جب ننھی زینب کھوئی ہے

جب ننھی زینب کھوئی ہے

قصور میں سات سالہ زینب کو زیا دتی کا نشانہ بنا کرقتل کر دینے کے سفاکانہ اقدام نے پو رے ملک کو جھنجھو ڑ کر رکھ دیا ہے ، قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیو ں میں قرار دادیں ، تحریک التو ا ، اور توجہ دلا ؤ نو ٹس جمع کرائے جا رہے ہیں اپو زیشن کا ملز م کو پھانسی دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے اورساتھ ہی حکومت پر غصہ بھی اتارا جا رہا ہے جب کہ طاہر القادری نے اس کو انسانیت کی تذلیل ، اور حکمر انو ں کی نا کا می قرا ر دیتے ہو ئے کہا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ساتھ شہدا ء قصور کا بھی انتقا م لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی افسوس ناک ، ظالما نہ ، سفاکانہ واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جا ئے کم ہے اور اس کی پوری ذمہ دار ی حکومت وقت پر عائد ہو تی ہے کیو ں کہ حکو مت وقت کی اولین ترجیح عوام کو تحفظ فراہم کر نا ہو تا ہے اور جو حکومت عوام کو امن واما ن کا تحفظ فراہم نہ کر پائے وہ حکو مت کا حق کھو دیتی ہے ۔ حزب اختلا ف کا بھی کر دار اس سانحہ کے معاملے میں ویسا ہے جیسا کہ حکومت کی نا کامی اور بے حسی کا ہے۔ اپوزیشن کا تعلق حکومت کو لتاڑنا ہی نہیں ہو ا کر تا ہے وہ ایک بہترین محتسب کا کردار ہوتا ہے اور قومی امو ر میں اس کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اس کی انجا م دہی میں حکومت کے ہا تھ مضبو ط کرے کیو ں کہ یہ ہی قومی مفادات کا تقاضا ہے ، زینب کا واقعہ اس ملک کا واحد سانحہ نہیں ہے ما ضی میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں اور ان واقعات پر اپوزیشن نے نمبر گیم ہی کھیلی ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا، اس وقت بھی ایسا ہی ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں زینب کو وہ انصاف نہیں مل پا ئے گا جس کا وہ حق رکھتی ہے اور یہ واقعہ بھی اسی طرح پر دہ پو ش ہو کر رہ جائے گا جیسا کہ ماضی میں ہو تا آیا ہے۔ عوام کو یا د ہوگا کہ زینب سے ملتا جلتا واقعہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں بھی رونما ہو ا تھا جہا ں ایک نو جو ان لڑکی کو بر ہنہ کر کے بازارو ں میں گھمایاگیا تھا جس میں حکومت کی ایک شخصیت کے ملو ث ہو نے کا ذکر ہو رہا تھا ، جس کے بارے میں شک ظاہر کیا جا رہا تھا اسی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے جب اس مظلو م بچی کو انصاف دلا نے کے لیے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا تو اس کا نتیجہ کیا ہو ا کہ پا کستان کو بدل ڈالنے کا نعر ہ لگانے والے نے اس ایم این اے کو پارٹی سے ہی سے خارج کر دیا یہ تبدیلی آئی ، جو اں سال مہیلا کو برہنہ کر نے والو ں نے انصاف کو فرامو ش کر ڈالا۔ اب وزیر اعلی ٰ پر ویز خٹک سانحہ قصور پر تڑپ اٹھیں ہیں،انہیں اس مظلو م جو اں سال بنت حوا کی یا د نہ رہی اگر دیکھا جا ئے تو اس وقت شہبا ز شریف اور پرویز خٹک دونو ں ایک ہیمنتج پر نظرآرہے ہیں ۔ پاکستان کے سپہ سالا ر نے بھی چیف جسٹس پاکستان کی طر ح خود نو ٹس لیا ہے اورقاتلوں کی گردنوں کی گر فت کے لیے فوج کی مدد فر اہم کر نے کا اعلا ن کیا ہے۔ ملک کے اند رونی امن واما ن کی کلی ذمہ داری سول انتظامیہ کی ہو تی ہے اب کیا فوج جو خارجی محاذ پر بھی متحرک نظر آتی ہے ، دہشت گردی کے خاتمے میں بھی بھر پور انداز سے سعی مسلسل کر رہی ہے کیا ملک کے داخلی امو ر بھی ٍہا تھ میں لے گی تو کا م چلے گا۔ یہ بات سیا ست دانو ں کے سوچنے کی ہے یہ سول انتظامیہ کے پر کھنے کی ہے پنجا ب حکومت کو صوبے کے اعلیٰ پو لیس افسرو ں سے با ز پر س کر نا چاہیے کہ وہ ناکا م کیو ں ہیں ،ایسی نا کا میو ں کے بارے میں سابق پو لیس افسرڈاکٹرشعیب سڈل نے جوایما ند اری ،مہا رت اور صلاحیتو ں کے حوالے سے نیک نا م ہیں فکر انہ تبصر ہ کیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یا رڈ کامیا ب اور ہم ناکا م کیو ں ہیں، شعیب سڈل کا کہنا ہے کہ اسکا ٹ لینڈ یا رڈ کی ایسے کیسو ں میں کا میا بی کی شرح نو ے فی صد سے زیادہ ہے جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہا ں پو لیس اصلاحات ایسی ہیں کہ نا کامی کا امکان بہت ہی کم رہتا ہے ، شعیب سڈل نے اس بارے میں کئی تجا ویز دی ہیں حکومت کو چاہیے کہ چاہے پو لیس کا شعبہ ہو یا کوئی دوسرا ان سب میں اصلا حات ماہرین اور با صلا حیت افسر و ں کے ذریعے اس طرح مرتب کی جا ئیں جس میں سیا سی اثر رسو خ کا عمل دخل نہ ہو ۔ سیا ست دان بھی اس بارے میں اپنا ہا تھ سید ھا رکھیں یہ ملک سب کا ہے اور اس کے مفا د ات سب کے ہیں زینب کا سانحہ پہلا نہیں ہے جو اپو زیشن اتنی زیا دہ متحرک نظر آرہی ہے اس سے پہلے بھی کئی ایسے سفاکی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں یاد رہے کہ نو سالہ طیبہ بھی ایسی ہی بہیمانہ ظلم کی بھینٹ چڑھ چکی ہے وہ ایک جج کے گھر ملا زمہ تھی جس پر بدترین تشدد کیا گیا ٹھڑ تی سردی میں اس کو اسٹور میں بند کیا جا تارہا راتو ں کو ہوس کا نشانہ بھی بنا یا جا تا رہا یہ وہی طیبہ تھی جس کی جعلی ما ں پیش کر کے دودن کے اندر عدالت کے ذریعے صلح کر ائی گئی ۔ چھ سالہ طوبیٰ بھی تھی جس کو کر اچی میں ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اس کی دما غ اور ہا تھو ں کی نسیں کا ٹ دی گئیں ، آٹھ سالہ عمر ان کو فیصل آبا دکے ایک مد رسے میں اجتما عی زیا دتی کا نشانہ بنایاجا تا تھا پھر ایک رو ز اس کو مد رسے کی تیسری منز ل سے بر ہنہ پھینک دیا گیا جس کی لا ش پانچ گھنٹے تک بے لبا س سڑک پر پڑی رہی ، طیبہ پر زیا دتی کر نے پر نہ تو جج کی بیو ی کو سزا ہو ئی نہ جج سے با ز پر س ہو ئی نہ طوبیٰ کو انصاف ملا نہ عمر ان کے مقدمے کا کوئی انجا م مل سکا ۔ اسی طرح ڈیر ہ میں سفا کی بر تنے والے آج بھی انگور کی بیٹی کو چھو ٹی مکھی کاشہد قرار دے کر عیش وعشرت میں مست ہیں ۔

شاعر نے زینب کی بے بسی اور حکومتو ں کی چال بازیوں پر کیا خوب کہا ہے ۔
ساری قوم اب روئی ہے
جب ننھی زینب کھوئی ہے
چیخو اور اب شور مچاؤ
گالی دو اور ڈھونگ رچاؤ
پہلے کیا سب سوئے تھے
جب باقی بچے روئے تھے
ان کا جو ہم کرتے احساس
زینب ہوتی ماں باپ کے پاسِ

اداریہ