Daily Mashriq


خالص دودھ کی تلاش

خالص دودھ کی تلاش

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دودھ میں بڑی شفا ہے ،طاقت ہے ۔لیکن آج کے دور میں دودھ ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔بازار میں تین طرح کے دودھ ملتے ہیں ایک گتے کے پیکٹ میں ہردکان پر میسر ہے ۔دوسرا پنجاب سے ٹینکروں میں بھرکرسپلائی کیا ہوا دودھ ہے اور تیسرا لوکل ڈیری فارموں سے حاصل کیا گیا دودھ ہے ۔ لیکن تینوں قسموں کے بارے میں اداروں کی رائے ٹھیک نہیں کہ اس میں ڈٹرجنٹ اور دوسرے کیمیکل ملا کرانہیں ''دیرپا''بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ لوکل فارم والے بھینسوں سے دودھ کا قطرہ قطرہ نکالنے کے لیے اسے وہ انجکشن لگاتے ہیں کہ جو خواتین کو زچگی کے دوران دیے جاتے ہیں ۔ اب بندہ کرے تو کیا کرے اور جائے تو کہاں جائے ۔ ہمارے ایک مرحوم عزیزنے بتایا تھا کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں و ہ پشاور کے ریتی بازار سے اکثر صبح سویرے اپنے والد کے ساتھ پجگی روڈ پر واقع اپنے کھیتوں پر جایا کرتے تھے تو اکثر فردوس سینما کے پاس سڑک پر زمین پردودھ گرا ہوا ملتا ۔ان کے والد صاحب نے انہیں بتا یا کہ یہاں صبح سویرے مجسٹریٹ صاحب مختلف دیہات سے آنے والے دودھ کا معائنہ کرتے تھے اور جس دودھ میں پانی ہوتا اس دودھ کو سزا کے طور پر زمین پر گرا دیا جاتا ۔یعنی آج سے پچاس برس قبل ہم اچھے خاصے مہذب تھے ۔ حالانکہ اس زمانے کے افسروں کی نہ تو آج کے افسروں جیسی تنخواہیں تھیں نہ ہی مراعات اور نہ ہی ان کے دفتر اتنے شاندار تھے اور نہ ہی ان کے پاس نئی نویلی گاڑیاں تھیں ۔ فرض شناسی ہی ایک حوالہ تھا کہ جو ان کو میسر تھا تبھی ان کی بدولت شہریوں کو خالص دودھ پینے کو مل جایا کرتا تھا۔اب بھی حکومتی اداروں نے اپنا کام تو کردیا ہے کہ عوام کو زہر پلانے والوں کو بے نقاب کرنے کی اپنی سی کوشش کردی ہے لیکن اس پر حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی چہ معنی دارد؟کوئی کارروائی ابھی تک نہیں ہوئی ۔ نہ ہی ان ڈبہ بند دودھ بیچنے والوں کے خلاف کچھ کیا گیا نہ ہی پنجاب سے ''پائیدار ''دودھ لانے والوں کے دودھ کو چیک کیا گیا اور نہ ہی ان ٹیکوں کی خبر گیری کی گئی ۔اگر عوام نے مرچوں میں اینٹ کا چورا، چائے میں سکھائے ہوئے خون اور چنے کے چھلکے ،دودھ میں ڈٹرجنٹ اور دوسری ملاوٹ شدہ چیزیں ہی اپنے حلق سے اتارنی ہیں تو پھر اتنے زیادہ اداروں کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ بھلے سے ان کے افسروں کو تنخواہیں دے کر گھروں میں بٹھا لو کم از کم ان کے دفترو ں میں استعمال ہونے والی بجلی ،گیس اور ان کی گاڑیوں میں بھرے جانے والے تیل کا خرچہ تونہ ہوگا ناں باقی انسان کی صحت ،موت اور زندگی تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور یوں بھی متعفن فضا میں لمبی لمبی سانسیں کھینچنے والے ہم لوگوں کا امیون سسٹم اتنا مضبوط ہوچکا ہے یہ چھوٹی چھوٹی ملاوٹیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ظالم ہمیں مردار اور حرام جانوروں کا گوشت تک کھلادیتے ہیں ۔افسوس کہ کوئی پالیسی نہیں بنائی جاتی ۔کسی کو سزا نہیں ملی ۔لوگ حرام حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا سمجھ ہی نہیں سکے ۔ورنہ کیا مشکل ہے سمجھنا ۔ اللہ کی کتاب اور نبیۖ کی سنت تک رسائی دو ہاتھ ہی تو دور ہے ۔ ہم عوام بھی تو لاجواب لوگ ہیں ۔سب خبریں پڑھ لینے کے باوجود ہم وہی ڈبے والا دودھ دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں ۔ پنجاب سے آیا دودھ شاپروں میں انڈیلا جارہا ہے اور گاہکوں کو بیچا جارہا ہے ۔ انجکشن کے زور پر نکالا ہوا دودھ لے کر صاحب خوش ہیں کہ خالص دودھ گھر لیجارہے ہیں ۔ غیر معیاری دودھ کے کاٹنوں سے بھرے ہوئے ٹرک ایک شہر سے دوسرے شہر تک لائے اور لیجائے جارہے ہیں ۔کوئی پوچھنے والا ،کوئی روکنے والا نہیں ۔ روکے بھی کوئی کیسے کہ ادارے تو باندیاں ہیں ان کی جو منصب اقتدار کے ایوانوں کے نزدیک تر ہیں ۔ غریب کے لیے قانون بھی ہے سزا بھی لیکن مالداروں کے لیے سزائیں کو ن تجویز کرے کہ جب سماج منافقتوں کی زد میں ہو۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں تو بین الاقوامی قوانین کی آڑ میں خوب کھل کھیل سکتی ہیں ۔ کون ان پر ہاتھ ڈالے اور وہ بھی ہمارے جیسے غریب ملک میں ۔ امریکہ میں ایک بہت بڑی کاریںبنانے والی کمپنی نے ایک غلط بیانی کے پکڑ ے جانے پر اربوں روپے کے ہرجانے کا اعلان کردیا ہے کہ وہاں دونمبری نہیں چلتی ۔ یہ دونمبریاں ہمارے نصیب میں لکھ دی گئی ہیں ۔ صفائی ہمارے ہاں نہیں ، ایک نمبر چیز ہمارے یہاں میسر نہیں ، کھانے پینے کی اشیاء غیر معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں سے کوسوں دور ،پھر بھی ہم زندہ ہیں بے شک یہ اللہ کی مہربانی ہے ورنہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی کوتاہی اور بے توجہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ سوال تو یہ ہے کہ اسرائیل یا امریکہ ہمارے ملک میں آکر ہماری غذاؤں میں ملاوٹ تو نہیں کررہا ۔ہمارا ہی کوئی بھائی بند ملاوٹ کررہا ہے ،ہمارا ہی کوئی بھائی افسر مجاز ہونے کے ناطے اپنی بوجوہ آنکھیں بندکیے سلسلہ کو چلنے دے رہا ہے ۔ گویا ہم ہی اس سارے دھندے میں شامل ہیں ۔ بس چند بیانات ہی ہمارا مداوا ہیں ۔ہوتا کسی خبر کے بعدچند بیانات داغ دیے جاتے ہیں کہ یہ کردیں گے ، وہ کردیں گے ۔ یوں ہوجائے گا ویسا ہوجائے گا ۔ہوتا ووتا کچھ نہیں ہم اورہمارے بچے زہر پی رہے ہیں اور وقت گزررہا ہے ۔ اب ہر کوئی تو خالص دودھ کے حصول کے لیے گائے بھینس ،گائے نہیں رکھ سکتا اور بکری پالنا تو اور مشکل کہ '' غم نہ داری بزبَخر''کے مصداق ممکن ہی نہیں کہ آج کون ہے کہ جس کے غم نہیں سو کوئی مزید غموں کی جستجو کے لیے بکری خریدنے سے مانع ہے ۔ سو اللہ پر توکل پر زندگی گزررہی ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی گزرتی ہی جائے گی۔

متعلقہ خبریں