Daily Mashriq


پھولوں کے شہر پشاور میں بہتا انسانی لہو

پھولوں کے شہر پشاور میں بہتا انسانی لہو

دعوے بھل صفائی(آپریشن ردالفساد) کے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ خواب پھر ٹوٹے آنکھوں میں کرچیاں روح میں اُتر گئیں ۔ عزیز جان دوست شہید بشیر احمد بلور کے صاحبزادے ہارون بشیر بلور اور اے این پی کے 20سے زیادہ کارکنوں کی خودکش حملے میں شہادت کی اطلاع پچھلیشب کے دوسرے حصے میں دی گئی تھی ۔ زندگی بس اتنی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ خیالات منتشر ہیں ۔ سوال دستک دیتے ہیں اور جواب آنکھیں چراتے ۔ ہم مگر سوال کس کے سامنے رکھیں ؟ ۔ یہاں سنتا کون ہے ۔ 2013ء کی لہو رنگ انتخابی مہم بشیر بلور کو کھا گئی اور 2018ء کی انتخابی مہم ان کے پر عزم فرزند کو۔ عشروں تک ہمارے یہاں یکسوئی سے جو فصل بوئی گئی وہ زمین زادے کاٹنے پر مجبور ہیں حالانکہ غیر ریاستی لشکروں کی فصل بوتے وقت ان سے کسی نے مشورہ نہیں کیا تھا۔ لگ بھگ 4کھرب ڈالر کے اجتماعی معاشی اور 80ہزار انسانی جانوں کے نقصان کے بعد بڑوں کو احساس ہوا کہ بھل صفائی نہ کی تو ہر سو دھواں اڑے گا۔ ہم ہزار ہا دعوے سن چکے۔ ہر دعویٰ اپنے پیچھے دہشت گردی کے ایک المناک واقعہ کو دوڑائے لے آتا ہے۔ چند دن قبل کہا گیا ’’ مثالی ماحول بنا دیاگیاہے‘‘ لیجئے دیکھ لیجئے مثالی ماحول۔ منگل کی شام پشاور میں یکہ توت کے علاقے میں مثالی ماحول کے دشمن وار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہارون بشیر بلور سمیت اے این پی کے20 کارکن کھیت ہوئے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ مقتولین کو شہیددل پر پتھر رکھ کر رسم دنیا کے تحت لکھا ہے۔ وہ سیاسی کارکن تھے عسکری نہیں۔ قتل کئے گئے ہیں۔ فقیر راحموں نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا شاہجی! وہ ایسے سیاسی کارکن تھے جنہوں نے امن دشمنوں کے خلاف تحفظ امن و جمہوریت کا مورچہ قائم رکھا تھا اس مورچہ میں امن و جمہوریت کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ میرے لائق احترام دوست صفدر علی نے صوابی سے پیغام بھیجا ہے ‘ وہ کہتے ہیں ’’ اس ملک میں ترقی پسندانہ قوم پرستی اور سیکولر سیاست پر یقین رکھنے والوں کو پچھلی دو دہائیوں سے چن چن کر مارا جا رہا ہے‘ مارنے والے اور ان کے سرپرست جو چاہتے ہیں وہ سب کے علم میں ہے لیکن بولتا کوئی نہیں‘‘۔ سچ یہی ہے جان کے ڈر سے بولتا کوئی نہیں لیکن یہ پورا سچ ہر گز نہیں۔ اپنے والد کی قیادت کے بعد ہارون بشیر بلور کے پاس دو راستے تھے اولاً وہ بہت سارے دوسرے لوگوں کی طرح بابا کی شہادت کی بنیاد پر یورپی برادری کے کسی ملک جا آباد ہو اور باقی کی زندگی آرام سے بسر کرے۔ ثانیاً یہ کہ وہ میدان سیاست میں ڈٹ کر کھڑا ہو اور باچا خان کے انسانیت دوست افکار کا پرچم بلند رکھتے ہوئے آزادی‘ عزت ‘ مساوات اور قانون کی بالا دستی کے لئے پر عزم جدوجہد کرے۔ ہارون بشیر بلور نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ کچھ عرصہ قبل ان سے لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا۔ ستائش کے مقابلہ میں خطرات زیادہ ہیں احتیاط سے کام لیا کرو۔ روایتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا‘ شاہ جی! موت کا خوف بابا جان کی شہادت دیکھ کر دل و دماغ سے نکل چکا ہے۔ ویسے اگر میں گھر اور دفتر تک محدود ہو جائوں تو کیا قیامت تک زندہ رہوں گا؟ یہ سال بھر قبل کے اسی موسم کی بات ہے حبس سے بھرے اس موسم کی پچھلی شب اس کی شہادت کی خبر ملی۔ ایک زندہ شعور سیاسی کارکن اور شجاع باپ کے بہادر بیٹے کی طرح اس نے خود پر جھپٹی ہوئی موت کا کھلے ہاتھوں سے استقبال کیا۔ اطلاع یہ ہے کہ انتخابی مہم کے آغاز پر اسے خاندان کے لوگوں نے محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ وائے ہو ان قاتلوں پر جنہوں نے پھولوں کے شہر پشاور کے 20گھروں کے چراغ گل کردئیے۔ پھول‘ خوشبو‘ مہمان نوازی‘ دوست پروری‘علم و مکالمے کے حوالے سے صدیوں تک اپنا تعارف آپ بننے والے پشاور کو نجانے کس کی نظر لگ گئی۔ گھات میں بیٹھے قاتلوں اور خود کش بمباروں کا شکار ہوئے اس شہر مروت کے وہ سارے لوگ ایک ایک کرکے یادآرہے ہیں جو پشاور کا روشن چہرہ تھے۔ممتاز اطہر یاد آئے ملتانی مٹی سے گندھے اس شاعر بے مثال نے چند برس ادھر کہا تھا 

اے رب عمل ایک عمل اور مکمل

جس کا یہ ماحول بدل اور مکمل

ہم نیلے آسمان کے نیچے کھڑے استغاثہ ہی کرسکتے ہیں اور کیا کریں۔ ہمارے بچوں ، پیاروں ، عزیزوں ، بھائیوں بھتیجوں کا لہو بہانے والے درندے آسمان سے تو نہیں ٹپکتے ۔ درندوں کی پنیریاں کس نے لگائیں۔ پالنے والی نرسریاں کس کی تھیں ۔ سہولت کار کون تھے اور درندوں کو اہداف دینے والے کون اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں پچھلی شب کے نصف کے بعد سے سوشل میڈیا پر کچھ پشتون دوست جس طرح غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں یہ ان کا حق ہے لیکن بہت ادب کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض ہے اس ملک کے سارے لوگ ایک سے حالات اور جبر کا شکار ہیں حبس کا یہ موسم کسی خاص شہر نسل اور علاقے کے لئے نہیں خودکش حملہ آور پشاور میں پھٹا آنکھیں سینکڑوں میں دور بھی خون روتی ہیں۔ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں ۔ کسی کو دوش دینے اور کوسنے کی بجائے کیوں نہ ہم سب ملکر امن ، انسانیت ، علم ، مساوات ، جمہوریت اور سیکولر ازم کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ خیبر سے کراچی اور جھنگ سے لسبیلہ تک کے سارے زمین زادوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ دشمن یہی چاہتا ہے کہ ہم اس کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے باہم دست و گریباں ہو جائیں ۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام الناس متحد ہو کر اپنے حق حکمرانی اور پائیدار امن کے قیام کے لئے جدوجہد کریں تاکہ ہمارے بچوں اور پیاروں کے قاتل اور ان کے سرپرست اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔

متعلقہ خبریں