Daily Mashriq

سب کو نئی سیاسی جماعت مبارک ہو

سب کو نئی سیاسی جماعت مبارک ہو

قلقلا خان بھی عجب آدمی ہیں جس روز یہ خبر شائع ہوئی کہ اگلے روز قومی اسمبلی میں افواج پاکستان کے سربراہوں کی مدت ملازمت اور ان کی توسیع کا بل پیش کیا جارہا ہے تو دندناتے غریب خانے میں تشریف لائے سانس لئے بغیر بغل گیر انداز میں باچھیں کھلا کر منہ سے جاگ اُگلتے ہوئے فرمانے لگے مبارک ہو مبارک ہو، ملک میں ایک نئی سیاسی جماعت نے وجود پا لیا ہے۔ سب ہی ایک پیج پر آٹپکے ہیں، سبھی حجرے میں موجود چونک گئے، ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہوئے معروف دانشور قلقلا خان آف صافی کا منہ تکنے لگے کہ یہ مرد ناصح کیا اس ٹھٹھرتی سردی میں دھنیا تو نہیں پی گیا، دور دور تک کسی نئی سیاسی جماعت کے وجود پذیر ہونے کی کوئی خبر نہیں تاہم یہ یقین تھا کہ ہوا کچھ ضرور ہے کیونکہ عقل وبینا شخص چھوڑتا رہتا تو دور کی ہے مگر بات تیربہدف ہی ہوتی ہے۔ پوچھا ہوا کیا ہے کہاں کی سیاسی جماعت کس نے بنا ڈالی، تو بولے کہ صبرصبر ابھی سب معلوم ہوا جاتا ہے۔ کیا یہ خبر نہیں سنی کہ کل قومی اسمبلی میں توسیع کا بل منظور ہو جائے گا۔ کہا بل پیش ہی کب ہوا ہے تو بولے کہ نہیں ہوا ہے تو پیش ہو جائے گا اور پیش ہونے کیساتھ ہی پاس بھی ہو جائے گا۔ سب نے کہا کہ بہت خوب مگر اس امر کا نئی سیاسی جماعت سے کیا تعلق ہے، بولے کیوں نہیں مسلم لیگ ق، پی پی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن سبھی ایک ہی ورق پر سما گئے ہیں۔ استفسار ہوا وہ کیسے؟ قلقلا خان بولے کل دیکھ لینا، منٹوں کی بات ہے پہلے تو عمران خان اچھل کود کرتے ہوئے کہتے تھے کہ فوج اور پی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں، اب کہا کریں گے کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں مگر مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، حاصل بزنجو وغیرہ بھی تو ہیں کیا وہ کسی اور صفحہ پر ہیں، بھئی وہ اب نہ تین میں نہ تیرہ میں رہے، مولانا فضل الرحمان تو اب راگ گھنشری میں یہ الاپ کیا کریں گے کہ جو وعدہ کیا ہے نبھانا پڑے گا، اسٹیبلشمنٹ روکے چاہے عمرانی طاقت روکے چودھریوں کو آنا پڑے گا۔ اب یہ چودھری برادران کی مرضی ہے کہ وہ آتے ہیں یا نہیں مگر سیاسی تاریخ کی گواہی ہے کہ چودھری برادران صرف اسی کی طرف جاتے ہیں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو لاٹھی بردار رہ کر بھی ان کی سعادت سے محروم رہے تھے۔ قلقلا خان سے جب استفسار کیا گیا کہ نئی سیاسی جماعت کا کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا جب سب کا ایجنڈا ایک ہوگیا ہے اور مستقبل قریب میں یہ سب اکٹھے ہی فیصلے کریں گے تو اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مسجد قائم رکھنے کا کیا جواز ہے۔ ان سب اتحادیوں کو اب ایک سیاسی جماعت میں پرو دیا جانا چاہئے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسریا، وہ بولے کہ آسانی کیلئے فارمولا یک جماعتی کی رہنمائی کر دیتا ہوں، وہ اس طرح کہ اس ایک پیج کی سیاسی جماعت کے صدر بلاول بھٹو بن جائیں یا آصف زرداری کو بنا دیا جائے، شہباز شریف کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنا دیا جائے، نائب صدر ایم کیو ایم سے چن لیا جائے چونکہ این آر او کی کاوشوں میں چودھری برادران کا بڑا ہاتھ ہے تو چودھری شجاعت کو نئی پارٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا جائے، یہ کہہ کر قلقلا خان تو نو دو گیارہ ہو لئے تاہم اگلے روز کا منظر وہی تھا جو ممتاز دانشور قلقلا خان کھینچ گئے تھے۔ناقدین کا اب اصرار ہے کہ عمران خان نے جتنے یوٹرن لئے ہیں اس میں سب سے بھاری یوٹرن مسلم لیگ ن کی ہے، پرویز مشرف نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مسلم لیگ ن کو سیاست بدر کرنے کیلئے لاکھ جتن کئے تھے مگر کچھ حاصل نہ کر سکے تھے۔ مسلم لیگیوں کا ری پبلکن پارٹی کی راتوں رات تشکیل سے یہ قبلہ ہو گیا تھا کہ وہ صاحب اقتدار کی ہر سیاہ رات میں مسلم لیگ کو بکھر دیا کرتے ہیں چنانچہ جب ایوب خان روبہ زوال ہوئے تو کنونشن لیگ بکھر کر پی پی کی گود میں جا بیٹھی، اسی طرح جنرل ضیاء کے دور میں پیر پگارا کی قیادت میں سلفیاں بناتی رہی تاہم البتہ جب سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دور میں ایک نئی مسلم لیگ نے جنم لیا تو پیر پگارا نے یہ کہہ کر کہ وہ جی ایچ کیو کیساتھ ہیں اپنا حصہ فنکشنل لیگ کی صورت میں وصول کر لیا تھا کیونکہ محمد خان جونیجو نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنی پہلی تقریر میں دو ٹوک اعلان کر دیا تھا کہ مارشل لا اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے چنانچہ پیر پگارا کو اپنا راستہ تو جدا کرنا تھا بہرحال قلقلا خان کی بات کو کسی نے مذاق میں بھی نہیں لیا، تاہم فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ دنوں جب یہ اعلان کیا کہ اپوزیشن اور حکومت ملک کی بہتری کیلئے اکھٹے کام کرینگے، پارلیمنٹ کی تاریخ میںکبھی ایسا نہیں ہوا کہ اپوزیشن اور حکومت کے کردار میں مطابقت رہی ہو کہیں نہ کہیں اختلاف پایا جاتا ہے مگر قومی اسمبلی میں حکومت نے قومی احتساب (ترمیمی) بل2019 سمیت چھ آرڈیننس اپوزیشن کی مشاورت کے بعد واپس لے لئے جبکہ اپوزیشن سے ان آرڈیننس پر ہونے والی مشاورت کو ایوان کی کارروائی کا حصہ بنا دیا' مذکورہ آرڈیننسز میں سے4 (خواتین کا وراثتی جائیداد میں حصہ، قانونی معاونت اتھارٹی، وراثتی سرٹیفکیٹ، اعلیٰ عدلیہ ڈریس کوڈآرڈیننس) کو بلوں کی شکل میں منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن کا نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 اور حکومتی بے نامی کاروباری معاملات آرڈیننس2019 مزید غور وخوض کیلئے قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے گئے جبکہ بچوںکے اغواء اور زیادتی کی روک تھام کیلئے زینب الرٹ (جوابی ردعمل، بازیابی) بل2019سمیت6قوانین بھی قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہو گئے۔ اسمبلی میں اس اتفاق رائے کے مناظر پر متحدہ مجلس عمل کے رکن عبدالاکبر چترالی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے این آراوکر لیا' ہمیں اعتماد میں نہیں لیا' آرڈیننس واپس لینے کیلئے کی جانے والی مشاورت میں ہمیں شامل نہیں کیا گیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کا غیرمعمولی مظاہرہ ہوا۔ حکومت نے قومی اسمبلی میں 6آرڈیننس واپس لے لئے۔ قوم کو مبارک ہو کہ حسن اتفاق کے پیدا ہونے سے عوام کے دلدر بھی دور ہو جائیںگے اور مسلم لیگ ن نے ووٹ کو عزت دو کی جدوجہد بھی سر کر لی۔ اگر ناقدین ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو نہ سمجھ پائے تو اس میں نواز شریف قصوروار نہیں ٹھہرتے نہ قلقلا خان جیسے دانشور۔

متعلقہ خبریں