Daily Mashriq

’وزیراعظم کا دورہ امریکا، تعلقات کو نئی جہت بخشے گا‘

’وزیراعظم کا دورہ امریکا، تعلقات کو نئی جہت بخشے گا‘

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا متوقع دورہ امریکا باہمی تعلقات کو نئی قوت بخشے گا۔

دفتر خارجہ میں صحافیوں کا ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا دورہ امریکا اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو بحال کر کے اس میں نئی جان ڈال دے گا‘۔

یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات، باہمی دلچسپیوں کی بنیاد پر قائم طویل مدتی اشتراکیت کو وسیع تر کردے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات، خطے کے امن، استحاکم اور خوشحالی پرمثبت اثرات مرتب کرے گا‘۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان 21 جولائی سے 23 جولائی تک امریکا کا دورہ کریں گے جہاں 22 جولائی کو ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوگی۔

اس کے علاوہ وزیراعظم کی امریکی کانگریس کے اراکین، کارپوریٹ سربراہان اور رائے عامہ بنانے والے افراد کے ساتھ ساتھ امریکا میں مقیم پاکستانیوں سے بھی ملاقاتیں طے کی گئیں ہیں۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ملاقات میں باہمی تعلقات اور علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

علاقائی امور کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم ’خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کریں گے‘۔

’اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں سیاسی حل کے فروغ کے لیے تعمیری کوششوں کیا اہمیت پر بھی زور ڈالیں گے‘۔

عمومی طور پر ہی تاثر پایا جارہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ٹرمپ حکومت نے افغانستان میں بحالی امن کے لیے طالبان کے ساتھ معاہدے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔

خیال رہے کہ اپنے حالیہ دورہ کابل کے دوران امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بتاہا تھا کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتہ طے پانے کی حتمی مدت یکم ستمبر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن لانے کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کی پالیسی جاری رکھے گا۔

متعلقہ خبریں