Daily Mashriq


انتخابات 2018ء کی پہلی شہادت

انتخابات 2018ء کی پہلی شہادت

عام انتخابات 2018ء کی پہلی شہادت اے این پی کے بیرسٹر ہارون بلور کے حصے میں آئی ہے۔خدا کرے مزید کوئی سانحہ رونما نہ ہو۔ مرحوم پی کے 78 سے امیدوار تھے ۔ ہارون بلور سے پہلے ان کے والد بشیر بلور بھی جو اے این پی کی قیادت میں اپنا مقام رکھتے تھے 2012ء میں ایک بم دھماکہ میں شہید ہوگئے تھے۔ بلور خاندان کا خیبر پختونخوا کی سیاسی روایت میں اہم مقام ہے ۔ یہ سیاسی روایت انتہا پسندی کی بجائے رواداری کی حمایت کرتی ہے۔ چند روز پہلے بیرسٹر ہارون نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ انتخابات آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ ہم نے اپنی گلیوں اور محلوںمیں رہنا ہے ‘ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہونا ہوتا ہے۔ سیاست کو ذاتیات کا معاملہ نہیں بنانا چاہیے ۔ ان خیالات کے پرچار کے باوجود حملہ آور نے انہیں ہی بم دھماکے کا ہدف بنایا اور ان کے ساتھ ان کے ساتھ اے این پی کے 19اور حامی یا کارکن شہید ہو گئے اور60سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ پارٹی تین دن تک ہارون بلور مرحوم کا سوگ منائے گی اور اس کے بعد پوری توجہ کے ساتھ انتخابی مہم چلائے گی اور فتح حاصل کرے گی ۔یہ ان کی دلیری اور جمہوریت کے ساتھ کمٹ منٹ کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر حملہ آور کوئی پختون ہے تو سامنے آ کر وار کرے ‘ یوں چھپ کر بزدلی سے حملہ کرنے والا پختون نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان کادھیان اس طرف نہیں گیا کہ دہشت گردوں اور بم دھماکے کرنے والے کا کوئی ملک ‘ کوئی نظریہ ‘ کوئی وطن‘ کوئی قبیلہ نہیں ہوتا۔ شجاعت اوردلیری کی اعلیٰ اقدار سے ان کاتعلق نہیں ہوتا۔ بیرسٹر ہارون بلور کی شہادت پر سبھی قومی سیاسی لیڈروں نے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اس بہیمانہ واقعہ کی مذمت کی ہے۔ اے این پی نے جس تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اس میں سبھی پارٹیوں کو شریک ہونا چاہیے کہ یہ ہارون بلور پر حملہ نہیں بلکہ عام انتخابات کو پرخطر بنا کر ان کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش تھی۔ ایسی کوشش 2013ء کے انتخابات کے حوالے سے بھی ہوئی تھی جب دہشت گردوں نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو بطور خاص ہدف بنایا تھا۔ لیکن کسی بھی اہم سیاسی پارٹی کو کارنر کرنے سے عام انتخابات عام نہیں رہتے ‘ اس لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو ایسے ہتھکنڈوں کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ آپریشن ضرب عضب ‘ آپریشن رد الفساد اور آپریشن کراچی کے باوجود آج دہشت گردوں کی باقیات جو اِکا دُکا حملے کرتی نظر آتی ہیں۔ اس میں بڑی ذمہ داری مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت کی ہے جس نے تمام پارٹیوں کے اتفاقِ رائے سے منظور ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں کوتاہی کی۔ ایکشن پلان کے تحت ان ذمہ داریوں پر پورا اترنے کی پوری کوشش نہیں کی جو سویلین حکومت کی ذمہ داری تھی۔ اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ہو جاتا تو آج دہشت گردوں کی باقیات یا تو ختم ہو چکی ہوتیں یا ان کے گرد گھیرا اس قدر تنگ ہو چکا ہوتا کہ انہیں متحرک ہونے کی جرات نہ ہوتی۔ایسی خبریں شائع ہوچکی ہیں کہ خفیہ ایجنسیوں نے 14سیاسی لیڈروں کی جانوں کو خطرے کے بارے میں انتباہ جاری کر دیا ہے۔ ان میں بعض سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین کے نام بھی شامل ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ ان میں بیرسٹر ہارون بلور کانام شامل نہیں تھا۔ اور یوں بھی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹیں ایسے خطرناک حالات میں مرتب کی جاتی ہیں کہ ان کے بارے میں یہ نہیں کہاجا سکتا کہ وہ مکمل ہیں ۔ ایک الرٹ تو انہوں نے جاری کر دیا لیکن اس الرٹ کو محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ وہ عناصر جو الیکشن کی راہ میں حائل ہونا چاہتے ہیں کسی بھی وقت کہیں بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران ملک بھر میں ہزاروں کارنر میٹنگز ہوں گی اور بیسیوں بڑے جلسے بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ ہوں گے۔ ان سب کو فول پروف سیکورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے ایک تو یہ ضروری ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو قوی تر کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ یہ کام صرف نگران حکومت کا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ایسے عناصر سے باخبر اور ایسی کوششوں سے کے خلاف مستعد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ انتخابی مہم چلانا انہی کے اپنے مفاد میں ہے۔ درسرے کارنر میٹنگز کے بارے میں حکومت کی طرف سے احتیاطی تدابیر جاری کی جانی چاہئیں۔ مثال کے طور پر یہ ہدایت کی یہ جا سکتی ہے کہ کارنر میٹنگز ایسے مقامات پر ہوں جہاں داخلے کا ایک ہی دروازہ ہو۔ اور اس پر سیکورٹی اہل کار اور مستعد سیاسی ورکر تعینات کیے جاسکیں۔ دوسرے سیاسی جماعتوں کو خود یہ چاہیے کہ وہ کارنر میٹنگز کی بجائے گھر گھر جا کر قائل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ لیڈروں اور امیدواروں کی نقل و حرکت کی پہلے سے تشہیر سے اجتناب کریں ۔ عام انتخابات کا پرامن اور بروقت ہوجانا بھی دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے ایک واضح پیغام ہو گا کہ وہ قوم کو پرامن جمہوری انتخابی عمل سے پسپا کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ یہ پیغام ساری قوم کو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی اس خواہش کو ٹھوکر مارتے ہوئے دینا ہے کہ وہ پاکستانی قوم کو امن اور جمہوریت کی راہ سے پسپا کر سکتے ہیں۔ دہشت گرد اس جگہ حملہ کرتے ہیں جہاں وہ اجتماع دیکھتے ہیں ۔ لیکن اس اجتماع کو اگر گلی گلی محلے محلے پھیلا دیا جائے تو دہشت گردوں کو کوئی ہدف نہیں ملے گا اور وہ قوم کو خوفزدہ کرنے ‘ قوم کے عزم کو کمزور کرنے کی کوشش میں ناکام ہوں گے۔ پاکستان کی سیکورٹی اور پاکستان کے ہر فرد کی سیکورٹی پاکستانی قوم کے عزم صمیم میں ہے اس کا مظاہرہ انفرادی سطح پر بھی کیا جاناچاہیے اور دہشت گردوں کو اجتماع کی صورت میں ہدف فراہم کرنے کی بجائے ہر فرد قوم کو انتخابات کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری انفرادی طور پر نبھانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں