قوانین سخت بنانے میں تامل کیوں ؟

قوانین سخت بنانے میں تامل کیوں ؟

قصور کا خوشبودار قصوری میتھی کی بجائے معصوم بچوں سے زیادتی اور ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ کرنے کے بدترین فعل کے لئے بدنام زمانہ کا درجہ حاصل کرنا صرف اہالیان قصور کے لئے نہیں ملک بھر کے لئے بدنامی ‘ خجالت اور سرنگوں ہونے کا باعث بن چکا ہے۔ گزشتہ روز ایک معصوم بچی کے قتل کے واقعے پر اہالیان قصور کے پیمانہ صبر کا یوں لبریز ہونا فطری امر تھا۔ اب تک کی تحقیقات میں اس طرح کے واقعات میں ایک ہی ملزم یا محدود افراد کے ملوث ہونے کا شبہ اور بھی افسوسناک اور قابل غور ہے کہ وہ جنونی کیوں کر پولیس کی دسترس سے اب تک محفوظ ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ موجودہ واقعے کا ہر سطح پر سخت نوٹس لیا گیا ہے لیکن وطن عزیز میں جہاں جہاں بھی اس طرح کے واقعات کا اسی طرح بالائی سطح پر جو نوٹس لئے گئے ان کے نتیجہ خیز ہونے کی شرح افسوسناک طور پر ناکامی کاشکار رہی۔ ہمارے تئیں اس طرح کے واقعے کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لئے جانے سے اختلاف نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک تھانیدار کی سطح کے معاملے کا اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس لیا جانا ضروری تھا اور اگر اس سطح پر نوٹس کے باوجود بھی مسئلہ لا ینحل رہا تو کیا ہوگا۔ قصور ہی میں بچوں کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے والے عناصر کا کیا بگاڑا گیا‘ کراچی میں خواتین کو چھری مار کر نکل جانے والے موٹر سائیکل سوار تک ہنوز پولیس رسائی میں ناکام کیوں ہے۔ جو لوگ پکڑے جاتے ہیں وہ قانون اور منصفین دونوں ہی سے بچ کیسے نکلتے ہیں۔ اگر ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے تو اس کا اختصار یہ نکلے گا کہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم اور پولیس کا نظام بالکل ہی ناکام ہوچکا ہے۔ ایسے میں نوٹس لینے سے ہوگا کیا؟ خود ایک منصف کے گھر میں معصوم بچی پر ہونے والے مظالم کے مقدمے کا کیا بنا جہاں با اثر اور بے اثر دونوں ہی قسم کے ملزمان کو قانون سے کھلواڑ یا پھر قانونی پیچیدگیوں میں سے بچنے کی راہیں ملتی ہوں اس معاشرے اور اس ملک میں قانون و عدالت سے خوف کیسے آئے گا؟ قصور میں یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ زینب اور دیگر بچوں کے مقدمات کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر افتخار احمد کے مطابق دو سو سے زیادہ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی چھ ماہ سے اسی قسم کے کیسز کو دیکھ رہی ہے لیکن ابھی تک ان کو بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔المیہ یہ ہے کہ 2016 ء کے بعد سے اب تک وقفے وقفے سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ قصور کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت بچوں کے اغوا اور ریپ کے 12 واقعات درج ہیں لیکن 200 سے زائد پولیس افسران پر مشتمل یہ ٹیم اب تک ایک سال سے زائد عرصے سے جاری نامعلوم شخص یا گروہ کی کارروائیوں کا پتہ لگانے میں ناکامی دیکھ رہی ہے۔جہاں ناکامی کا یہ عالم ہوگا وہاں زینب کے ریپ اور قتل کا نوٹس آرمی چیف لیں یا پھر چیف جسٹس آف پاکستان تفتیش انہی پولیس اہلکاروں ہی نے کرنی ہے جن کی گزشتہ کارکردگی خود ان کی زبانی سوائے ناکامی کے اعتراف کے کچھ نہیں۔سوال پھر یہی اٹھتا ہے کہ کیا نوٹس لینے سے اور میڈیا پر چند دن کے لیے اٹھنے والے شور شرابے سے تفتیش آگے بڑھ پائے گی؟المیہ یہ ہے کہگزشتہ کچھ عرصے سے قصور شہر بچوں کے ساتھ زیادتی اور اس کے بعد قتل کے واقعات کی وجہ سے نہ صرف ملکی توجہ حاصل کرگیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ 2015ء میں قصور میں ہی متعدد لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز سامنے آئیں‘ اس وقت بھی بہت ہنگامہ مچا‘ مذمتی بیانات سامنے آئے‘ ایکشن لینے کی باتیں ہوئیں اور پھر سب بھول گئے۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے تو ہم جاگتے ہیں۔ قصور سکینڈل کے بعد ایسا ہی ہوا‘ قومی اسمبلی میں چائلڈ پروٹیکشن بل 2015ء منظور کیا گیا‘ سب قانون سازی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد کی گارنٹی نہیں ہوتی۔ قانون سازی کے باوجود بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ سماجی ادارے ساحل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ گیارہ بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ جنوری 2017ء سے جون 2017ء کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1764 واقعات ہوئے۔ گزشتہ چھ ماہ میں 1067 لڑکیاں اور697لڑکے زیادتی کا شکار بنے۔اس مسئلے پر سیاسی جماعتوں‘ عوام الناس اور سبھی عناصر کا افسوس اور احتجاج فطری امر ہے لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی آئندہ روک تھام کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ہمارے پارلیمان میں کبھی اس طرح کے ملزموں کو سرعام چوراہے پر لا کر چین‘ سعودی عرب اور ایران کی طرح سزائیں دینے کا قانون منظور کرنے کے لئے کبھی کسی نے کوئی بل پیش کیا ہے۔ کیا کسی نے شرعی سزائوں کے نفاذ کی بات کی ہے زبانی کلامی اور انفرادی طور پر ایسا ضرور ہوتا ہے لیکن اس ملک کی پالیمان میں کبھی ایسا مطالبہ بطور مسودہ قانون اور بطور بل کسی جماعت نے پیش نہیں کیا۔ جس ملک میں دہشت گردوں کی پھانسی کی سزائیں روک دی جائیں یا رکوا دی جائیں‘ جس ملک میں قتل کے ملزمان وی کا نشان بنا کر اس پر پورا اترنے کی مثالیں پیش کرتے ہوں‘ جس معاشرے میں قانونی معاملات سیاست زدہ کردئیے جائیں اس ملک میں خواہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مظلوم لڑکی ہو یا قصور کی زینب یا اسلام آ باد کی معصوم نوکرانی یا کوئی اور کوئی بھی محفوظ ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہی اس کی توقع رکھنی چاہئے۔ اگر اس کا تدارک کرنا ہے تو سخت سزائوں ہی سے اور ملزمان کو نشان عبرت بنا کر ہی ممکن ہوگا۔

اداریہ