Daily Mashriq

گرم انڈے۔۔۔

گرم انڈے۔۔۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جب سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد جانی پہچانی صدا سنائی دیتی ہے: ''گرم انڈے۔۔ گرم انڈے''۔ جس دن دھوپ نکل آتی ہے اور موسم قدرے بہتر ہو جاتا ہے تو دن کے اوقات میں یہ آواز سماعت سے نہیں ٹکراتی لیکن بارش میں اور بادلوں والے روز دن کو بھی یہ صدائیں گونجتی رہتی ہیں۔ سردی کے اوقات یعنی صبح اور خاص کر مغرب کے بعد رات دس گیارہ بجے تک اس کی شدت میں خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ گرم انڈے فروخت کرنے والے کوئی جوان یا بڑی عمر کے افراد نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں جن کی عمریں محض سات سے دس سال کے درمیان ہوتی ہے۔ کئی دفاتر کے سامنے سے گزرتے ہوئے یہ بچے اپنی یہ صدا باآواز بلند دہراتے ہیں تو دفاتر کے باہر موجود سیکورٹی گارڈز یا آفس بوائے وغیرہ کی طرف سے اُنہیں کھری کھری سنائی جاتیں اور انہیں وہاں سے بھاگ نکلنے کا کہا جاتا ہے۔ کسی بھی انسانی ہمدردی رکھنے والے کے دل میں یہ صدائیں تیر کی طرح پیوست ہوتی ہیں کہ ایک طرف اس عمر کے ہمارے بچے جن کو بڑے ناز نخرے کیساتھ پکے پکائے انڈے کھلانے کیلئے اُن کی منت سماجت کی جاتی ہے' انہیں طرح طرح کی ترغیبات دلا کر انڈا کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے' کبھی اُن کی مائیں انہیں موبائل فون کی مختلف ایپلی کیشنز کے ذریعے بہلاتی پھسلاتی دکھائی دیتی ہیں کہ بچے کچھ کھا لو' سکول جاتے ہوئے لنچ باکس بیگ رکھتے ہوئے طرح طرح کی لالچ دی جاتی ہے کہ جب سکول سے واپس آئے تو موبائل فون میں کارٹون دکھائے جائیں گے یا اِدھر اُدھر لے جایا جائیگا' اُس کے باوجود بچے سکول میں جا کر جیب خرچ کیلئے دئیے گئے پیسوں سے ایسی اشیاء جو اُن کی صحت کیلئے انتہائی مضر ہوتی ہیںکھا کر آجاتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بچے ہیں کہ جنہیں اتنی کچی عمر میں جبکہ شعور اور سمجھ بوجھ کا عمل دخل معمولات زندگی میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور روزی روٹی ' لباس اور دیگر لوازمات زندگی سمیت ہر طرح کی بے فکری ہوتی ہے ' کس چیز اور کن اسباب نے انہیں کچھ کمانے کی فکر میں مبتلا کر دیا ۔ ایسے ہی بچوں کے چند گروہ مرکز میں مسند اقتدار سے محض ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر کندھوں پر آٹے ' چاول کے خالی تھیلے اُٹھائے کاغذ اور دیگر ایسی اشیاء چنتے دکھائی دیتے ہیں۔جب دوپہر کو کھانے کا وقت ہوتا ہے تو یہ بچے معروف ہوٹلوںکے باہریا قریب موجود کوڑے دانوں میں سے امراء کی جانب سے ادھ کھائے کھانے جو کوڑے دانوں میںڈال دئیے جاتے ہیں' سے لیکر کوڑے دان کے نزدیک ہی گندگی میں بیٹھے کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کوڑے دانوں میں پیمپرز ' مرے ہوئے چوہے اور دیگر ایسی گندگی پھینکی جاتی ہے کہ راہگیر ان سے اُٹھنے والی بُو اور قریب میں موجود گندگی کے باعث راستہ بدل لیتے ہیں اور سڑک کی دوسری جانب سے گزرتے ہوئے بھی ناک کو ڈھانپے ہوتے ہیں۔ وہ کونسے اسباب ہیں جو ان بچوں کو کوڑے دانوں سے پیٹ بھرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کیا والدین کے علاوہ ان بچوں کی کفالت ' ان کو تعلیم دلانے اور انہیں ملک و قوم کیلئے مفید شہری بنانے کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیںہوتی؟ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوںکو اپنے پہلو میں معصوم پھولوں کی''گرم انڈے'' کی اُٹھتی یہ صدائیں سنائی نہیں دیتیں۔ وزراء ' امرا تو درکنار کوئی دیہاڑی دار مزدور بھی اپنے معصوم بچوں کیلئے یہ بات برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ روزی کے حصول کیلئے اس طرح ٹھٹھرنے پر مجبور کردینے والی سردی میںسلیپر پہنے سڑکوں پر صدائیں لگاتا پھرے۔ کیا یہ سب کچھ حکومتی ذمہ داوں کی نظروں سے اوجھل ہے جبکہ یہ کوئی کالا ڈھاکہ یا قبائلی علاقوں کی بات نہیںہو رہی ہے بلکہ یہ وفاقی دارالحکومت اور پارلیمنٹ ہائوس سے محض ایک یا ڈیڑھ کلومیٹر پر موجود تجارتی مرکز کی بات ہے ۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز افسران ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر تصور کریں کہ اگر ان گرم انڈے بیچنے والے بچوں کی جگہ اُن کا بچہ نہ سہی اُن کا کوئی قریبی رشتہ دار ہی ہوتا تو اُس پر کیا گزرتی اور کیا وہ یہ سب کچھ برداشت کر پاتے۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کو ذرایہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ مسند اقدار پر بیٹھنا اتنا سہل نہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ملک کا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی صوبے یاعلاقے سے ہو' کسی بھی قوم سے ہو' کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو ' اُن کی رعایا ہے' اُس کی سب کی ضروریات کی ذمہ داری اقتدار میں بیٹھے افراد پر عائد ہوتی ہے اور ریاست کی کوتاہی کی وجہ سے اگر وہ کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے ' تو اس پر بھی روز قیامت وہ اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے۔حکومت میں بیٹھے افراد کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ محض چند سو شیلٹر ہومز یاچند ہزار غرباء کیلئے مفت کھانے کا اہتمام کر کے وہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو جاتے۔ ایک تو یہ شیلٹر ہومز اور خیراتی ادارے صرف شہروں کی حد تک محدود ہیں جہاں تک کم لوگوں کی رسائی ہوتی ہے اور وہ غرباء اور مستحقین جو بیروزگاری ' معذوری یا دیگر ایسی وجوہات کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ لاعلمی ' روایتی جھجھک یا دیگر ایسی وجوہات کی بنا پر ان شیلٹرز ہوم تک رسائی بھی حاصل نہیںکر پاتے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ منتخب نمائندے اور حکومت کی جانب سے مختلف عہدوںپر تعینات کیے گئے ذمہ داران خود کو اپنے حلقوں یا پارٹی ورکرز تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی اُن کے حق میں بھی بہتر ہے اور اس سے عوامی مشکلات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں