Daily Mashriq

ہے اب بھی حوصلہ قائم مرے رفیقوں کا

ہے اب بھی حوصلہ قائم مرے رفیقوں کا

چلو اچھا ہوا، ایران نے بالآخر یوکرینی طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری اسے انسانی غلطی قرار دیکر قبول کرلیا ہے اور اسے غیرارادی حادثہ قراردیدیا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ یہ امریکی جریدے کا دعویٰ مسترد کر چکا تھا کہ یوکرین کا طیارہ ایران کی جانب سے میزائل مارے جانے کے نتیجے میں تباہ ہوا۔ ایران کے سول ایوی ایشن چیف علی عباد زاردہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران میں تباہ ہونے والے یوکرین طیارے حادثے سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں، سائنسی نقطہ سے اگر حادثے کا معائنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ طیارے پر میزائل سے حملہ کرنا ممکن نہیں ہے، ایران کی جانب سے طیارے پر کسی قسم کا کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا، اُڑان بھرنے کے تین منٹ بعد ہی طیارے میں آگ بھڑک اُٹھی، آگ شدید ہونے پر پائلٹ نے طیارے سے اُترنے کی کوشش کی تاہم طیارہ پھٹ گیا، ایران کے چیف ایوی ایشن نے کہا کہ اگر بوئنگ کمپنی چاہے تو تہران میں آکر بلیک باکس کا جائزہ لے سکتی ہے، تاہم انہوں نے بلیک باکس دینے سے انکار کر دیا۔ اس ساری صورتحال پر لاکربی کا اسی نوعیت کا حادثہ یاد آگیا مگر اس سے پہلے یہ شعر ملاحظہ فامائیے۔

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

لیبیا کے دو افراد نے جن کے نام یاد نہیں آرہے، لاکربی کے مقام پر اسی طرح ایک طیارے کو مار گرایا تو لیبیا نے اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا، معمر قذافی بھی اس پر اپنے شہریوں کیساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا، عالمی برادری کا ردعمل اس قدر سخت تھا کہ بالآخر لیبیا کو طیارے حادثے کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی بلکہ متاثرہ خاندانوں کو کروڑوں ڈالر معاوضہ بھی ادا کرنا پڑا جبکہ اس کے بعد امریکی قیادت میں لیبیا پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے رہے اور بالآخر معمر قذافی کی حکومت اور اس سے پہلے اس کی مبینہ ایٹمی پروگرام کو تہس نہس کر کے ستیاناس کر دیا، اسی قسم کی کارروائی کا شکار عراق کو بھی کر کے اسے برباد کر کے رکھ دیا گیا، بعد میں دونوں ملکوں پر جو الزامات لگائے گئے تھے یعنی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار جمع کرنے اور اسرائیل کیخلاف جنگ کر کے اسے نقصان پہنچانے کا بیانیہ، اسی کی وجہ سے تباہی اور بربادی دونوں ملکوں کا مقدر بنی۔ تہران کی موجودہ کارروائی اور ابتدائی طور پر اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے بعد تازہ اعترافی بیان نے اپنا ہی ایک شعر یاد دلا دیا ہے جو بھارت کی جانب سے 15اکتوبر 2016ء کو پاکستان کے ایک بے ضرر کبوتر کو پکڑ کر اس کے پر کاٹ کر تفتیش شروع کردی گئی تھی کہ کہیں یہ کوئی جاسوس کبوتر تو نہیں ہے جسے ''چٹھی میرے ڈھول نوں پونچاویں وے کبوترا'' والے پیغامات کیلئے استعمال کیا جارہا ہے، اس موقع پر یہ شعر سرزد ہوا تھا

اس نے جاسوس سمجھ کر مرے پر کاٹ دیئے

میں تو عالم کیلئے امن کا سندیسہ ہوں

ایران نے اب جو وضاحت دیتے ہوئے طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے، وہ یہ ہے کہ طیارے کو حساس فوجی علاقے کے قریب آنے کی وجہ سے غلطی سے گرایا گیا، یہ انسانی غلطی ہے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی، تاہم اس ساری صورتحال میں ایران کی کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف سب سے بڑی بات ہے کیونکہ طیارہ جس علاقے میں گرایا گیا وہ چونکہ خود ایران ہی کا ہے اسلئے کسی اور سمت سے طیارے کو میزائل مارنا جہاں ممکنات میں سے ہے وہاں ایسا کوئی سلسلہ بنتا ہی نہیں ہے۔ طیارے میں عملے سمیت کل 176افراد سوار تھے، جن میں ایران کے سب سے زیادہ یعنی 82جبکہ کینیڈا کے 76مسافروں کے علاوہ دیگر ملکوں کے مسافر بھی موجود تھے، اب یقینا متعلقہ تمام ملکوں کیساتھ ایران کو معاملات طے کرنے پڑیں گے، اخلاقی طور پر معذرت تو بنتی ہی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کے اہل خاندانوں کو بھاری معاوضوں کی ادائیگی پر بھی طویل مذاکرات کئے جانے کے امکانات ہیں، وہ بھی اس صورت میں جب عالمی برادری اور متعلقہ ممالک اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں اور معاملے کو رفع دفع کرنے پر راضی ہوسکیں، اگرچہ بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا اور جو طاقتیں ایران کیخلاف ایٹمی قوت بننے کے سوال پر اس کے اقدامات کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں وہ اتنی آسانی سے معاملے کو رفع دفع کرنے پر راضی نہیں ہوں گی اور اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے ممکنہ طور پر محاذآرائی میں تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کرسکتی ہیں اور ایران پر ایسی شرائط لاگو کر سکتی ہیں جن کا مقصد اسے بھی عراق اور لیبیا کی طرح ''ٹھکانے'' لگانے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا، البتہ امریکی صدر ٹرمپ کی اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ بقول ان کے ایران نے کبھی لڑائی جیتی نہیں تاہم مذاکرات میں اس نے کبھی ہار کی شکل نہیں دیکھی، یوں اگر اس حوالے سے ایران اور متعلقہ ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو ایرانی اپنی شیریں زبانی کی بدولت سرخرو ہو کر اُٹھیں گے، ویسے ایرانی چیف آف ایوی ایشن کا یہ استدلال درست نہیں ہے کہ طیارے کا بلیک باکس یوکرین کے حوالے نہیں کیا جا سکتا اور وہ چاہیں تو یہاں آکر بلیک باکس کا معائنہ کرلیں، یہ طرز استدلال یوں غلط ہے کہ بلیک باکس یوکرین کی ملکیت ہے اور اس کو واپس نہ کرنے سے کئی سوال اُٹھ سکتے ہیں جو شاید آگے چل کر ایران کیلئے پیچیدگیاں پیدا کریں، اب جبکہ ایران نے کھلے دل سے حادثے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے تو پھر بلیک باکس نہ دینے کا کیا جواز ہے؟ ایران کے مؤقف کو حماد حسن کے تازہ شعر کے آئینے میں جانچا جا سکتا ہے کہ

ہے اب بھی حوصلہ قائم مرے رفیقوں کا

ابھی تو کر نہ سکا سر کسی کا خم شب وروز

متعلقہ خبریں