Daily Mashriq

اپنی ریاست کیلئے کوشاں کرد

اپنی ریاست کیلئے کوشاں کرد

امریکہ کے شام سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار کرد لاپتہ اور دوسو کے قریب قتل ہوچکے ہیں۔ داعش افواج کیخلاف جنگ لڑنے والے کرد سپاہیوں کے دلوں میں ایک اُمید تھی کہ وہ شمال مشرقی شام میں داعش سے خالی ہونے والے علاقے پر اپنے لئے ایک کردستان بسانے میں کامیاب ہو ہی جائیں گے مگر امریکہ کا فوری طور پر اپنی افواج کو شام سے نکال لینا کرد سپاہیوں کیساتھ دغابازی کے مترادف تھا۔ امریکہ کا یہ اقدام کردوں کیلئے مایوسی کا سبب بنا۔ یہ ان وعدہ خلافیوں کے طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جن کا امریکہ بارہا مرتکب ہوا ہے۔آج کرد تین چار کروڑ کی آبادی کیساتھ دنیا کا وہ سب سے بڑا لسانی اور نسلی گروہ ہیں جو اپنی مشترکہ تاریخ اور خغرافیائی خطے کی پہچان رکھنے کے باوجود ایک قومی ریاست سے محروم ہیں۔ اس وقت ترکی میں کردوں کی تعداد ڈیرھ کروڑ، ایران میں اسی لاکھ، عراق میں پچاس لاکھ اور شام میں تقریباً تیس لاکھ کے قریب ہے۔ کردوں کا ان ریاستوں کیساتھ تعلق بھی کشیدہ ہی ہے کہ یہاں ان کی جانب سے اقتدار کے حصول کیلئے تحریکوں کا زور رہ چکا ہے۔ اس سے پہلے کردوں کیلئے اپنی ریاست بنانے کا سب سے سنہری موقع جنگ عظیم اول کے اختتام پر آیا تھا جب اتحادی افواج نے جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے کے بعد یورپ میں مفتوح علاقوں کی سرحدوں میں ترمیم کیلئے متواتر کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ ان کاوشوں کا اصل مقصد جرمنی کو سزا دینا اور یورپ میں آسڑوہنگیرین سلطنت کا خاتمہ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے مقاصد میں وہ خلاء پر کرنا بھی شامل تھا جو بلغاریہ سے یمن تک محیط سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اس جنگ کے فاتحین نے دنیا کے نقشے میں نئی تبدیلوں کیلئے لسانیات اور نسل پرستی کو ہی واحد اصول گردانا۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ نئی تخلیق کی گئی ریاستیں ایک ہی لسانی یا نسلی گروہ پر مبنی ہوا کریں گی۔اب ہماری بحث میں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ اس سارے عمل کے دوران کردوں کی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ان کیلئے ایک الگ ریاست کیوں نہ بنائی گئی؟ فاتح اتحادیوں کیلئے سلطنت عثمانیہ کے زیرانصرام رہنے والے بڑے علاقے کی نئی نقشہ بندی کیلئے کئی منصوبے تھے۔ ان کے سامنے یہ سوالات تھے کہ کیا عرب کے خطے کو یکجا رکھنا بہتر رہے گا یا کچھ برطانوی حکمرانوں کے وعدے کے مطابق اسے چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دینا چاہئے۔ متبادل کے طور پر عرب مسلموں، عرب عیسائیوں، کردوں اور آرمینیوں کیلئے الگ الگ چھوٹی ریاستوں کے قیام کی صورتیں بھی موجود تھیں۔ اس وقت کے امریکی صدر ولسن ان تبدیلیوں کیلئے قوموں کے حق خود ارادیت استعمال کرنے کے خواہاں تھے اور وہ کردوں کیلئے ایک خودمختار کردستان کے قیام کے حوالے سے بھی واضح مؤقف رکھتے تھے۔ اس وقت اس حقیقت کو یکسر ہی نظرانداز کر دیا گیا تھا کہ کرد ایک الگ لسانی ونسلی گروہ ہیں اور ان کیلئے کردستان کا قیام ہی موزوں رہے گا۔ اگرچہ برطانیہ ایک الگ کردستان کے قیام کا حامی تھا مگر بعد میں اس کا استعماری مفاد اس کے ارادوںکو بدل دینے کا سبب بن گیا۔ اس ارادے کی تبدیلی کا اصل مؤجب فرانس اور برطانیہ کے مابین جنگ کے بعد مفتوح علاقوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے کیا جانے والا ایک معاہدہ تھا۔ فرانس لبنان اور شام کے علاقوں پر قبضہ چاہتا تھا اور برطانیہ نے فرانس کے زیرانصرام جانے والے علاقے کے مقابلے میں اس خطے میں ایک متوازن حصہ چن کر ایک وسیع ریاست تخلیق کی جسے بعد میں عراق کا نام دیا گیا۔ سکیز پیکوٹ معاہدے کے مطابق، یہ سرحد عین کردش علاقوں کے وسط سے کھینچی گئی جس کا مقصد فرانس اور برطانیہ کے زیراثر خطوں میں فرق وضح کرنا تھا۔ یہی تقسیم تھی جس کے باعث برطانیہ ایک وسیع کردستان کا قیام عمل میں نہ لاسکا جس پر وہ عراق کی مانند آسانی سے اپنا اثر ورسوخ قائم کر سکتا ہے۔ مزید برآں اس اقدام سے عراق میں کردوں کو رہنے پر مجبور کر کے وہاں کی شیعہ آبادی کے مقابلے میں ان کے ذریعے توازن قائم کرنا بھی مقصود تھا۔ برطانوی سامراج کو کردش علاقے موصل میں موجود تیل ذخائر کا بھی علم تھا اور وہ اسے عراق کے حصے میں ڈال کر اپنے لئے محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ان اتحادیوں نے 1920میں مشرقی اناطولیہ میں کردستان تخلیق کرنے کی اپنی سی کوشش تو کی تھی مگر ترکوں کی شدید مخالفت کے باعث یہ ممکن نہ ہوسکا۔ اگرچہ کرد اب تک کئی ممالک کی طرف سے اس معاملے میں دھوکہ کھا چکے ہیں مگر وہ اپنے لئے الگ ریاست کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے۔ امریکہ کے عراق پر تسلط نے کردوں کو اپنی ریاست کے حصول کے قریب تر کر دیا تھا مگر داعش افواج کی مداخلت نے انہیں اس ہدف سے ایک مرتبہ پھر دور کر دیا۔ یہ سب دیکھ کر ایک کردش محاورہ سچ ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ ''کردوں کا پہاڑوں کے سوا کوئی سچا دوست نہیں۔''

(بشکریہ پاکستان آبزرور، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں