Daily Mashriq


یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والے لوگ

یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والے لوگ

یہ سال کیسے گزر جاتے ہیں ۔خاموشی سے چپ چاپ ۔ بنا کوئی آہٹ کیے ، بنا آواز دیئے اور وہ گونج دار خوبصورت آوازیں جو اس وقت کی مٹی میں کہیں جا سوئی ہیں ، وہ ہمارے کانوں میں کیسے گونجتی ہی رہی ہیں ۔ کیسے لمحوں میں منقسم یہ وقت سالوں کے بستر بند لپیٹے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے ۔ میں کل تک اپنے دادا کی باتیں سن رہی تھی ، آج میرا بیٹا جوانی کی حدوں پر کھڑا ہے ۔ اسکے رویے میں موجود شرارت میں اس کے نانا کی جھلک دکھائی دیتی ہے وہ نانا جو اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ جنہیں ایک دوسری زندگی گزارتے پانچ سال ہوگئے ہیں ۔کیسے وقت ہمیں محدود سے لا محدود کر دیتا ہے ۔ میرے اپنے بچے جوان ہیں لیکن میں آج بھی ان تمام محبتوں کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں جو ہمارے بڑوں نے ہمارے ہاتھوں میں تھما ئی تھیں ۔ میں چاہوں تو آج بھی ہمک کر اپنے دادا کا ہاتھ تھام سکتی ہوں ، وہ جو بہت پیارسے قاضی حسین احمد کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ ان کا ہاتھ تھامتے تھامتے جانے کب ان کی یہ محبت میرے دل میں اتر گئی ۔ قاضی حسین احمد ہمارے لیے بڑے ہوگئے ، محترم ہو گئے ، آغا جی ہوگئے ۔ پھر میرے والد جن کی آواز آج بھی میرے وجو د کا حصہ ہے ، انہوں نے قاضی حسین احمد کی اس محبت کو ہمارے دل و دماغ پر مرتسم کیا ۔ تبھی تواپنے والد کی وفات پر ہم نے تمام فیصلے ان کے حوالے کر دیئے ۔ وہی ہمارے تھے ، ان کی کوئی تعریف کرتا ، جانے کیوں ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ایک عجب سی عقیدت اور محبت تھی ۔ مجھے یاد ہے ایک دن میں اپنی دادی سے فون پر بات کر رہی تھی ، میں نے قاضی صاحب کا حال چال بھی دریافت کیا ،کیونکہ میری دادی منصورہ میں ہی رہتی ہیں ، بیگم قاضی سے ،سمیعہ راحیل باجی سے ان کی ملاقات رہتی ہی تھی، انہوں نے بتایا کہ میں کل ہی قاضی صاحب کے گھر گئی تھی ۔ ان دنوں میں جناب منور حسن امیر جماعت تھے ۔ قاضی حسین احمد کے حوالے سے میں نے ایک کالم لکھا تھا ۔ دادی مجھے بتاتی رہیں کہ قاضی صاحب اس کالم کے بارے میں میری دادی سے خود بات کرنے آئے تھے ۔ انہوں نے جو باتیں کہیں وہ تو میری دادی اور میرے تک محدود ہیں لیکن اس دن میرا انس اور بھی بڑھ گیا ،تب میرے والد صاحب بھی حیات تھے میں نے ان سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ تمہاری باتیں تو بہت سے لوگوں کو بری لگی ہو ں گی لیکن لوگوں کے برا منانے سے سچ بولنا تو نہیں چھوڑا جا سکتا اور جماعت اسلامی کے لوگوں میں کم از کم اتنا ظر ف ہے کہ وہ سچ بات خواہ کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو ، برداشت کر لیتے ہیں ، میں بہت عرصہ اس بات پر کڑھتی رہی کہ قاضی حسین احمد کے اصل قد کو جماعت اسلامی نہ سمجھ پائی اور نہ ہی انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکی ۔ لیکن پھر اکثر بڑے قد کے لوگوں کو پہچاننے میں عام لوگوں سے غلطی ہی ہو جایا کرتی ہے ۔ 

آج جب قاضی صاحب کو ہم سے رخصت ہوئے چار سال ہو چکے ہیں میرے دل میں یہ کسک آج بھی باقی ہے ۔ وہ تو جہاں ہیں وہاں ان کے اس سے کہیں بڑے کام ہونگے ، اس دنیا کی کشمکش اور بے چینیا وہ اس دنیا میں پھینک گئے ہونگے لیکن ہم جیسے لوگ ، عام قد کے ، عام سے لوگ یہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے کہ سامنے دکھائی دینے والے اونچے لمبے دیو نما یہ لوگ ہمیں کیسے نظر نہیں آتے ہم کیسے ان سے فیض نہیں اٹھا لیتے ۔ ان کے جانے کے بعد کمی محسوس کرنے کا فائدہ بھی کیا ہوتا ہے ۔ اور جانے کیوں ہم اس اذیت میں مبتلا تو رہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے ایسے لوگ کھو دیئے لیکن ہمیں یہ اذیت پسند ہے ہمیں اس اذیت میںزندگی گزار دینا پسند ہے لیکن ہم ان لوگوں کو ضائع کرنے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے ۔ قاضی حسین احمد کی کیا شخصیت تھی ؟ کیا بصیرت تھی ؟اس وقت جس وقت جماعت اسلامی اپنے تشخص کے کشمکش میں مبتلا تھی ۔ اس وقت آئی جے آئی کے نام کی شناخت قاضی حسین احمد کی سیاسی بصیرت کا ہی نتیجہ تھی ۔ آج میں سوچتی ہوں کہ اگر قاضی حسین احمد موجود ہوتے تو اس ملک کا سیاسی منظر شاید کچھ مختلف ہو سکتا تھا ۔ وہ بڑے انہو نیوں کو جنم دینے والے تھے ۔ خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بھی انہی کے کمالات میں شامل ہے ۔ پھر تو کبھی جے یو آئی اپنے دس ہزار سے زائد مدرسوں اور مولانا فضل الرحمن کی تمام تر سیاسی بصیرت اور رضاعت کے باوجود بر سر اقتدار نہ آسکی ۔ اگر ایسا ہی ان کی طاقت میں کوئی کمال ہوتا تو خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کہیں تو دکھائی دیتی ۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جن کا ہاتھ لگنے سے ہر ایک شئے رو پیلی ہو جایاکرتی ہے ۔ جو مٹی سے بت بنائیں تو ان پر زندگی کا گماں ہوتاہو اور جب وہ لوگ چلے جائیں تو ہم جیسے بے فیض لوگ ہاتھ ملتے رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کے لوٹنے کی کوئی امید نہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں ان کے لوٹ آنے کی خواہش بڑھتی جاتی ہے ۔ شاید فاصلہ زیادہ ہوتا جاتا ہے یا پھر کم ہو رہا ہوتا ہے اور ہمیں احساس نہیں ہوتا ۔ ان کے نقش کبھی دھند لے نہیں ہوتے بس ہم ہی دنیا میں اُلجھتے چلے جاتے ہیں لیکن جب لوگ قاضی حسین احمد جیسے ہوں ، اسعد گیلانی جیسے ہوں تو وقت ان کی یاد پر ان کی باتوں پر اثر انداز ہی نہیں ہوتا ۔ یہ ایسے سورج نما لوگ ہیں کہ وقت کے ہر پردے کے اندر سے جھلکتے ہیں ۔ تاریخ کے روشن مینارے ۔ یہ کیسے زندہ لوگ ہیں کہ اوٹ میں ہیں اور زندہ ہیں اور ہم سامنے ہیں نہ جاگنے لگتے ہیں ، نہ زندہ لگتے ہیں ۔ کتنے دنوں میں نے قاضی حسین احمد کی یاد میں لکھنے کا سوچا ہے لیکن ابھی تک حیرت ہے کہ مد ہم ہی نہیں ہوتی ، اتنا مسکراتا شفیق چہرہ اور ایسا روشن دماغ اب نہیں ہے ۔ کیا حادثہ ہے ۔

متعلقہ خبریں