Daily Mashriq

تعلیمی نصاب کی حقیقت

تعلیمی نصاب کی حقیقت

نصاب ''لاطینی '' زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، وہ راستہ جس پر چل کر ایک شخص اپنی منزلِ مقصود پالیتا ہے۔ طلباء کے نزدیک نصاب سے مراد وہ اسباق ہیں جو ایک استاد کمرۂ جماعت میں پڑھتا ہے۔تعلیمی مفکرین نے مختلف انداز میں اپنا اپنا مفہوم بیان کیا ہے۔ بعض نے اس کو وسیع معنوں میں استعمال کیاہے، یعنی نصاب ایک ایسی جدو جہد کا نام ہے جو تعلیمی مقاصد کے حصول کے لئے مدرسہ ، کمرۂ جماعت ، لائبریری ، لیبارٹری یا کھیل کود کے میدان میں کی جاتی ہے۔ اور جب کہ بعض مفکرین نے اس کو محدود انداز میں استعمال کیا ہے، یعنی وہ تعلیمی مواد جس کو ہفتہ وار یا ٹرم وائز یا سمسٹر وائز تقسیم کیا جائے۔ ماہرین تعلیم نے نصاب کی تعریف کچھ یوں بیان کی ہے۔ الزبتھ ماشیا کے مطابق نصاب تدریسی مواد کو کہتے ہیں۔ جارج پائن کچھ یوں بیان فرماتے ہیں۔ ''نصاب اساتذہ اور منتظمین مدرسہ کو میسر اُن جملہ حالات و مواقع کا نام ہے جن کے ذریعے مدرسہ میں آنے والے بچوں اور نوجوانوں کے کردار میں تبدیلیاں پیدا کی جاتی ہیں ''۔بلونڈ کے نظریے کے مطابق نصاب ایک طالب علم کے تمام تجربات پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں اسے مدرسہ کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔الغرض نصاب سے مراد مدرسہ کی وہ مکمل جدوجہد ہے جو مدرسے کے اندر اور مدرسے سے باہر اپنے متعین مقاصد کے حصول کے لئے کی جاتی ہے۔نصاب کی تیاری کئی مدارج پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ معاشرتی ضروریات کے تجزیے اور مقاصد کے مدارج سے شروع ہو کر تعلیمی مواد ،طریقہ ہائے تدریس اور جائزہ کے عمل سے گزر کر تکمیل تک پہنچتی ہے۔نصاب کی تیاری کوئی ساکن و جامد عمل نہیں ہے بلکہ معاشرے کی ضروریات کیساتھ ساتھ اس میں تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے۔آخری مدارج میں اس کاجائزہ پہلے سے منتخب شدہ مقاصد کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ اگر مقاصد کا حصول نہیں ہو رہا تو پھر نئے سرے سے یہ عمل شروع کرنا ہوتا ہے۔پس نصاب کی تبدیلی ایک ایسا مضمون ہے جو کئی مدارج پر مشتمل ہے۔ مثال کے طور پر نصاب میں تبدیلی کا عمل مواد کو یکجا کرنے کے مرحلے میں ہے تویہ معاشرتی ضروریات کے تجزئیے اور مقاصد کے مدارج سے گزر چکا ہوگا۔ نصاب میں تبدیلی کوئی ایسا عمل نہیں ہے کہ آپ آئیں اور اپنا حصہ ڈال کر چلے جائیں۔اور نہ ہی کوئی ساکن عمل ہے کہ اس نے تبدیلی کے بعد رُک جانا ہے۔ امام غزالی پہلے مسلمان مفکر ہیںجنہوں نے دنیاوی علوم کو اسلامی نصاب میں شامل کیا ۔آپ کے نقطہ نظر میں نصاب اس طرح ہونا چاہیے۔ کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کیلئے مفید ہو۔ آپ نے فرض عین اور فرض کفایہ دونوں کو نصاب میں شامل کیا۔ ابن خلدون نے علو م کو طبعی اور غیر عقلی علوم کے د و گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔ سر سید احمد خان نے اسلامی تعلیم اور مغربی علوم میں امتزاج یعنی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ آپ کی آرزو تھی کہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو، اور دوسرے ہاتھ میں جدید علوم اور سر پر لا الہ الا اللہ کا تاج۔ علامہ اقبال خود تعلیم کو اور حصول تعلیم کو مقصد حیات قرار دیتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اسلامی اقدار کا احیاء اور پھیلائو اور اسلامی اصولوں کی پاسداری تعلیم کا اولین مقصد ہے۔ آپ کے خیال میں تعلیم کا اصل مقصد خودی، اپنی روایات کا پاس اور اپنی بقا ہے۔ اور تعلیم اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ آپ فرماتے ہیں۔

شیخ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روح انسانی

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایک مکمل نصاب ہوتا جس میں عصری علوم کے اندردینی علوم کو ضم کیا جاتا۔تاکہ افراد کی تعلیم و تربیت اسلامی عقائد و نظریات کے زیر سایہ ہوتی۔ اور اُن میں رو حانی اقدار پیدا ہوکرمعاشرے کے بہترین اور مفید شہری ثابت ہوتے۔ لہٰذا موجود نصاب کو صحیح خطوط پر استوار کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم مغرب کی تحقیق اور ایجادات کو استعمال کرتے ہیں، یعنی اُن کے فروٹ کو صرف کھاتے ہیںاور ہم اُن کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔مثال کے طور پر مغرب نے کافی تحقیق کے بعدکہا کہ مدرسوں میں مار پٹائی کی بجائے پیار سے پڑھنا اچھے نتائج دیتا ہے۔اَب اُن معاشروں میں مدرسوں میں مار پٹائی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ہم نے بھی اُن کے فروٹ کو کھانا شروع کردیا اور مدرسوں میں ''مار نہیں پیار'' کا نعرہ لگا دیا۔میرے کہنے کا مقصود یہ ہے کہ اُنہوں نے اگر مار پٹائی پر پابندی لگائی ہے تو انہوں نے ضرور اس کے متبادل طریقے بھی بتائے ہوں گے کیوں کہ اُنہوںنے اس پر تحقیق کی ہے۔ اور ہم نے صرف مارپٹائی پر پابندی عائد کردی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی و خوشحالی امت مسلمہ سے روٹھ گئی ہے۔ پس یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب کو اسلامی عقائد، اصولوں اور نظریات کے مطابق بنا لیں۔ اور ہمیں ایک ایسا نصاب تشکیل دینا ہوگا۔ جو فرد کی دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے تعمیر و تشکیل کریں۔نصاب کا اولین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ میں ان کے دین اور نظر یہ حیات کی آگاہی پیدا کرے۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ افراد کو زندگی کا مفہوم اور مقصد دنیا میں انسان کی حیثیت ، توحید ورسالت اور آخرت کے زندگی پر اثرات اور اخلاقیات کے اسلامی اصول سے آگاہ کیا جائے۔ نصاب میں یہ قوت موجود ہوکہ وہ ایسے افراد پیدا کریں۔ جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریات پر بھر پور یقین رکھتے ہوں اور اسی یقین کی روشنی میں زندگی کے ہر میدان میں وہ اپنا راستہ خود بنا سکیں۔ قرآن حکیم کا فرمان ہے کہ اہل علم، حق اور سچائی کے گواہ ہیں ۔

متعلقہ خبریں