بچوں سے زیادتی معاشرتی دہشتگردی ہے، قومی اسمبلی میں زینب کے قتل پر بحث

بچوں سے زیادتی معاشرتی دہشتگردی ہے، قومی اسمبلی میں زینب کے قتل پر بحث

مشرق ویب ڈیسک ؛ اسلام آباد: قصور میں 7سالہ زینب کے اغوا اور قتل پر قومی اسمبلی میں بحث کے دوران ارکان نے عملی اقدامات پر زور دیا ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں معصوم زینب کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرائی گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی آج کی معمول کی کارروائی معطل کرکے ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بحث کی تحریک پیش کی گئی جسے منظور کرلیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو کچھ معصوم بچی کے ساتھ ہوا افسوسناک ہی نہیں شرم ناک بھی ہے۔

 قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مر جانا یا مار دینا اتنی بڑی بات نہیں لیکن ہم سب بچوں والے ہیں، بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں، قصور واقعہ پنجاب حکومت کی ناکامی ہے، اس واقعے سے پورا ملک متاثر ہوا ہے، جن کی بیٹیاں ہیں وہ والدین تشویش میں ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کوتحفظ دے۔ 

حکومتی رکن محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ  قصور واقعے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی چاہیے، یہ سماجی اور معاشرتی دہشت گردی ہے، یہ برائی ہر جگہ موجود ہے جس کا تدارک کرنا ہو گا،-انہوں نے کہا قرارداد کی بجائے اقدامات تجویز کرنے کیلئے کمیٹی بنائی جائے، قومی شناختی کارڈ پر ڈی این اے کا خانہ بنانا چاہیے۔

تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری نے بھی کہا کہ قصور واقعے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے تو اس کی روک تھام بھی نہیں کر سکتے، وقت آگیا ہے کہ عوامی نمائندے کوئی سخت فیصلہ کریں۔ اسپیکر اس معاملے کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائیں۔ 

جے یو آئی (ف) کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کا کہنا تھا کہ  یہ واقعہ پوری قوم کے منہ پر طمانچہ ہے۔ہمارے مسائل کی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے ،  ایسے واقعات میں ملوث افراد کے لیے اللہ نے قرآن میں سزا مقرر کی ہے۔

ایم کیو ایم کی رکن کشور زہرہ کا کہنا تھا کہ زینب کے واقعے پر سیاسی بات نہیں کرنی چاہیے لیکن ذمہ دار حکومت ہے، یہ انتہائی سنجیدہ موضوع ہے، ہمیں نصاب میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔

جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ کا کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس مقتول کا قاتل نامعلوم ہو اس کا قاتل حکمران ہوتا ہے، واقعے پر چیف جسٹس اور آرمی چیف کو نوٹس لینا پڑا ،کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں۔دوسری جانب  مقتولہ زینب کے والد کے اعتراض پر جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کو تبدیل کر دیا گیا،جس کے بعد آر پی او ملتان محمد ادریس کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نیا سربراہ بنادیا گیا  اور نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔اس بارے میں آر پی او ملتان محمد ادریس کا کہنا ہے کہ زینب قتل کیس کی تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے اور امید ہے کہ جلد نتائج تک پہنچ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں