Daily Mashriq


اصغر خان کیس کا نیا موڑ

اصغر خان کیس کا نیا موڑ

مرحوم ائیر مارشل اصغر خان کے اہلخانہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اصغر خان کیس بند نہ کیا جائے۔ درخواست گزاران کا موقف ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ مرحوم ائیر مارشل کے اہلخانہ کا موقف خوش آئند ہے۔ اصغر خان کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقات اور پھر کیس کو بند کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست پر متعدد سوالات سامنے آ ئے۔ سیاسی عمل میں کسی ریاستی ادارے کے بعض ذمہ داروں کی دلچسپی اور مرضی کے انتخابی نتائج کے حصول کے لئے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرنے کا یہ معاملہ لگ بھگ 28سال پرانا ہے۔ ایف آئی اے کا یہ موقف درست نہیں کہ ربع صدی قبل کے معاملے میں ٹھوس دستاویزاتی ثبوت کا حصول مشکل ہے۔ رقم فراہم کرنے والے کا بیان حلفی موجود ہے جبکہ بعض شخصیات رقم لینے کا اعتراف بھی کرتی رہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 15کروڑ کی اس رقم میں سے 5کروڑ سیاستدانوں میں تقسیم ہوئے اور باقی دس کروڑ روپے ’’غائب‘‘ ہیں۔ ایف آئی اے حکام کو غالباً د وسرے مرحلے کی تحقیقات میں دشواریاں پیش آئیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس معاملے کو درمیان میں چھوڑنے سے سب سے زیادہ حرف نظام انصاف پر آئے گا۔ اصغر خان کیس میں رقم دینے اور لینے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ باقی ماندہ دس کروڑ روپے ملکی خزانے میں جمع ہوئے یا کسی طاقتور فرد کی این جی او کو عطیہ کردئیے گئے۔ معاملہ جو بھی رہا ہو ایک بات طے ہے کہ اگر اس معاملے پر انصاف ہوتا ہے تو اس سے سیاسی عمل میں ریاستی اداروں کی مداخلت کادروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا تو دوسری طرف سیاستدان بھی اقتدار کے لئے شارٹ کٹ تلاش کرنے یا اداروں کا سہارا لینے کی بجائے سیاسی جدوجہد کی راہ اپنائیں گے جس سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور سیاست سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔

قبائلی اضلاع میں ہزاروں خالی آسامیاں

اطلاعات کے مطابق قبائلی اضلاع میں تعلیم و صحت سمیت مختلف شعبوں میں 9ہزار سے زیادہ آسامیاں کئی برسوں سے خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے ان شعبوں میں بہتری لانے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ان آسامیوں پر تعیناتی کے لئے بھرتی کا عمل اس لئے ممکن نہیں ہوسکا کہ فنڈز دستیاب نہیں تھے۔ قبائلی اضلاع میں لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے‘ علم کی روشنی پھیلانے اور صحت کے شعبہ کی خدمات میں بہتری لانے کے لئے فنڈز کی فراہمی کو ہر ممکن طریقہ سے یقینی بنایا جائے‘ روزگار کے وسیع مواقع ان مسائل کو ختم کرنے کا موجب بن سکتے ہیں جن سے ان علاقوں کے لوگ دو چار ہیں۔ ہماری دانست میں کم ترقی یافتہ قبائلی اضلاع کے لئے فنڈز کی فراہمی کو اولیت دی جانی چاہئے۔ متعلقہ حکام کو اس امر کا بھی نوٹس لینا چاہئے کہ ماضی میں فنڈز کی فراہمی بروقت کیوں نہ ہو پائی ۔ امید واثق ہے کہ اس ضمن میں حکام لیت و لعل سے کام لینے کی بجائے انسانی ہمدردی کے جذبے سے فنڈز کی فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان کی تحسین

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ خطے میں تعمیر و ترقی اور علاقائی معاملات کے حل کے لئے پاکستان کا کردار مثالی ہے۔ ایران مختلف شعبوں میں پاکستانی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے۔ ان کا ملک پاک بھارت دشمنی کی وجہ نہیں بننا چاہتا البتہ قیام امن اور سلامتی کے لئے پاکستان اور بھارت سے تعاون کے لئے تیار ہے۔ بھارتی ٹی وی کو دیے گے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کو با اعتماد دوست ملک قرار دیتے ہوئے بھارتی چینل کے میزبان کی الجھائو پیدا کرنے والی باتوں کو جس طرح نظر انداز کیا اور بھارتی سر زمین پر بیٹھ کر خطے کے لئے پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو مثالی قرار دیتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا وہ خوش آئند ہیں۔ بھارتی چینل کے میزبان نے روایتی ہندو توا کا بغض نکالتے ہوئے جناب جواد ظریف کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی بہت کوشش کی مگر انہوں نے دو ٹوک انداز میں نہ صرف بھارتی صحافی کے الزامات کو مسترد کردیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے با اعتماد دوست پاکستان کے قومی وقار کو کسی دوسرے ملک سے تعلقات پر قربان کرنے کی سوچ نہیں رکھتے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایران و پاکستان کے تعلقات محض روایتی پڑوسی ممالک جیسے نہیں دونوں برادر اسلامی ممالک ہر مشکل لمحے میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنے اور علاقائی امور میں دونوں کی مشترکہ سوچ کی وجہ سے ہی بعض عناصر کے پیدا کردہ مسائل دو طرفہ تعلقات کو متاثر نہیں کر پائے۔

متعلقہ خبریں