وصال یار آرزو کی بات نہیں

وصال یار آرزو کی بات نہیں

پشاور میں متعین افغانستان کے قونصلر جنرل معین مرستیال کی افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کافی نہیں۔ اگر وہ اس امر کے خواہاں ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ اپنے ملک کی قیادت کو اس ضمن میں غلط فہمیوں کے ازالے اور خاص طور پر افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے ٹھوس اقدامات کا مشورہ دیں۔ امر واقع یہ ہے کہ افغان سفیر متعین اسلام آباد اور پشاور میں افغان قونصل خانوں کے عہدیداران اس وقت ہی متحرک ہوتے ہیں جب پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے دبائو بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس وقت بھی افغان قونصلر افغان مہاجرین کو کاروبار سمیٹ کر ایک ماہ کے اندر واپس چلے جانے کی ہدایت کے بعد ہی متحرک ہوئے ہیں وگرنہ افغان سفارتی عملہ بجائے اس کے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں کم کرنے کی کوشش کریں ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کی سعی میں رہتے ہیں جو ان کے فرائض منصبی سے مطابقت نہیںر کھتے۔ اس وقت بھی افغانستان سے خود کش حملہ آوروں کی پاکستان میں داخلے کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ روز ہی بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں دہشت گردی کی ایک سنگین واردات کا ارتکاب ہوچکا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے اپنی سر زمین پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرکے عملی پیغام دیں۔ پریس کانفرنس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔ کابل میں پاکستانی سفارتی عملے کے لئے مشکلات اور ان کو ہروقت عدم تحفظ کے احساس سے دوچار کرنا معمول کی بات ہے جبکہ اپنے اندرونی معاملات کی خرابی کا بلا سوچے سمجھے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا افغان حکام کا وظیفہ بن چکا ہے۔ جب تک افغانستان بھارت کی زبان بولنے سے باز نہیں آتا اور پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا اس وقت تک اس طرح کے خواہشات کااظہار بے معنی ہوگا۔ اس وقت شیر و شکر ہونے کی سعی کا مقصد افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے دبائو میں نرمی لانا ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں ۔افغانستان کیساتھ اچھے ہمسائیوں کے تعلقات ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش اور خارجہ پالیسی کاحصہ رہا ہے مگر اس کا جواب دوسری جانب سے مثبت نہیں ملتا بہر حال توقع کی جانی چاہئے کہ جن خیالات کاافغان قونصلر نے اظہار کیا ہے ان کو عملی جامہ پہنانے میں بھی وہ اپنا کردار ادا کرنے پر توجہ دیں گے۔
مقامی افراد ہی بطور پولیو ورکرز بھرتی کئے جائیں
رزمک سب ڈویژن شمالی وزیر ستان ایجنسی کے علاقہ مشران کا پولیوپروگرام میں غیر مقامی افراد کی تعیناتی پراحتجاج قابل توجہ امر ہے۔ ان کے اس استدلال کی مخالفت نہیں کی جاسکتی کہ پولیو پروگرام کی آسامیوں پر مقامی اوراہل لوگوں کا حق ہے۔مقامی افرادنے اُن دنوںاس شعبے میں خدمات انجام دی ہیں جب دہشت گردی کاناسورعروج پرتھا اورپولیو ورکرزکی زندگیاںخطرے میںتھیں اب جبکہ علاقہ میںامن بحال ہوا ہے تو مقامی افراد سے یہ حق چھین کر غیرمقامی لوگوں کو دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔قبائلی علاقہ جات میں ہی نہیں دیگر علاقوں میں بھی پولیو ورکرز کی جان پرکھیل کر خدمات انجام دینا کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ کتنے ہی کارکنوں کو قتل کیاگیا اور ان پر حملے کئے گئے جس وقت اس طرح کی صورتحال تھی اور اس کے باوجود پولیو ورکرز نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تو اب حالات معمول پر آنے کے بعد ان کو ترجیح دینے کی بجائے غیر مقامی افراد کی تقرری کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔علاوہ ازیں مقامی نوعیت کی آسامیوں پر مقامی افراد ہی کا حق بنتا ہے جس میں نا انصافی نہیں ہونی چاہئے۔ متعلقہ حکام کو قبائلی بھائیوں کی اس شکایت کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور حق تلفی کا ارتکاب کرنے کے مرتکب عناصر کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور مقامی افراد کی تقرری یقینی بنانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

اداریہ