 6 زبانوں کو مقامی یا قومی زبانیں کہا گیا ہے ان میں اُردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی شامل ہیں ۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ملک میں 'دیگر' زبانیں بولنے والوں کی شرح 4.7 فیصد ہے جس میں سے 0.9 فیصد پنجاب، 20.4 فیصد این ڈبلیو ایف پی (ا ب خیبر پختونخوا)، 4.2 فیصد بلوچستان ، 4.9 فیصد سندھ، 0.5 فیصد فاٹا اور 7 فیصد اسلام آباد میں بستے ہیں۔ یہاں پر یہ بات دلچسپی کا باعث ہے کہ 1981ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی کا 8.5 فیصد' دیگر ' زبانوں کی کٹیگری میں شامل تھا جس میں سے 0.6 فیصد پنجاب، 25.7 فیصد این ڈبلیو ایف پی، 23.6 فیصد بلوچستان، 7.4 فیصد سندھ، 0.1 فیصد فاٹا اور 2.4 فیصد اسلام آباد کے رہائشی تھے۔ اس ڈیٹا بیس میں گلگت۔بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔اگر ہم ان دو مردم شماریوں کے اعداد وشمار کا موازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ 1981ء سے 1998ء کے درمیان پاکستان کے لسانی تنوع میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فاٹا اور اسلام آباد کے علاوہ تمام صوبوں میں لسانی تنوع میں کمی آئی ہے۔ اسلام آباد میں 'دیگر' زبانیں بولنے والوں کی آبادی میں اضافے سے کیا یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 'دیگر' زبانیں بولنے والے پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں ؟ اسلام آباد کی سخت اور مسابقتی زندگی کو دیکھا جائے تو 'دیگر' کی کٹیگری میں شامل زیادہ تر افراداس شہرِ اقتدار میں مستقل رہائش اختیار نہیں کرسکتے۔ اس لئے دونوں مردم شماریوں میں سامنے آنے والے رجحان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان مردم شماریوں میں اعدادوشمار کو جمع کرنے کے نظام میں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ دنیا کی واحد آن لائن لسانی ڈیٹا بیس، ایتھنولاگ، کے مطابق پاکستان میں اس وقت 73 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 65 مقامی جبکہ 8 غیر مقامی ہیں۔ ایتھنو لاگ ان زبانوں کو ان کے استعمال کے حوالے سے مختلف اقسام میں تقسیم کرتی ہے۔ ان 73 زبانوں میں سے 6 زبانیں ادارتی ہیں یعنی ان زبانوں کا تعلیم یا ذرائع ابلاغ میں کسی نہ کسی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب 18 زبانیں ترقی پذیر اور 39 زبانیں ناپید ہونے کے خطرے کا بھر پور طریقے سے مقابلہ کررہی ہیں ۔اس آن لائن ڈیٹا بیس کے مطابق 8 زبانیں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں جن میں سے 2 زبانیں ایسی ہیں جن کا استعمال آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ان اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں 65 زبانیں ایسی ہیں جن کو لکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لیکن ان زبانوں کے بولنے والے ان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جب بھی پاکستان میں لسانیات کاکوئی محقق ان زبانوں کو بولنے والوں کی حقیقی تعداد کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 'دیگر' کی کٹیگری میں آنے والے افراد کی تعداد اندازوں تک محدود ہے۔ دوسری جانب ایسے اندازوں کی وجہ سے اکثریتی اور اقلیتی لسانی گروہوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں یہ کہوں کہ میری تحقیق کے مطابق سوات میں ایسے لوگوں کی شرح کل آبادی کا 25 فیصد ہے جو پشتو نہیں بولتے تو بہت سے لوگ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔ اس کے جواب میں وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق مذکورہ شرح صرف 6.5 فیصد ہے۔1998ء کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخواکے ضلع چترال کی صرف 3.8 فیصد آبادی ایسی ہے جس کی مادری زبان پشتو ہے جبکہ 96.2 فیصد آبادی کی مادری زبان چترالی یا دیگر مقامی زبانیں ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مردم شماری کے اعداوشمار جمع کرنے والے سوالنامے میںچترالی کا خانہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک ضلع کی 96 فیصد سے زائد آبادی کو 'دیگر' کے خانے میں رکھا گیا ہے۔مردم شماری کے سوالنامے میں چھ زبانوں کے علاوہ باقی زبانوں کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں صرف ان لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے جن سے سیاسی مفادات وابستہ ہوتے ہیں جبکہ باقی پاکستانیوں کو 'دیگر' کے زمرے میں رکھ کر دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اس 'دیگر پن' کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بہار 2017ء میں ہونے والی مردم شماری میں سوالنامہ بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ اس سوالنامے کے ذریعے جمع ہونے والے اعدادوشمار پاکستان میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد کی درست تعداد کو سامنے لائیں۔'دیگر' میں شامل کچھ لوگ ایسے ہیں جو شہروں میں پھیل کر رہتے ہیں جبکہ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کسی خاص علاقے میں رہائش پذیر ہیں جس کی وجہ سے ان افراد کے اعدادوشمار حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیںہے۔(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں