برقعہ ایوینجرز

برقعہ ایوینجرز

زرعی یونیورسٹی پشاور کی طالبات نے نشتر ہال پشاور میں برقع پہن کر محفل رقص و سرود گرم کر ڈالی اور ان کی اس حرکت کے خلاف گرم ہوگئے برقعہ کا بھرم رکھنے کے دعوے دار، جو پشاور پریس کلب کے باہر سراپا احتجاج بن کر پشاور ڈسٹرکٹ کے ناظم محمد عاصم خان اور زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ برقعہ نام ہے اس اوڑھنی کا جو ہماری پردہ دار خواتین اپنے وجود کو ڈھانپنے کے لئے پہنتی ہیں۔ حجاب، نقاب، اسکارف گھونگھٹ، چلمن، شال، چادر، لسہ، اوڑھنی اور جانے اس قبیل کے اور کتنے پہناوے ہونگے جو برقعہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کام صنف نازک کی حیا کو قائم رکھنا اور انہیں نامحرم مردوں کی دیدہ پھاڑ نظروں سے بچائے رکھنا ہے۔ لیکن اس کا کیا،کیا جائے کہ خواتین کی شرم وحیا اور ان کی عزت و ناموس کا بھرم رکھنے کے لئے وجود میں آنے والے اس پہناوے کو منفی کاموں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ ہم نے کسی کی جان کے دشمن کو برقعہ پہن کر اسے قتل کردینے یا قاتلانہ حملے جیسے بہت سے واقعات سنے ہیں۔ یہ برقعہ کے استعمال کا انتہائی خوفناک پہلو ہے۔ فرانس، بلغاریہ، سوئیزرلینڈ اور ان جیسے متعدد یورپی ممالک میں برقعہ پر ، یوں ہی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ کچھ تو تھا چولی کے پیچھے جس نے وہاں کے قانون میںبرقعہ پہننے کو جرم قرار دے دیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب میں ایک ٹرینر کی حیثیت سے بلدیہ پشاور کے لئے منتخب ہوکر آنے والے کونسلروں، نائب ناظموں اور ناظموں کو ریفریشر کورس کروا رہا تھا۔ غالباً پشاور کے مضافات کے کسی پس ماندہ گاؤں سے منتخب ہوکر ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے پہنچے تھے وہ لوگ۔ اس علاقے سے دو چار خواتین بھی منتخب ہوئی تھیں۔ لیکن وہ ٹریننگ کے دوران کلاس سے غیر حاضر رہتی تھیں۔ جب میں حاضری لگاتا تو ان خواتین کو کلاس میں موجود نہ پاکر ان کے مرد ساتھیوں سے ان کے بارے میں پوچھتا کہ وہ کلاس سے غیر حاضر کیوں رہتی ہیں۔ انہیں کلاس میں آنا چاہئے۔ میری یہ بات سن کر متعلقہ علاقہ کے ناظم صاحب میرا لیکچر ختم ہونے کے بعد میرے پاس آیا اور نہایت راز داری سے کہنے لگا کہ’’ اگر آپ ہمیں ایک ایک لاکھ روپیہ بھی دیں تو ہم اپنی منتخب خواتین کو یہاں نہ لاسکیں گے‘‘۔آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ اگر وہ اسی طرح کلاس سے غیر حاضر رہتی رہیں ، تو خدا نخواستہ وہ نا اہل قرار پا جائیں گی۔ میں نے ناظم کو یہ بات سمجھانے کے بعد معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ لیکن دوسرے دن مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دوتین برقعہ پوش خواتین کلاس میں آن پہنچیں۔ میں نے ان کی حاضری لگا لی۔ اور حسب روایت بلدیاتی الیکشن میں منتخب ہوکر آنے والوں کو لیکچر دینے لگا۔ میں مردوں کے علاوہ شٹل کاک برقعوں میں چھپی خواتین کو بہن اور بیٹی کہہ کر بڑے احترام سے مخاطب کرکے پوچھتا کہ کیا وہ میری بات سمجھیں۔ جس کے جواب میں وہ اثبات میں سر ہلا دیتیں اور پھرمجھے یوں لگتا کہ کلاس میں موجود باقی لوگ ان کی اس حرکت پر نہ صرف ہنس رہے ہوتے ۔ میں نے برقعہ پوش خواتین کو مخاطب کرنا ہی چھوڑ دیا۔ اورالقصہ یہ کہ اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ کلاس میں شٹل کاک اوڑھ کر آنے والی خواتین کے روپ میں تین برقعہ پوش حضرات تھے جو مجھے بے وقوف بنانے کے لئے کلاس میں لاکر بٹھادئیے گئے تھے۔ یہ ہے برقعہ نامی پردے کی وہ کہانی جس کا ایک کردار راقم السطور کو بنفس نفیس بننا پڑا۔ ایک دوسری کہانی ہم نے کسی کالم میں پڑھی تھی۔ کالم نگارلکھتے ہیں کہ ایک موٹرسائیکل سوار کو کسی نے راستے میں روک کر کہا کہ ذرا آپ اپنا موٹر سائیکل مجھے دیں تاکہ میں اس برقعہ پوش خاتون کے اس میاں کو لے آؤں جس کے انتظار میں یہ بیچاری جانے کب سے رنجور بیٹھی ہوئی ہے۔ موٹر سائیکل سوار نے ایک نظر برقعہ پوش خاتون کو دیکھا۔ اس کا دل پسیج گیا اور اس نے اپنا موٹر سائیکل اس شخص کے حوالے کردیا تاکہ وہ پردہ دار خاتون کے میاں کو لے آئے۔ لیکن موٹر سائیکل لیکر برقعہ پوش خاتون کے شوہر کو لینے کے لئے جانے والا وہ شخص ایسا رفو چکر ہوا کہ شام ڈھلنے تک اس نے واپس لوٹنے کا نام نہ لیا۔ پتہ نہیں کیا ہوئی ہوگی اس کی حالت زارجب اسے پتہ چلا ہوگا کہ میں جسے برقعہ پوش خاتون سمجھ رہا تھا وہ شٹل کاک برقعہ سے ڈھانپا ہوا، ایک قد آدم پتھر تھا۔ صرف یہی نہیں برقعہ کے منفی پہلو۔ آپ کو لال مسجد اسلام آباد کے برقعہ پوش مولانا کا پکڑاجانا تو یاد ہی ہوگا۔ کہتے ہیں کہ زرعی یونیورسٹی پشاور پر حملہ آور ہونے والے تباہ کن دہشت گردبرقعہ پہنے ہوئے تھے۔ شاید یہی ایک وجہ تھی کہ نشتر ہال پشاور میں زرعی یونیورسٹی پشاور کے طلباء کی جانب سے منعقد ہونے والی محفل رقص و سرود کی طالبات نے ’رقص برقعہ پہن کر بھی کیا جا تا ہے‘ کا مظاہرہ کیا اور برقعہ کے تقدس کا بھرم رکھنے والے کود پڑے پریس کلب کے چوراہے میں اپنا احتجاج رجسٹر کرانے۔ قدر کرنی چاہئے ہم سب کو ان کے جذبات کی مگرہمیں اس شبے کا بھی اظہار کرنے دیجئے کہ برقعہ پہن کر ڈانس کرنے والوں میں طالبات کی بجائے طلباء بھی توہو سکتے تھے جن کی اس حرکت سے ضلع پشاور کے با شرع اور نماز گزار ناظم محمد عاصم خان اور زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ ملزم قرار پائیں۔

شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میں
ختم ہے الفت کی تجھ پہ پردہ داری ہائے ہائے