Daily Mashriq

بے نامی جائیداد‘ کارروائی کتنی موثر ہوگی؟

بے نامی جائیداد‘ کارروائی کتنی موثر ہوگی؟

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی خیبر پختونخوا میں بے نامی جائیداد رکھنے والے اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کی فہرستوں کی تیاری اورابتدائی مرحلے میں صوبے کی12شخصیات کو نوٹسز کا اجراء مالیاتی احتساب اور غیر قانونی اثاثے رکھنے والوں کے حوالے سے بڑا قدم ہے۔ گوکہ یہ پہلا نوٹس نہیں لیکن راز داری اور نام خفیہ رکھنے کا فیصلہ اور طریقہ کار قابل تعریف اقدام ہوگا تاکہ نہ تو اس کاکوئی سیاسی فائدہ اٹھانیکی گنجائش رہے اور نہ ہی خاندانی‘ کاروباری اور خواہ مخواہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے شوقین لوگ حظ اٹھا سکیں راز داری کے ساتھ کیس کی تیاری اور شواہد کے ساتھ کارروائی کی کامیابی کے امکانات ڈرامہ بازی پر مبنی اقدامات سے کہیں موثر اور کامیاب ہونا فطری امر ہوگا۔جب تک کسی پر عدالت میں باقاعدہ مقدمہ قائم نہ ہو اس کے حوالے سے معلومات کا افشاء متعلقہ محکمے کی طرف سے مناسب نہیں میڈیا اپنے ذرائع سے ان کے نام سامنے لائے تو یہ الگ بات ہوگی۔ اصل مسئلہ متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے ابتدائی کارروائی کو کارنامہ متصور کرتے ہوئے از خود میڈیا کو برموقع کوریج کا موقع دینے کاہے۔ میڈیا کو اپنا کام کرنے کی یقینا پوری آزادی ہونی چاہئے لیکن بعض اوقات جس طرح رائی کاپہاڑ بنانے کے جو مناظر پیش کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی مگر پیالی میں طوفان لا کر عوام کو باورکرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ متعلقہ محکمے اور ادارے کے اہلکار آسمان سے تارے توڑ لائے اور نا ممکن کو ممکن بنا دیا زیر تفتیش شخص گروہ یا جماعت کی مٹی پلید ہونے کے بعد جب معاملہ جج کے سامنے پیش ہوتا ہے تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ سامنے آتاہے۔ حقیقت کھل جانے کے بعد متاثرہ شخص‘ خاندان ‘ گروہ اور جماعت کے لئے اس صورتحال سے نکلنا کافی مشکل اور بڑے عرصے کاانتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قانون کے تقاضوں کے مطابق نوٹسز کا اجراء تحقیق و تفتیش اور راز داری کا خیال رکھنا مبینہ ملزم کا حق اور انصاف کا تقاضا ہے۔ کسی سرکاری ادارے کے اہلکار کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ وقت سے پہلے معاملے پر بات کرے میڈیا پر کسی معاملے کو لانے کے لئے بھی ایک خاص سطح کے عہدیداروں اور ادارے کے ترجمان کو ذمہ داری ملنی چاہئے۔ ہر وہ عمل جو قانون کے مطابق اور انصاف و اخلاقیات کے تقاضوں کے مطابق ہو وہی انصاف کہلائے گا ۔ چونکہ بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں میں سیاست‘ کاروبار یا سماجی طور پر حیثیت و شہرت کے حامل افراد کی اکثریت ہونے کا امکان ہے۔ ہمار ے نمائندے کے مطابق سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات ٹیکس کے دائرہ میں شامل ہونے کے باوجود ٹیکس کی ادائیگی نہیں کر رہے جن میں حکمران جماعت تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سیاسی رہنما شامل ہیں اندرون اور بیرون ممالک خفیہ اثاثوں کی نشاندہی کرکے انہیں ٹیکس دائرہ میں لانے کیلئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل ٹیکس آپریشنلز قائم کر دیا گیا ہے پشاور میں ایف بی آر کے قائم دفتر میں کمشنرز ، ایڈیشنل کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے عہدوں کے افسران کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت ٹیکس نہ دینے والے افراد کے خلاف کارروائی کے مجاز ہونگے ایف بی آر ذرائع کے مطابق بے نامی جائیدادوں کے مالکان کو مرحلہ وار نوٹسز بھیجے جائینگے تاہم ایف بی آر نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ جن شخصیات کو نوٹسز جاری کئے جائینگے ان کے نام خفیہ رکھے جائینگے ان افراد کے آمدن، رہائش گاہوں ، اندرون اور بیرون ممالک جائیداد اور کاروبار، اراضی اورپرتعیش گاڑیوں کی تفصیل حاصل کی جائے گی ذرائع کے مطابق ان افراد کے بیرون ممالک دوروں کی بھی تفصیل حاصل کی جائے گی ابتدائی مرحلے میںنوٹسزجاری کرنے کے بعد دوسرے مرحلے میں ان کی جائیدادیں ضبط کی جائینگی اور تیسرے مرحلے میں گرفتاری بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے ذرائع کے مطابق ان افراد کا بینک اکائونٹس ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو قانونی طریقہ کار موجود ہے اس کی پوری پوری پیروی کی جائے اور جن افراد کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہے ان کو اپنی صفائی اور شواہد پیش کرنے کاپورا موقع دینے کے بعد ناکامی کی صورت میں پورے ثبوتوں کے ساتھ کارروائی کی جائے تاکہ عدالت سے رجوع کرنے پر ان پر مقدمہ ثابت کیاجاسکے اور حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز کارروائی سامنے آئے جس کے نتیجے میں قانون کے مطابق جائیدادوں کی ضبطگی اور جرمانہ کی وصولی سے قومی خزانہ میں رقم جمع ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایف بی آر کے پاس ثبوت اکٹھا کرنے اور مقدمہ ثابت کرنے کے بہت سارے مواقع اور سہولیات موجود ہیں۔ بے نامی جائیداد رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں اور نہ ہی آمدنی اور مالی حیثیت سے بڑھ کر بچوں کو پڑھانے‘ پر تعیش گاڑیاں‘ گھر اور دکھاوے کا کاروبار رکھنے والوں کی کمی ہے۔ اگر کمی ہے تو صرف راست اقدام کے ساتھ جامع و شفاف اور بلا امتیاز تحقیقات کی جس کے نتیجے میں یہ افراد قانون کی گرفت میں آئیں اور ان سے ناجائز رقم وصول کی جاسکے۔

متعلقہ خبریں