مدارس کے طلباء کے ساتھ ریاست کا سلوک

مدارس کے طلباء کے ساتھ ریاست کا سلوک

تعلیم ترقی کی وہ کلید ہے جس کے بغیر ترقی ‘امن‘ انصاف‘ انسانیت نوازی کے دروازے کبھی وا نہیںہو سکتے۔ جو قوم جوہر تعلیم سے محروم ہوتی ہے وہ نہ تو سر اٹھا کر جی سکتی ہے اور نہ ہی جینے کا ہنر جانتی ہے‘ تعجب ہے جس قوم کا ماضی اتنا شاندار تھا اس قوم کا حال اس قدر تاریک تر کیوں ہو گیا؟ مسلمانوں کی موجودہ پستی و پسماندگی کے دیگر اسباب کا اگر غور کیا جائے تو بنیادی سبب مسلمانوں میں تعلیم کا فقدان ہے‘ حکومتی ادارے ہوں یا پرائیویٹ تنظیمیں ہر طرف سے یہی آواز بلند کی جاتی ہے کہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ملک کی اکثریت زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہوجائے۔ اس تناظرمیںتعلیم کو عام کرنے اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دینے میں سب سے مؤثر کردار والدین کا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے ان پر دو اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ شروع ہی سے بچوں کی تعلیم و تربیت پر نظر ہو اور اپنے اوقات کا ایک حصہ بچوں کی نگرانی اور تعلیمی امور کی دیکھ بھال کے لیے مختص ہو تاکہ بچے اپنے والدین کی نگرانی میں اپنی ذمہ داری کو پوراکر سکیں۔ دوسرے یہ کہ والدین کی اولین ترجیح اور پہلی ضرورت بچوں کی تعلیم ہو‘تعلیم کے حوالے سے والدین کا شعور اس قدر بیدارہو کہ وہ ہر مشکل اور پریشانی کو برداشت کر کے بچوں کو تعلیم دلانے کی فکر کریں ۔ عہد نبوی میں اس کی زریں مثالیں موجود ہیں‘ آپؐ پر جو پہلی وحی آئی وہ تعلیم کے سلسلے میں تھی ۔ آپ ؐ نے حضرت زید بن حارثہؓکو عبرانی زبان سیکھنے کا حکم دے کر علم لسانیات اور علم لغت کی تعلیم و ترغیب فرمائی‘ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے تو آپ کے ساتھ بے سہارا اور بے سروسامان مسلمانوں نے بھی ہجرت کی اس لیے ضرورت تھی کہ مسلمانوں کی رہائش کا انتظام کیاجائے ‘ بے گھر مسلمانوں کا کوئی مسکن تعمیر کیا جائے لیکن آپؐنے سب سے پہلے ایک عبادت گاہ اور دینی مرکز کی حیثیت سے مسجد نبوی تعمیر فرمائی اور تعلیم و تربیت کے لیے ایک درس گاہ چبوترے کی شکل میں قائم فرمائی جسے ’’صفہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں موجود تعلیمی ادارے تین واضح گروپوں میں تقسیم ہیں ‘ پہلے گروپ میں مدارس کے علاوہ سرکاری انتظام میں چلنے والے اسکول‘ کالج شامل ہیں جن کا ذریعہ تعلیم عربی و اردو ہے۔ دوسرے گروپ میں کم فیسوں والے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے لیکن اساتذہ کی قابلیت محض واجبی ہے‘تیسرے گروپ میں زیادہ فیسوں والے تعلیمی ادارے آ جاتے ہیں جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے اورجہاں پڑھائی کا معیار اچھا ہے‘ جہاں ایک مخصوص کلاس کے لوگوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں،یہ تینوں گروپ پاکستان کی سوسائٹی کو تین رخ معاشرتی اور ثقافتی رویوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ تقسیم تقریباً ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے ‘ یہ تقسیم طبقاتی بنیادوں پر بھی اور تہذیبی بنیادوں پر بھی ہے۔ کسی بھی قوم کے یک جان اور یک رنگ ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا ایک ہی نظامِ تعلیم ہو لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ یہ خلیج روز بروز گہری ہوتی جا رہی ہے اور بسا اوقات یہ ایک طرف احساس محرومی اور نفرت میں ڈھل جاتی ہے اور دوسری طرف اس کا ظہور احساس برتری اور غرور کی شکل میں نکلتا ہے۔ احساس محرومی اور احساس برتری کا جائزہ مدارس دینیہ اور کالج و یونیورسٹیز کے طلباء کی زندگیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کے لیے سماج میں روزگار سمیت ہر جگہ مواقع انتہائی محدود ہیں جب کہ کالج و یونیورسٹیزکے طلباء کو ایسا مسئلہ درپیش نہیں‘ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے مدارس کے فارغ التحصیل کی ڈگری کو بظاہر ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی قرار دیا ہے لیکن عملی طور پر اس کی کوئی ویلیو نہیں ‘ اس ڈگری کی بنا پر ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی سماجی حلقوں میں اس ڈگری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ریاست مدارس میں پڑھنے والے طلباء کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے‘ مدارس میں پڑھنے کیلئے عام طور پر غریب اور پسماندہ گھرانوں کے بچے جاتے ہیں اور مدارس میں آٹھ دس سال کا عرصہ گزارنے کے بعد بھی اگر ان طلباء کو باعزت روزگارنہ ملے تو شاید اس سے بڑی کوئی زیادتی نہ ہو ،روزگار اپنی جگہ لیکن صورتحال یہ ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل سماج میں بھی اپنا مقام برقرار نہیں رکھ سکتے ،چند ایک مستند و جید علما ء کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ لیکن مجموعی صورتحال اس سے مختلف نہیں ،حالانکہ مدارس میںپڑھنے والے طلباء اسکول و کالج کے طلباء کی نسبت زیادہ پڑھتے ہیں ‘چونکہ یہ طلباء مستقل مدارس میں ہی رہتے ہیں تو صبح صادق سے لے کر عشاء کے بعد تک ان کی تعلیم جاری رہتی ہے ۔ جب بھی کسی پلیٹ فارم سے مدارس کے طلباء کی کسمپرسی کی بات کی جاتی ہے یا ان کے حق میں آواز اٹھتی ہے توریاستی اداروں کی جانب سے اس کا ٹھوس جواب دینے کی بجائے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اہل مدارس ہی اس کے ذمہ دار ہیں ، ان کا قدیم نصاب اس کا ذمہ دار ہے، اور یہ کہ مدارس والے اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ روایتی جواب سنتے سنتے سالوں بیت چکے ہیں لیکن مدارس کے طلباء کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اہل مدارس کا رویہ اپنی جگہ‘ قدیم نصاب اور مذہبی جذبہ بھی اپنی جگہ لیکن ریاست نے ان بچوں کے لیے عملی اقدام کیااٹھایا ہے؟ ۔

اداریہ