شہید ابن شہید

شہید ابن شہید

بیرسٹر ہارون بلور بھی نوش کرگئے جام شہادت۔ پا گئے وہ رتبہ جو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے اپنے والد بشیر احمد بلور کے نقش قدم پر چل کر۔ شہید بشیر احمد بلور بھی عوامی رابطہ مہم میں مصروف تھے۔ کارنر میٹنگ سے خطاب کرنے نکلے تھے۔بھر پور تیاری کی تھی قصہ خوانی بازار سے منسلک ڈھکی نعلبندی کے پارٹی ورکروں نے ان کا فقید المثال استقبال کیا۔ وہ ہنستے مسکراتے اپنے استقبال کے لئے آنے والے جم غفیر کی دلوں کی دھڑکن میں جگہ بناتے جلسہ گاہ پہنچے۔ مصا فحہ، بغل گیریاں ،تالیاں، پھولوں کی پتیاں، پھولوں کے ہار، بشیر بلور زندہ باد کے فلک شگاف نعرے۔ سائے کی طرح چمٹے رہتے تھے ان کے ساتھ ہر جلوت اور ان کی خلوت میں ان کے وفا شناس ملازم نور محمد جو اپنے آپ کو ان کا پرسنل سیکرٹری کہتے تھے۔ جب ان پر خود کش حملہ ہوا تو نور محمد بھی اپنے آقا بشیر بلور کے ہمراہ جام شہادت نوش کرگئے۔
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لیکر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لیکر
خانوادہ بلور کے چشم وچراغ بشیر احمد بلور جام شہادت نوش کرنے کے بعد شہید بشیر احمد بلور کہلانے لگے۔ بیرسٹر ہارون بلور ان کے بہت ہی پیارے لخت جگر تھے۔ راقم السطور کی بیرسٹر ہارون بلور سے پہلی ملاقات نشتر ہال پشاور میں ان کے استقبال کیلئے بلدیہ پشاور کی جانب سے ترتیب پانے والی ایک استقبالیہ تقریب میں ہوئی تھی۔ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا کے مصداق بلدیہ پشاور کی جانب سے منعقد ہونے والی کم و بیش ہر تقریب میں سٹیج سیکرٹری یا معلن کے فرائض راقم السطور کے حوالے کردئیے جاتے۔ اس روز بھی نشتر ہال کا سٹیج، روسٹرم اور مائیک اس بندہ ناچیز کے حوالے تھا۔
نگاہ بلند سخن دل نواز جان پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
یہ اور اس قسم کے بہت سارے شعر پڑھ پڑھ کر راقم السطور زمین اور آسمان کے قلابے ملا رہا تھا۔ شاید میری اس ہی ادا کو دیکھ کر استاد ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے جب بھی مجھے ’’پکا سرکاری ملازم‘‘ لکھا۔ میں بلدیہ پشاور کی نشتر میونسپل پبلک لائبریری آفیسر تھا۔ میرا کام اہالیان پشاور کے اس تاریخی کتب خانہ کا نظام و انصرام چلانا تھا۔ لیکن ’اے روشنی طبعہ من تو بر من بلا شدی‘ کے مصداق 1979 سے 2010 تک ہر دور میں مجھ سے سپاسنامے اور تقریریں لکھوائی جاتی رہیں۔ بلدیہ پشاور کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ماہنامہ میگزین کا چیف ایڈیٹر بھی راقم السطور کو بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اور اس دن جب بیرسٹر ہارون بلور بلدیہ پشاور کے ناظم منتخب ہوکر آئے ’ اے کہ آمدنت باعث آبادی ما‘ کے عنوان سے سجائی جانے والی اس تقریب کا سٹیج اور سٹیج سیکرٹری شپ بھی راقم السطور کو سونپ دی گئی جسے اچھے اور نستعلیق طریقے سے نبھانے کا فریضہ ادا کرنے لگا۔ اس دوران میں نے بیرسٹر ہارون بلور کو فرزند پشاور کہہ کر پکارا جو مدت مدید تک ان کے نام نامی کے ساتھ استعمال ہوتا رہا۔ جب آپ بلدیہ پشاور کے ناظم کے منصب پر فائز ہوئے تو ان دنوں ملک کی باگ ڈور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں میں تھی۔ انہوں نے بلدیاتی نظام کو نئے خطوط پر استوار کرتے ہوئے میونسپل کارپو ر یشن پشاور کو چار ٹاؤنز میں تقسیم کردیا۔ ہارون بلور کے حصہ میں بلدیہ پشاور کا ٹاؤن ون آیا اور انہیں میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن ون کی نظامت یا ناظم ہونے کی پیشکش کردی گئی۔ بلدیہ پشاور کا ناظم بننے کے فوراً بعد انہوں نے ٹاؤن ون پشاور کے مرکزی دفتر باچا خان چوک میں اپنی مسند سنبھالنے کی بجائے جناح پارک پشاور میں اپنا عارضی دفتر قائم کرلیا اور بلدیاتی حکام سے اہالیان شہر کے اثاثہ کو اپنی تحویل میں لینے کا مطالبہ کردیا ، انہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر پشاور ٹاؤن ون کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کی حکمت عملی تیار کرنی شروع کردی۔ جب بلدیہ پشاور کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے نشتر میونسپل لائبریری کو ٹاؤن ون پشاور کے حوالہ کرنے کے احکامات جاری ہوئے تو جناب ہارون بلور نے راقم السطور کو جناح پارک پشاور میں قائم کئے جانیوالے اپنے عارضی دفتر میں بلوا کر باور کروایا کہ نشتر میونسپل پبلک لائبریری اہالیان پشاور کا بے بدل اثاثہ ہے اور تم اس کے امانت دار ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ میں اس کتب خانہ کو تحصیل گورگٹھری منتقل کرنا چاہتا ہوں۔ جس کے لئے تم ابھی سے کام شروع کردو۔ نشتر میونسپل پبلک لائبریری کو تحصیل گورگٹھری کی عمارت کا قبضہ لیکر اسے وہاں منتقل کرنے کی کہانی ایک الگ موضوع ہے۔ جس کو یہاں بیان کرنے کے قرض کا فرض گاہے گاہے باز خوان ایں قصہ پارینہ کے مصداق ہم دہراتے رہے ہیں اور بشرط زندگی جب بھی موقع ملتا رہے گا دہراتے رہیں گے۔ یہاں ہم صرف اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ شہید ہارون بلورنے راقم السطور سے بلدیہ پشاور کے ٹاؤن ون کی نظامت کے احوال پر مبنی ایک کتاب لکھوانی چاہی جس کے لئے انہوں راقم السطور کو لائبریری جانے کی بجائے ہفتے کے سات دنوں میں سے چند دن باچا خان چوک میں باقاعدگی سے حاضر رہنے کا حکم دیا۔ اس دوران راقم السطور کو خوبصورت فرنیچر سے آراستہ دفتر کمپیوٹر بمعہ کمپیوٹر آپریٹر اور دیگر اہم عملہ اور سہولیات بھی مہیا کی گئیں۔ اور یوں ہماری شبانہ روز کوشش کی بدولت ’’فیصلہ آپ کے ہاتھ میں‘‘ کے عنوان سے ان کے دور نظامت کے حوالے سے کتاب شائع ہوکر منصہ شہود پر آگئی۔ (باقی صفحہ 7)

اداریہ