Daily Mashriq

خود کش حملہ ، حفاظتی اقدامات کیوں نہیں تھے ؟

خود کش حملہ ، حفاظتی اقدامات کیوں نہیں تھے ؟

اے این پی کے انتخابی جلسے میں خودکش دھماکہ کر کے 2018ء میں 2013ء کی تاریخ دہرایا جانا دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوے پر بڑاسوالیہ نشان ہے ۔ گزشتہ روز موجودہ انتخابات کے ماحول میں بڑا فرق یوں ہے کہ اس وقت دہشت گردوں سے مقابلہ اور ان کا صفایا کرنے کی مہم جاری تھی اور دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی نہیں تھی مگر اب دہشت گردوں کی نہ صرف کمر توڑی جا چکی ہے بلکہ ان کے سر کردہ سر غنہ بھی کیفر کردار تک پہنچائے جا چکے ہیں اس کے باوجود دہشت گردوں کی منصوبہ بندی اور سیاسی جماعت کے جلسے میں خود کش دھماکہ کر کے بے گناہوں کے خون سے زمین کو گلنا ر بنا دینا سیکورٹی سمیت کئی لحاظ سے قابل غور ہے ۔ ایک تسلسل کے ساتھ اس قسم کے حملوں کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ پیشگی اطلاعات اور واضح تنبیہہ بھی تھی لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ خطرات میں گھری جماعت کے جلسے کو تحفظ دینے میں ناکامی کو ناکامی گردانا جائے یا پھر اسے نگران حکومت پولیس اور سیکورٹی اداروں کا شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دینا قرار دیا جائے ۔ دہشت گردوں کی مذمت اور متاثرین سے ہمدردی اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزائم بارے دعوے سن سن کر کان پک چکے ہیں جبکہ ان کی مذمت میں بھی بہت سے قرطاس پر لکیریں کھینچی جا چکی ہے سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک عین متوقع اور سب سے زیادہ خطرات اور اموات کا سامنا کرنے والی جماعت اور خاندان کے اہم فرد کے جلسے کو تحفظ دینے میں نگران حکومت اور پولیس کی کیا سعی تھی الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داریوں کا کس قدر احساس تھا دہشت گردوں اور خودکش حملہ آوروں کیلئے میدان کیوں اور کس نے کھلا چھوڑا۔ یہ کس کی ناکامی اور کس کی بر تری کا مظہر معاملہ ہے ۔ ان سوالات کے جوابات کو ایک طرف رکھ کر اگر ان معاملات اور امور کا جائزہ لیا جائے تو جو انتخابات کے اعلان سے گزشتہ روز کے خودکش حملے تک سامنے آئے تو حیرت ہوتی ہے کہ عندیہ بھی دیا گیا اور اس حد تک صراحت سے کہ نوشتہ دیوار کی مانند مگر بند باندھنے اور دہشت گردوں کو ہدف تک پہنچنے سے روکنے اور حکومتی اقدامات اور انتظامات کو دہشت گردوںپر کاری اور بھاری ثابت کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہی شاید محسوس نہ کی گئی ۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ الیکشن2018 میں امیدواروں پر دہشتگرد حملے ہو سکتے ہیں اور بیرون ملک سے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے خدشات ہیں۔ صوبوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر کوآرڈی نیشن کیلئے کمیٹی بنانے کیلئے وزیراعظم ہاؤس اور کابینہ ڈویژن کو خط بھی لکھا گیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا اس کا تو علم نہیں مگر ایک انتخابی امیدوار سمیت درجنوں افراد دہشت گردی کا نشانہ بن کر لقمہ اجل بن گئے یا زخمی ہوئے ۔ اگر دیکھا جائے تو 2013ء کے انتخابات اس سے بھی ابتر صورتحال میں بحسن وخوبی منعقد ہوئے تھے اور عوام نے تمام تر خطرات کے باوجود حق رائے دہی کے استعمال میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کے باوجود کہ سیکورٹی کی صورتحال کے باعث بعض سیاسی جماعتوں کو کھل کر انتخابی مہم چلانے کاموقع نہ ملا۔ اس دوران سیاسی رہنما خودکش حملوں کا نشانہ بھی بنے اور بعض جماعتوں کو بغیر انتخابی مہم کے ہی انتخاب لڑنا پڑا۔ نگران وزیرداخلہ اعظم خان نے بھی عندیہ دیا تھا کہ انتخابات میں ریلی یا جلوس کو نشانہ بنانے کے خطرات ہیں، دہشت گردی کا خطرہ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ہمیں متعلقہ حکام کے بیانات پر اعتراض نہیں اعتراض اس بات پر ہے کہ آئے روز حملوں اور مداخلت کا تو ڈھنڈورہ پیٹا جاتا رہا لیکن ان خطرات کی پیش بندی کیلئے اقدامات سے عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ وہ کونسے عناصر ہیں اور کیونکر ایسا کرسکیں گے۔ وہ عناصر سرحدوں سے کیسے آئیں گے ان کو کیونکر آنے دیا جائے گا یہاں آکر وہ کہاں الیکشن کے دن تک چھپے رہیں گے اور کیسے باہر نکل کر آزادانہ طریقے سے وہ انتخابی عمل اور انتخابات کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ ہمارے اداروں کا کردار کیا ہوگا۔ ہماری پولیس کیاکر رہی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی کے انتظامات وقتی اور برموقع محض احتیاط کا تقاضا ہی ہوتے ہیں۔ اصل سیکورٹی اقدامات وہ ہوتے ہیں کہ خطرات کو پہلے ہی سے ختم کیا جائے۔ہمیں اس امر پر سخت تعجب ہے کہ نگران وزیراعلیٰ بیان دیتے ہیں کہ جن کی غفلت سے دھماکہ ہوا انہیں فارغ کیا جائے گا ۔ بعد از خرابی بسیار اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد اور اس قسم کی بیان بازی سے نجانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نگران وزیراعلیٰ چیف سکریٹری اور آئی جی ہی کی ذمہ داری تھی کہ وہ محولہ تنبیہات کی روشنی میں صورتحال کو دیکھتے اور بروقت سخت حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی جاتی۔ ایک واقعے کے رونما ہونے سے قبل جو غفلت علاقہ ایس ایچ او کی ہو سکتی ہے اس واقعے کی پیشگی معلومات کے باوجود ناکام بنانے میں ناکامی کی ذمہ داری نگران حکومت وزارت داخلہ اور آئی جی پر عائد ہوتی ہے سی سی پی اور علاقہ ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ بہر حال اب واقعہ رونما ہو چکا دہشت گرد کاری ضرب لگا چکے گزشتہ انتخابات میں والد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے تو اس مرتبہ بیٹے کو نشانہ بنایا گیا بطور سیاسی جماعت کے ایک مرتبہ پھر سیاسی عمل اے این پی کیلئے سرکاسودا قرار پایا نجانے آنے والے دنوں میں مزید کیا کچھ سامنے آئے اور انتخابی میدان خدانخواستہ مقتل اور میدان جنگ بن جائے۔ انتخابی میدان کو مقتل ثابت کرنے کیلئے تو یہ حملہ ہی کا فی تھا اس کے بعد ہمارے محافظین کو سیاسی رہنمائوں کی حفاظت کا کس حد تک احساس ہوگا اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ماحول ملے گا بھی یا نہیں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کے عوامی مقامات پر جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں وہ پہلے ہی انتخابات میں ماں جیسی ہستی کھو چکے ہیں دیگر سیاسی جماعتیں بھی مار گزیدہ ہیں ۔ بعض سیاسی جماعتوں کو مختلف نوعیت کے دبائو اور چیلنجوں کا سامنا ہے یہاں تک کہ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی خطرات کی زد میں بتایا جاتا ہے۔ ایسے میں سیاست کہاں کی باقی رہے گی انتخابات کا انعقاد کیسے ہوگا اور لوگ گرمی کی شدت سیاستدانوں اور سیاسی عمل سے مایوسی کے عالم میں اس قسم کے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے نکلیں گے بھی یا نہیں خدشات اور خطرات تو بہت ہیں مگر انسداد اور انتظامات کا کوئی علم نہیں ۔انتخابات کے انعقاد کیلئے ماحول کو ساز گار اور پر امن بنانے کی ذمہ داری پوری نہ کرنے والوں کو ذمہ داری قبول نہیںکرنی چاہیئے تھی باوجود محولہ معاملات کے قوم کو پر عزم ہونا چاہیئے کہ جس طرح گزشتہ انتخابات میں تمام تر خطرات کے باوجود بھر پور حصہ لیا تھا اسی طرح ان انتخابات میں بھی حالات کا سامنا کرتے ہوئے نمائندہ حکومت کے چنائو کی ذمہ داری پوری طرح ادا کی جائے اور دہشت گردوں کو بتادیا جائے کہ تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں ۔

اداریہ