Daily Mashriq


جو آئے آئے کہ ہم دل کشا دہ رکھتے ہیں

جو آئے آئے کہ ہم دل کشا دہ رکھتے ہیں

ہم پاکستانی بھی کیا عالی ظرف قوم واقع ہوئے ہیں ہمارا صبر وشکر بے مثال ہے ۔ جو آئے آئے کہ ہم دل کشا دہ رکھتے ہیں کے مجسم شاہکار ، بن چکے ہیں ۔جب کوئی آمر جمہوریت کا گلا گھونٹ کر قائد انقلاب اور نجات دہندہ بن کر خروج کرتا ہے میٹھی دیگیں پکا نے لگتے ہیں خوشی سے نہال ہو کر گلی کو چوں میں بھنگڑے ، لڈی ، اتنڑ اور خٹک ڈانس ہوتا ہے ، ایک دوسرے کے منہ میں لڈو اور گلاب جامن ٹھو نستے ہیں جب آمریت کچھ عرصہ تک ہمارا ٹینٹو ا دبائے رکھتی ہے یا پھر قوم کو آمریت کے برداشت کی مزید تاب نہیں رہتی تو پھرملک کے گوشوں سے جمہوریت کی بحالی کے لئے کچھ منمتا نی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں چونکہ آمریت کے پاس بھی قوم کو ہانکنے کا مزید کوئی جواز باقی نہیں رہتا ۔ آمر کی تر کش کے تیر ختم ہو جاتے ہیںتو وہ خاموشی کے ساتھ اقتدار کو جمہوریت کا لبادہ پہنا کرپورے پروٹوکول کے ساتھ ر خصتہو جاتا ہے ۔ اور ہم جو پہلے آمریت کی آمد پر بغلیں بجا تے ہوئے گلی کوچوں میں رقص کرتے ہوئے نکل پڑے تھے ۔ ایک بار پھر وہی لڈیا ں بھنگڑے کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔گزشتہ ستر سال سے یہی ڈرامہ بار بار دہرایا جارہا ہے ۔ ہر ڈرامے کے آغاز میںپیشکار کے بلند بانگ دعوے اور قوم کو سبز باغ دکھانے کے وعیدوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ قوم کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں ، جمہوریت کے داعیوں کو اُن کے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد یاد دلایا جاتا ہے کہ بھئی وہ جو تم نے کچھ ماہ میں ملک سے تاریکیاں ختم کرنے کے دعوے کئے تھے مینار پاکستان کے سائے تلے تمبو لگا کر بیٹھے تھے اس اجتماع کا کیا بنا ؟ اور وہ جو تم نے اپنے منشور میں اقتدار میں آنے پر قوم کی قسمت بدلنے کے وعدے کئے تھے اُن کو نبھا نے کا وقت کب آئے گا ۔ بڑی ڈھٹائی سے جواب ملتاہے منشور کوحرف آخرنہ سمجھو ، یہ تو صرف انتخابات میں کامیابی کے حصول کا ایک حربہ ہے ۔ انتخابی جلسوں میں اعلانات دکھا وے کے لئے ہوتے ہیں ۔ پاکستان کی عالی ظرف اور صابر شاکر قوم اُن کو اسی لبادے میں مسلسل برداشت کرتی ہے اور صرف نام کے یہ قومی رہنما مسند اقتدار پر قابض ہونے کے بعد آئندہ انتخابات میں کامیا بی کے لئے جھوٹے نعروں اور بے بنیا د وعدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ۔ ہم پاکستانی قوم اپنے ہی خون سے غسل صحت کی امید رکھنے کے عادی ہو چکے ہیں ہم بے حسی کی اُن حدود میں داخل ہو چکے ہیں جہاںبہر صورت ،ہر اذیت میں ہمیں زندہ رہنے کی عادت پڑ چکی ہے ، گرمیوں میں اگر بجلی نہیں تو بھی کوئی پروانہیں کرتے کہ تاریکیوں سے ہمارا سمجھو تا ہو چکاہے اور ہمارا مسند اقتدار پر براجمان لوگوں کے جھوٹے وعدوں پر ایمان کی حد تک یقین پختہ ہو چکا ہے وہ اگر 2013میں انتخابی مہم کے دوران کچھ ماہ میں تاریکیوں کے خاتمے کا دعویٰ کریں تو ہم اُسے دل و جان سے مان لیتے ہیں اور جب 2018تک خاتمے کاوعد ہ کیا جاتا ہے ۔ ہمیں اس پر بھی یقین آجاتا ہے ۔ سردیوں میں گیس کے غائب ہونے پر کہا جاتا ہے کہ 2018ء تک یہ بحران ختم ہو جائیگا ۔ یقین کرنا پڑتا ہے کہ جھوٹے وعدوں پر یقین کے ہم عادی ہو چکے ہیں ، لاہور کے کسی مضافاتی گائوں سے آئی ہوئی جاں بلب مریضہ دو ہسپتالوں سے دھتکا رے جانے کے بعد کسی تیسرے ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تڑپ تڑپ کرمرجاتی ہے تو اس سانحے میںکسی سیاسی لیڈر کا مذمتی بیان نہیں آتا ، پاناما کیس میں عدالتی پیشیوں سے ہی فارغ نہیں تو اس نوع کے اہم مسئلے پر کیا کہیں ۔ ہماری صابر و شاکر قوم کو بھی روزانہ اس قسم کے سانحات کا سامنا ہوتا رہتا ہے سول سو سائٹی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوتا ۔ انسانی حقوق کے کسی علمبر دار کا کوئی احتجاجی بیان سامنے نہیں آتا ۔ دو ایک روز تک اخبارات میں خبر یں لگتی ہیں ، ٹی وی چینلزپر و قوعے کوپیش کیا جاتا ہے اور پھر آئندہ کسی اس قسم کے سانحے کے انتظار میں سب کچھ بھلا یا دیا جاتا ہے۔ ہم نے اس المناک سانحے پر اپنی ایک گزشتہ تحریر میں پیش گوئی کی تھی کہ تم دیکھنااگر اس سانحے پر احتجاج میں شدت پیدا ہونے کا شبہ ہو جائے تو وزیر اعلیٰ پیش بندی کے طور پر مرحومہ کے لواحقین کے گھر پہنچنے میں دیر نہیں کرینگے وہ لواحقین میں سے کسی ایک کے سر پر ہاتھ رکھ کر امدا دی چیک بھی اُنہیں پیش کرینگے۔ ہمیں ضرور داد دیں ،کہ اس پیش گوئی کی پوری ہونے میں ہم سپیر ہ زبرگ ثابت ہوئے ۔

وہ مریضہ جو جناح ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تڑپ تڑپ کر مر گئی تھی ۔ ابھی کل ہی وزیر اعلیٰ کو اُسکے پسما ند گان کے درمیان بیٹھے ہوئے دکھا یا گیا ۔ اس موقع پر اُنہوں نے مرحومہ کے لواحقین کو پچاس لاکھ کا چیک بھی پیش کیا اور اس طرح خاک نشین کے خون کا حساب بے باک کر دیا گیا ۔ ہم جس صابر و شاکرقوم سے سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے خون کا حساب اسی طرح سونے کے ترازومیں تول کر بے باک کیا جاتا ہے قوم منتظر ہے کہ معصوم طیبہ جس کا تشدد زدہ چہرہ ہمارا قومی نشان بن چکا ہے اس پر ظلم ڈھنانے والوں کو کیا سزا ملتی ہے ویسے ہم پاکستانی بہت ہی عالی ظرف اور صابر و شاکر قوم ہیں ،کسی بھی تشدد میں کسی بھی ظلم اور کسی بھی نا انصافی کی برداشت ہماری نفسیاتی ضرورت بن چکی ہے کہ اس میں ہمارے زندہ رہنے کا راز پوشیدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں