Daily Mashriq


ساری زندگی ایک اچھا جج بننے کی کوشش کی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

ساری زندگی ایک اچھا جج بننے کی کوشش کی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انہوں نے ملک میں حقیقی جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد رکھی۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ منعقد کیا گیاجس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جوڈیشل ایکٹوازم کا ہر گزمطلب یہ نہیں کہ دوسرے اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت کی جائے یا کسی کی بے عزتی کی جائے، یہ جارحیت نہیں۔

اس موقع پر آئندہ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان اور دیگر جج بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ اور دیگر اداروں کے آئینی دائرہ کار کو ملحوظ خاطر رکھا، ہسپتالوں کا دورہ کرنے کا مقصد صرف حکومتی وسائل کا درست استعمال یقینی بنانا تھا۔

ان کامزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے ان سے ارادی یا غیر ارادی طور پر غلطیاں سرزد ہوئی ہوں لیکن انہوں نے جو کچھ بھی کیا قانون کی حکمرانی کے لیے کیا ، اور کبھی کسی کی بے عزتی کرنے کی کوشش نہیں کی۔

کھلی کچہریوں کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ان کی ملاقات ایسے افراد سے بھی ہوئی جن کے پاس ادویات خریدنے تک کے18ویں ترمیم: وفاقی حکومت صوبوں میں ہسپتال کیوں نہیں چلاسکتی، چیف جسٹس پیسے نہیں تھے۔

انہوں نےاس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ لوگوں کو وقت پر عدالتوں سے انصاف نہیں مل پاتا، ان کا کہنا تھا کہ ’آجکل عدالتوں میں وکلا کی جانب سے اچھے دلائل کی کمی کو محسوس کیا جاتا ہے‘، ا س کے ساتھ انہوں نے ضلعی عدلیہ کے ججز کو اپنا کام نہایت دلجمعی کے ساتھ کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے بتایا کہ قانونی پیشہ اختیار کرنے سے قبل وہ عدالتوں میں اپنے وقت کے اعلیٰ پائے کے وکلا اعجاز بٹالوی اور ایس ایم ظفر کے دلائل سنتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ان کی لاہور ہائی کورٹ سے 56 سال کی وابستگی ہے اور وہ اسکول کے دور میں اپنے والد کے ساتھ وہاں آیا کرتے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پوری زندگی ایک اچھا جج بننے کی کوشش کی تا کہ زندگی میں اور موت کے بعد اس کا انعام پاؤں‘۔

انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ چونکہ وہ عدالتی نظام کا اہم حصہ ہیں لہٰذا اپنا کام پوری جانفشانی سے کریں، اس کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا کہ کوڈ آف کرمنل پروسیجر کی دفعہ 22-اے (مقدمے کے اندراج کے خلاف) کے تحت دائر کی جانے والی پٹیشنز نے عدالتوں کو ہائی جیک کرلیا ہے کیوں کہ جج کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ مقدمے کے اندراج کو یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس نے بتایاکہ 14 جنوری کو اسلام آباد میں کمیشن برائے قانون و انصاف کے تعاون سے پولیس اصلاحاتی پیکج متعارف کروایا جائے گا۔

انہوں نے فخر کے ساتھ بار ایسوسی ایشن کو آگاہ کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے 2 کے علاوہ ججز کے خلاف دائر تمام ریفرنسز نمٹا دیےہیں ، عدلیہ اپنا میعاری احتساب کررہی ہے اور وکلا کو بھی چاہیے کہ اپنے معاملات درست رکھیں۔

متعلقہ خبریں