Daily Mashriq


انتخاب اورا حتساب پہلو بہ پہلو

انتخاب اورا حتساب پہلو بہ پہلو

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے انتخابات کے بروقت انعقاد کی یقین دہانی کے بعد شکوک وشبہات کے منڈلاتے سائے کم ہونا شروع ہوگئے ہیں مگر کچھ دبی دبی سی آوازیں اور کچھ بکھرے ہوئے واقعات اب بھی انتخابی عمل کو راہ سے ہٹانے کی خواہش کے آئینہ دار ہیں۔فوجی ترجمان کی وضاحت کے روز ہی پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی ریلی پر حملہ اور ایک معروف سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے امیدوار ہارون بلور سمیت دودرجن سے زائد افراد کی شہادت نے ایک بار پھر انتخابی عمل کے آگے سوالیہ نشان کھڑا کیا ۔اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے ایک سوال کے جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حملہ انتخابی عمل کو سبوتاژکرنے کی بجائے اے این پی کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کی کوشش ہے مگر اس بار ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔کچھ دوسری سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی انجینئر نگ کی باتیں کرنا شروع کی ہیں مگر اس کا مطلب انتخابات کا التو ا نہیں ۔دھاندلی اور انجینئر نگ ایک الگ معاملہ ہے اور انتخابی عمل کو راہ سے ہٹانا یکسر دوسری بات ہے اسی دوران سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے احتساب کے لئے انتخاب ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔سابق وزیر اعظم کی یہ تجویز اور شکوک وشبہات کے دوسرے انداز ایسے وقت میں ظاہر ہو رہے ہیں جب انتخابی مہم عروج کی طرف بڑھ رہی ہے اور الیکشن کمیشن تمام انتظامات مکمل کرچکا ہے ۔قوم بھی ذہنی طور انتخابات کے لئے تیار ہو چکی ہے ۔انتخابی عمل میں معاونت کرنے والے تمام ادارے جن میں پاک فوج سرفہرست ہے ذہنی اور عملی تیاری کرچکی ہے ۔ گوکہ پاکستان میں احتساب بلکہ حقیقی احتساب خاصا مشکل کام ہے مگر دنیا میں احتساب کے نام پر انتخابات ملتوی نہیں کئے جاتے ۔یہ’’ کارخیر ‘‘صرف پاکستان میں ہی ایک بار رونما ہوچکا ہے جب جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد سیاست دانوں کے ایک طبقے نے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ بلند کیا ۔اس نعرے نے انتخاب ملتوی کرانے کا جواز تو فراہم کیا مگر انتخاب ہوئے نہ احتساب ہوا اور یوں حقیقی احتساب کی منزل دور ہوتی چلی گئی ۔جیسے تیسے گیارہ سال بعد انتخابا ت تو ممکن ہوئے مگر احتساب کبھی نہ ہو سکا اور آج تک قوم احتساب کی آس امید پر ہی جی رہی ہے۔برطانوی جمہوریت کو جمہوریتوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ وہاں بھی جمہوری عمل کے پہلو بہ پہلو احتساب کا عمل جا ری رہتا ہے البتہ وہاں جمہوری ادارے اس قدر مضبوط اور حساس ہیں کہ وہ احتساب کے کام کے لئے کسی تحریک ،مطالبے اور عدالت کا انتظار کرنے کی بجائے یہ کام خود کرتے ہیں ۔ برطانوی پارلیمنٹ میںبڑے بڑے جغادری سیاست دانوں اور حکمرانوں کے احتساب کے مناظر آئے روز برطانوی میڈیا میں دکھائے جاتے ہیں ۔امریکہ اور بھارت سمیت جہاں جہاں مغربی جمہوریت صدارتی یا پارلیمانی شکل میں موجود ہے وہاں احتساب بھی جاری رہتا ہے اور جمہوریت کے باقی تقاضے اور لوازمات بھی پورے کئے جاتے ہیں۔ میرظفر اللہ جمالی نے تو شاید کسی اچھائی کی امید پر ہی یہ تجویز پیش کی ہے مگر جن سیاسی جماعتوں پر احتساب کی زد پڑنے والی ہے ان کی خواہش بھی یہی ہوگی کہ انتخابات ملتوی ہوجائیں تا کہ اس شو روہنگامے میں احتساب کا عمل دب کر رہ جائے اور بحالی جمہوریت کے نام پرایک ایسا مشترکہ کنٹینر سج جائے جس میں محمود وایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر جمہوریت کی نوحہ گری کرتے نظر آئیں ۔جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد یہ ہوچکا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو برطرف کروانے اور تختہ دار تک پہنچانے کی حمایت کرنے والے نواب زادہ نصراللہ خان ،خان عبدالولی خان ،مفتی محمود اور دوسرے زعما ء ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایم آر ڈی کے مشترکہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر تحریک چلا رہے تھے ۔ اس وقت دو سیاسی جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت کا شکستہ کنٹینر پہلے سے موجود ہے بس اس کی مرمت اور تزئین وآرائش ہی باقی ہے ۔کچھ ایسے اشارے ملنا شروع ہوگئے ہیں کہ میثاق جمہوریت کے دواہم فریق اب پھر اس میثاق جمہوریت کے کنٹینر پر سوار ہونے کی تیاری کر رہے ہیں ۔میثاق جمہوریت جن حالات میں ہوا اب پاکستان کی زمینی حقیقتیں یکسر تبدیل ہوچکی ہیں ۔اب پاکستان کی سیاست صرف دو جماعتوں کے گرد نہیں گھوم رہی بلکہ سیاسی حرکیات بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہیں۔ایسے کچھ لوگوں کی خواہش ہو گی کہ سسٹم کی بساط لپٹ جائے اور احتساب کا معاملہ بحالی جمہوریت کے تنازعے کی شکل اختیار کرے مگر اس وقت انتخابی عمل کو روکنا یا رول بیک کرنا اور ماورائے آئین اقدام کرنا قطعی طور پر پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ احتساب کے نام پر انتخاب ملتوی ہونا چاہئے نہ انتخاب کے نام احتساب کو روکنا چاہئے ۔معروف جمہوری معاشروں کی طرح دونوں کام پہلو بہ پہلو جاری رہنے چاہئے۔

متعلقہ خبریں