Daily Mashriq

بد ترین لوڈ شیڈنگ

بد ترین لوڈ شیڈنگ

حکام کی جانب سے بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ شاید ان کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے دو ڈیم بنانے کیلئے چندہ مہم منظور اور پسند نہیں جس کا اظہار وہ عوام کو شدید گرمی میں بجلی بند کر کے تڑپا کر کر رہے ہیں ۔ گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ اور غیر اعلانیہ بجلی بندش میں اضافہ ناقابل برداشت امر ہے۔ اس وقت عملی طور پر شہری علاقوں میں چھ جبکہ دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے بجلی آنکھ مچولی لوڈ شیڈنگ سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے جس کی وجہ سے صارفین کو برقی آلات کی خرابی یا اس کے خدشات کا سامنا ہے ۔ بجلی ساز نجی کمپنیوں کو واجبات کی ادائیگی کے ذریعے گزشتہ حکومت نے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کی کامیاب سعی کی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب آئی پی پیز کے واجبات دوبارہ سے بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جانب سے بجلی کی پیدا وار میں ممکنہ طور پر کمی کی گئی ہو ۔ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ میں اضافے اور حکومت کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث بجلی کی پیداوار کم ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ آئی پی پیز کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق اس کے ذمہ 253 ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے۔ جبکہ سرکاری کمپنیوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی حجم 414 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔شعبہ توانائی کے ماہر ین کے مطابق صرف گردشی قرضوں کی ادائیگی ہی مسئلہ نہیں، بلکہ بجلی گھروں کی کم صلاحیت اور زیادہ لاگت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو بجلی کو مہنگا اور ناپیدکررہی ہے۔شدید گرمی کے باعث سسٹم پر لوڈ پڑنے کی وجہ سے ٹرپنگ ہو رہی ہے۔ مسلسل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے جہاں دن کے اوقات میں عوام گرمی سے تڑپتے رہتے ہیں یہاں تک کہ پانی کی قلت سے نہ تو گھروں میں پانی دستیاب ہوتا ہے نہ ہی مساجد میں نمازیوں کو وضو کیلئے پانی فراہم ہوتا ہے ۔گرمیوں میں بجلی کی طلب ورسد میں فرق رہتا ہے جو لوڈ شیڈنگ کا باعث ہے مگر معاملہ صرف اس سید ھی سادھی وجہ کا نہیں بلکہ معاملات آئی پی پیز کو ادائیگیوں کا ہے کہ حکومت آخر ان واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے کیوں کام لیتی ہے اور یہ نوبت کیوں آنے دی جاتی ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار کم کرتے ہوئے بجلی کی پیدا وار بند کر نے پر مجبور ہو جائیں ۔ حکومت باقاعدگی کے ساتھ صارفین سے بلوں کی رقم وصول کرتی ہے بلکہ گرمیوں میں صارفین سے بجلی کے غیر حقیقی اور زائد نرخوں کے مطابق وصولی ہوتی ہے جس کا بعد میں ازالہ ضرور کر لیاجاتا ہے مگر بہر حال خواہ جو صورت بھی ہو حکومت کے پاس ایک خطیر اضافی رقم جمع ہوتی ہے مگر اس کے باوجود آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں ہوتی ۔حکومت پن بجلی کی قیمت بھی وہ وصول کرتی ہے جوایندھن سے بننے والی بجلی کی ہوتی ہے مستزاد حکومت کمپنیوں سے خریدی گئی بجلی میں بھی اپنا منافع شامل کر تی ہے مگر اس کے باوجود عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق قیمتاً بلکہ مہنگے داموں بجلی کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے باعث یو پی ایس ، سو لر اور جنر یٹر کے متبادل اور اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے ۔نئے ڈیموں کی تعمیر تو کسی کی ترجیح ہی نہیں وگرنہ چیف جسٹس کو اس معاملے میں آگے نہ آناپڑتا ۔

اداریہ