Daily Mashriq

انسانی غلطی سے بڑھ کر غلطی

انسانی غلطی سے بڑھ کر غلطی

ایران نے بالآخر یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرارادی طور پر انسانی غلطی کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر جاری بیان میں کہا کہ رواں ہفتے کے آغاز میں تباہ ہونے والا یوکرینی طیارہ پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس ملٹری سائٹ کے قریب پرواز کر رہا تھا اور اسے انسانی غلطی کی وجہ سے غیرارادی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ذمہ دار فریقین کو فوج کے اندر جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جائے گا اور ان کا احتساب ہوگا۔ ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر نشر کئے گئے بیان میں طیارے حادثے میں ہلاک متاثرہ افراد کے خاندان سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ ایرانی صدر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اس تباہ کن غلطی پر شدید افسوس ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کئے ٹویٹ میں کہا کہ ''ایک افسوسناک دن ہے، مسلح افواج کی اندرونی تحقیقات کے ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی مہم جوئی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے وقت انسانی غلطی اس حادثے کا باعث بنی''۔ خیال رہے کہ8جنوری کو تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اُڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ طیارے میں 82 ایرانی،63کینیڈین، سویڈش،4افغان،3جرمن اور 3برطانوی شہری جبکہ عملے کے9ارکان اور2مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔ خیال رہے کہ حادثے کے بعد عالمی رہنماؤں نے طیارہ حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر طیارے کی تباہی کا الزام عائد کیا تھا۔ علاوہ ازیں 6جنوری کو نیویارک ٹائمز نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں ایران میں یوکرینی طیارے پر میزائل فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے اس ویڈیو کی تصدیق کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ ایرانی قیادت کا یوکرین کے مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی غلطی کا اعتراف اور معافی کی خواستگاری مناسب اقدام ہے لیکن ایرانی اہلکاروں نے جس قسم کی غلطی کا ارتکاب کیا ہے یہ غلطی انسانی غلطی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ایران امریکہ کو جواب دینے کی ٹھان چکا تھا اور میزائل داغنے کی تیاری میں تھا کم ازکم مسافروں کی سلامتی اور احتیاط کے طور پر ایئرپورٹ کو سویلین پروازوں کیلئے بند کر دینا چاہئے تھا۔ اس واقعے سے جہاں ایران کے حد درجہ دباؤ میں ہونے کا احساس ہوتا ہے وہاں یہ جواب دینے پر تلی ہوئی ایرانی قیادت کی عجلت اور عدم منصوبہ بندی کا بھی مظہر ہے۔ یوکرین کا طیارہ ایئرپورٹ سے بمشکل آٹھ دس کلو میٹر پرواز کے بعد ہی مار گرایا گیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طیارہ گرانے والوں کو کمرشل پرواز اس کی سمت کا کیسے اندازہ نہ ہوا کمرشل پرواز اور کسی ممکنہ حملہ آور نوعیت کے حملہ میں کوئی مماثلت نہیں ہوتی۔ ریڈار اور جدید مواصلاتی رابطوں کی موجودگی میں بہ آسانی اس پرواز کی شناخت ممکن تھی کنٹرول ٹاور سے اس پرواز کو کلیئرنس ملنے اور طیارے کے ایرانی فضا میں پرواز مصدقہ تھی، طیارہ نے ایرانی ایئرپورٹ ہی سے اُڑان بھر ی تھی کوئی باہر سے آنے والی پرواز بھی نہیں تھی، بہت سارے سوالات شکوک کا باعث ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کارروائی سے پیشہ وارانہ مہارت اور حد درجہ عدم احتیاط اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ عیاں ہے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جو ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ایران اپنے ایک جنرل کی ہلاکت پر امریکہ سے بدلہ چکا رہا تھا کہ خود اس کے اہلکاروں کے ہاتھوں اتنا بڑا سانحہ رونما ہوا۔ کسی فوجی عہدیدار کو تاک کر نشانہ بنانے اور غلطی سے پورا جہاز تباہ کرنے میں یقینا بڑا فرق ہے۔ اب یہ ان ممالک پر منحصر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے قتل خطاء معاف کرتے ہیں خون بہا لیتے ہیں یا اور کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ طیارے میں خود ایرانی شہریوں کی بڑی تعداد شامل تھی جس سے خود ایران کے اندر بھی صف ماتم بچھ جانا فطری امر تھا۔ جس قسم کی سنگین انسانی غلطی کا ارتکاب ایران میں ہوا ہے وہ تہران کیلئے خفت کا باعث ضرور ہے، آئندہ اس سے اس قسم کی کسی ممکنہ سنگین غلطی کے ارتکاب کی روک تھام کا تقاضا ہے کہ ایران اس کے ارتکاب کی تمام تفصیلات دنیا کو بتائے تاکہ شعوری طور پر اس قسم کے واقعات کے اعادے کی پیش بندی کی جائے اور اس غلطی کا ارتکاب نہ ہو جس کا ارتکاب ایرانی عہدیداروں سے ہو چکا ہے۔

ٹیسٹنگ سروسز پر کرپشن کے سنجیدہ الزامات

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے غیرسرکاری اداروں کی جانب سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کیلئے تحریری امتحان لینے کے حوالے سے جس قسم کے سنگین نوعیت کی صورتحال بیان کی ہے اس سے مکمل طور پر اگر اتفاق نہیں کیا جاسکتا تو اسے یکسر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اپوزیشن کے مطابق ٹیسٹنگ سروسزاداروں نے گزشتہ5سالوں کے دوران خیبر پختونخوا کے اُمیدواروں سے55ارب روپے وصول کئے۔ یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہٹیسٹنگ سروسز میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور پرچے آؤٹ کرائے گئے جس پر ٹیسٹ منسوخ بھی کئے گئے مگر حکومت نے اس کی تحقیقات نہیں کی۔ اب حکومت نے اعلان کیا کہ ٹیسٹنگ سروسز سے متعلق وہ معاملات کو آئندہ ہفتہ حل کرلیں گے اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو حکومت ٹیسٹنگ سروسز کو بلیک لسٹ کرکے اس پر صوبے میں پابندی عائد کرے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی میں ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کی شکایت ہر متلاشی نوجوان کرتا ہے، میڈیا کو باقاعدہ طور پر بعض عناصر اور افراد کی نشاندہی پر مبنی پیغامات بھی ملتے ہیں حزب اختلاف نہ صرف ٹیسٹنگ ایجنسی پر الزامات دہرارہی ہے بلکہ اس میں ایک حکومتی شخصیت کی شراکت داری کا بھی تذکرہ ہو رہا ہے اسی طرح ایک اور ٹیسٹنگ ایجنسی میں صوبے کی اعلیٰ شخصیت کے قرابت داروں کی شرکت کی چہ میگوئیاں ہیں۔ ہمارے تئیں الزامات کی حقیقت تو بہر حال جامع تحقیقات اور ثبوتوں کی روشنی ہی میں سامنے آئے گی اس سے قبل سب الزام تراشی کے ضمن میں آئیں گے البتہ جو امر قابل توجہ اور شکوک وشبہات کا باعث ہے وہ یہ کہ صوبے میں نوجوانوں کی بار بار کی شکایات والزامات اور مختلف اضلاع میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں پر لگائے جانے والے الزامات کو مبنی بر حقیقت قرار دے کر پرچے منسوخ کئے گئے سوشل میڈیا پر پرچے آئوٹ ہوئے لیکن اس کے باوجود حکومت نے ہنوز کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جس کی توجیہہ حکومت ہی پیش کر سکتی ہے۔حزب اختلاف نے اس مسئلے کو ایوان میں سامنے لا کر اپنا کردار ضرور ادا کیا ہے اور حکومت نے یقین دہانی بھی کرادی ہے جس کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس پر کیا کارروائی کرتی ہے اور ٹیسٹنگ سروسز کو کیا سزادی جاتی ہے ہمارے تئیں ان کو محض بلیک لسٹ کرنا ہزاروں نوجوانوں سے ہونے والی ناانصافی کا ہر گز ازالہ

نہیں جس بڑے پیمانے پر کرپشن کاالزام لگایا جارہا ہے اس کا تو نیب کو نوٹس لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں