Daily Mashriq

خوفناک واقعات اوروالدین کی ذمہ داری

خوفناک واقعات اوروالدین کی ذمہ داری

تھوڑے عرصے کے دوران خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں قتل کے واقعات کے پیچھے لڑکیوں کا ہاتھ ہونا اور قتل کرانے کی تحریک ومنصوبہ بندی میں لڑکیوں کا کردار ایک ایسی خوفناک صورتحال ہے جسے دیکھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔خیبرپختونخوا کا وہ معاشرہ اب بھی اپنا وجود کھویا نہیں جہاں لڑکیاں ایک محفوظ حصار کے اندر زندگی بسر کرتی ہیں اس حصار میں نقب جس چھوٹے سے آلے کے باعث لگ رہی ہے اس کا تو ہر ایک کو بخوبی علم ہے لیکن سارا الزام اس آلے کو دے کر بری الذمہ نہیں ہوا جا سکتا۔جاری صورتحال میں جہاں آبگینوں کی حفاظت اور ان کے تحفظ پر مزید توجہ کی ضرورت ہے وہاں والدین کو اس قسم کے واقعات کے سامنے آنے والی وجوہات پر بھی غور کرنا چاہیے اور اگر خدانخواستہ کوئی مماثلت کے حامل صورتحال نظر آئے تو بجائے اس کے کہ اس سے صرف نظر کرکے اس مسئلے کو نرمی اور تحمل کیساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ منگنی اور نکاح کے بعد بہت عرصہ تک عدم رخصتی کی بہت ساری قباحتیں سامنے آنے لگی ہیں۔ کوشش کرنی چاہئے کہ رشتہ طے ہونے کے بعد طویل انتظار کرائے بغیر فریقین کو سادگی کیساتھ رخصتی کا انتظام کرلینا چاہئے۔تعلیم کیلئے گھر سے نکلنے والوں کو اعتماد ضرور دینا چاہئے البتہ کسی ایسی صورتحال کا شائبہ ہو تو اس پر نظر رکھنے اور وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ والدین کو اپنے بچوں کو اس درجہ اعتماد دینا چاہئے کہ بچے ان سے کسی بھی قسم کے معاملہ پر بات چیت ومشاورت کرسکیں۔ بچوں کی تربیت پر خاص طور پر توجہ کی ذمہ داری نبھانا والدین کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ بچوں کے بہکنے اور خدانخواستہ غلط ہاتھوں میں جانے اور سنگین غلطی کے ارتکاب کی نوبت نہ آئے۔

ہر حادثے کے بعد سلینڈر چیک کرنے کا لا حاصل اقدام

پشاور کے نواحی علاقے خزانہ چا رسدہ رو ڈ پر سی این جی پمپ میں مو ٹر کا ر کے اندرسی این جی کا سلنڈر پھٹنے سے زورداردھماکہ کے نتیجہ میںماں اور3سالہ بیٹی کے جاں بحق اور3افراد کے زخمی ہونے کے واقع کے روزہی غیر معیاری سلینڈر رکھنے والی گاڑیوں کیخلاف مہم چورکی داڑھی میں تنکا کے مصداق امر ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہوتا اور اس کے فوراً بعد غیرمعیاری سلینڈروں کیخلاف مہم شروع ہوجاتی تو اسے سنجیدہ قدم قرار دیا جا سکتا تھا مگر یہاں آئے روز اس قسم کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ اس کی بار بار نشاندہی ہوتی ہے، انتظامیہ مہم شروع کرنے اور کارروائی کا عندیہ ضرور دیتی ہے لیکن عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ چلتے پھرتے بم گاڑیوں میں نصب ہیں کسی گاڑی کے مالک اور ڈرائیور سے تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے موت کے سامان کو جان بوجھ کر ساتھ لیتے پھرے یقینا غفلت اور لاعلمی اور شعور کی کمی ہی اس کی وجہ ہوگی جس بناء پر سیلنڈروں کا معائنہ کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس سے قطع نظر شہری اپنی ذمہ داریوں اور اپنے تحفظ کی ذمہ داریوں سے ارتکاب غفلت کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں