Daily Mashriq


کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا۔۔۔۔

کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا۔۔۔۔

وزیراعظم پاکستان عمر ان خان نے لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہا ر کر تے ہو ئے کا بینہ کے بعض ارکا ن کو ڈانٹ پلائی کہ وہ لوگو ں سے قر ض ما نگتے پھر رہے ہیں اور عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں ڈال دیا گیا ہے۔ عموما ًوزیر اعظم کی ڈانٹ ڈپٹ کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ بات بھی درست ہے کہ سب کچھ الٹا ہو رہاہے کیو ں کہ وزیراعظم نے دھر نا تحریک سے انتخابی مہم تک جو کچھ کہا تھا اب جب کہ اپنے کہے کو پر کھتے ہیں تو سب ہی الٹ نظر آتا ہے ، قر ض لینے کے بارے میں ان کے ارشادات تھے کہ یہ بھیک ما نگنے سے بھی بدتر ہے وہ مر جائیں گے مگر قرض کسی سے نہیں ما نگیں گے۔ جو طعنہ وہ سابقہ حکومت کو دیتے تھے اس سے بھی مانگنے میں حد پار ہو گئی ہے۔ قرضہ لینے میں موجودہ حکومت نے سابقہ تما م حکومتو ں کا ریکا رڈ توڑ دیا ہے ، قرضہ کتنا لیا گیا ہے۔ اس بارے میں میڈیا پر جو آیا ہے اس کے مطا بق حکو مت نے اڑھا ئی ٹریلین روپے قرض لیے ہیںجو یقینی طو رپر بہت بڑی رقم ہے۔ اس کے ضیا ع پر ہر پاکستانی کو دکھ ہو گا۔ چنانچہ عمر ان خان کی اپنی ٹیم کو ڈانٹ ڈپٹ درست محسو س ہو تی ہے مگر ان کو یا د رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ بی بی بشریٰ یا د کر اتی رہتی ہیں کہ اب وہ وزیر اعظم ہیں اور حکو متی ہر اچھائی وبرائی کی ذمہ داری ان کے کند ھو ں پر ہے ۔اتنا بھاری بوجھ عوام کے کندھو ں پر ڈالنے کے باوجو د شنید ہے کہ ایک نیا بجٹ آرہا ہے ماضی کی حکومتیں بھی ایسا بجٹ لایاکرتی تھیں ، مگر اس کو منی بجٹ کہاجا تا تھا مگر جس بجٹ کی ڈونڈ ی پیٹ رہی ہے اس بارے میں یہ ہی سمجھا جا رہا ہے کہ عوام کے کاندھے شل ہو کر رہ جا ئیں گے اس منی بجٹ کے بار سے۔ حکومت کے معاشی امو ر کے ترجما ن فرخ نسیم جو 24دسمبر تک حکومت کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہو تے رہے جن کی تقرری کا اعلا ن وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھر ی نے بذریعہ ٹویٹ کیا تھا اور فرخ نسیم کے منہ سے سچ پھسل جا نے سے ان کی ٹویٹ کے ذریعے ہی چھٹی کر دی گئی ، فرخ نسیم نے ایک ٹی وی پر وگر ام میں بتایا تھاکہ گردشی قرضے ما ضی کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا تیزی سے بڑ ھ رہے ہیں ایسی غیر یقینی صورتحال میں کوئی کا روبار نہیںچل سکتا ، یہ بات سچ بھی ہے کیو ں کہ غیر ملکی سرمایہ کا ری تو اب عنقا نظر آرہی ہے ملکی سرمایہ کا ر بھی سرمایہ بیر ون ملک لے جارہے ہیں ۔ ڈاکٹر فرخ نسیم کے مطا بق روپے کی قدر میں کمی کے حکومتی پالیسی کے نتائج نہیں ملے مہنگائی دو گنا بڑھ چکی ہے ۔ڈاکٹر فرخ نسیم نے جو انکشافات کیے وہ ترجمان معاشی امور برائے وزیرا عظم کی حیثیت سے کیے تھے۔ اگر اب وہ کوئی ایسی بات کر یں تو گما ن کیا جا سکتا ہے کہ عہد ہ چھن جا نے کی کیفیت ہے ، فرخ نسیم کا کہنا تھا کہ سعود ی عرب سے ایک ارب ڈالر آتاہے اور سولہ دن میں ختم ہو جا تا ہے ۔اسی طر ح عمران خان جب بر سراقتدار آئے تو انہو ں نے قوم کو خزانہ بالکل خالی ہو نے کا مژدہ سنا یا ، عوام کو یقین آیا کہ کیو ں کے عوام مہنگائی ، بے روزگا ری کی چکی میں پسے جارہے تھے ، مگر اسٹیٹ بینک کے اعداد و شما ر تو یہ بتاتے ہیں کہ جب تحریک انصاف نے عنا ن حکومت سنبھا لی تو اس وقت 18ارب ڈالر کا ذخیر ہ خزانہ میں تھا جبکہ مسلم لیگ ن تئیس ارب ڈالر کا دعویٰ کر تی ہے۔ آخر یہ تئیس ارب یا اٹھا رہ ارب ڈالر کس اندھے کنو ئیں میں ڈوب گیا ، قوم جاننا چاہتی ہے تو کیا یہ غلط ہے ؟ قرضے سے معیشت کبھی بھی بہتر نہیں ہو ئی ہے اگر ایسا ممکن ہو تا تو ما ضی کی حکومتیں کر پاتیں ۔ بقول فرخ نسیم کے کہ کب تک قرضو ں سے ملک چلا یا جا ئے گا ،ملکو ں میں دوستی نہیں ہو تی مفادات ہو تے ہیں دنیا میں کہیں مفت لنچ مفت نہیں ملتا ۔ان کے مطا بق یو اے ای سے 2.8فی صد کی شرح سود پر قرض ملا ہے ، اسی طر ح سعودی عرب سے بھی 3فی صد کی شرح سے بھی زیا دہ سود پر قرض ملا ہے۔

اب تک ملک کی اقتصادیا ت اور معاشیات کو درست کر نے کے لیے حکومت کی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ وہی سیا سی اند از میں الزام تراشیا ں اور سبز باغ کے خواب ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ارباب حل وعقد سابقہ حکو متو ں پر تبّر ا ہی بھیج رہے ہیں اب ان کو احساس ہو نا چاہیے کہ عوام نے جس مشن کے لیے ان کو منتخب کیا ہے اس کا مقصد مقبول نعرے سننا نہیں ہے اور نہ غیر مقبول فیصلے ہیں، ان کو عمر ان خا ن اور پی ٹی آئی کی تنظیم پر بھر وسہ تھا اور ہے کہ یہ ملک کو صحیح پٹری پر لے آئیں گے چنا نچہ اس وقت سارے عوام حزب اختلا ف کی تنقید پر کوئی خاص دھیا ن نہیں دے رہے ، وہ منتظر ہیں تبدیلی کے ، چنا نچہ منی بجٹ لا یا جا ئے یا آئی ایم ایف ، یا کسی دوست ملک کی طر ف رجو ع کیا جا ئے عوام اس پر معتر ض نہیں ہیں وہ ملک کو اقتصادی اور معاشی طورپر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، اس کے لیے معاونت بھی کررہے ہیں چنا نچہ تحریک انصاف کے پاس ایک سال کا بہترین وقت ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کو برقرار رکھے ، کیو ں کہ ایک سال بعد یہ سوال شدت سے اٹھ سکتا ہے کہ وہ وعدے تیر ے کیا ہوئے ۔

نئے مالی سا ل میں حکومت کے پاس بہانہ کوئی نہ ہو گا ، چنا نچہ ما ضی کا پیٹوا اب بھول جا نا چاہیے اور مستقبل کی منصوبہ بندی ہو نی چاہیے۔ اب تک جو سامنے آیا ہے اس میں یہ ہی بہت بڑے صدمے کی بات ہے کہ صرف روپے کی قدر گرا نے سے پا کستان پر بیٹھے بٹھائے 9؍ارب ڈالر کا قرضہ مزید بڑھ گیا ، وہ جو کہا ہے کہ’’ کھایا پیا کچھ نہیں گلا س توڑا ایک روپیہ چھ آنے ‘‘کا ڈنٹھ پڑ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ عمر ان خان اپنے مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔ ان کو ٹیم کی جانب سے بھی افتاد کا سامنا ہے ، مشیر و ں کی فوج ظفر مو ج کے با وجود راہ واضح نہیں ہو رہی ہے جس کا ایک ہی حل ہے کہ وہ سیا سی چھیر چھا ڑ کو چھو ڑ دیں اور اہم قومی مسائل اور پالیسیوں پر قومی یکجہتی کی جانب مساعی کر یں۔ کوئی فیصلہ کر نے سے پہلے اپنے ماضی کے پا نچ سات سالو ں کی تقاریر ، تنقید ، وعدو ں پر بھی نظر ڈال لیا کر یں تو اس سے ان کو سلجھا ؤ میں کا فی معاونت حاصل ہوجائے گی ۔

متعلقہ خبریں