Daily Mashriq

تہرے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ پر جلد عمل کرنے کی ضرورت

تہرے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ پر جلد عمل کرنے کی ضرورت

پولیس کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی طرف سے ڈی پی او چارسدہ سمیت پولیس اہلکاروں کو عمرزئی چارسدہ کے تہرے قتل کیس میں غفلت کامرتکب قرار دینا غیر جانبدارانہ تحقیقات کا غماز ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ پولیس کے ضلعی سربراہ اور افسروں کی سطح کے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا جائے۔ اس قتل کیس میں پولیس کا مقتولین کی نعشوں کی توہین کا مرتکب ہونا خاص طور پر باعث افسوس امر تھا پولیس کی جانب سے اس واقعے میں اس قسم کا کردار ادا کرنا روایتی پولیس گردی کا واقعہ نہیں تھا۔ اس کے پس پردہ دبائو کے باعث شاید اس قسم کا واقعہ رونما ہوا۔ اس خونیں واردات کے بعد اصل ملزم کا بیرون ملک فرار ہونا بھی پولیس کی ملی بھگت یا سنگین غفلت ہی کا نتیجہ تھا۔ اس واقعے کو دبانے کی بھی کافی کوشش ہوئی لیکن بعد ازاں سوشل میڈیا پر مہم پر لہو بولنے لگا۔ پولیس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے نتیجے میں جن افسران اور اہلکاروں پر ذمہ داری عائد ہوچکی ہے اس کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قواعد و ضوابط اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے اور ان کو ایسا راستہ یا موقع نہ دیا جائے کہ وہ بچ سکیں۔ ہمارے ہاں اولاً اس قسم کے واقعات کا نوٹس ہی کم لیا جاتا ہے اس کے بعد تحقیقات میں نرم روی کے باعث حقیقی کرداروں کے بچ نکلنے کے امکانات ہوتے ہیں ان تمام مراحل سے گزرنے کے باوجود بھی یہ یقینی نہیں ہوتا کہ سنگین غفلت کے مرتکبین کو سزا ملے عموماً اس قسم کے عناصر عدالتوں سے رجوع کرکے ریلیف لے لیتے ہیں بہر حال اب جبکہ تحقیقاتی کمیٹی نے ذمہ داری عائد کردی ہے تو مقررہ مدت کے اندر اس رپورٹ پر عملدرآمد ہونا چاہئے اور با اثر افراد کے مقابلے میں ایک بیوہ کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں تعجیل ہونی چاہئے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آئندہ پولیس افسران اور ماتحت عملہ اس قسم کی کسی حرکت سے قبل سو بار سوچیں کہ ا ن کے اس عمل کاانجام کیاہوگا۔

ایل آر ایچ میں غفلت کا ناقابل یقین واقعہ

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے بلڈ بینک میں مشینری کی خرابی کے باعث خون کی مختلف اقسام کے241تھیلے خراب ہونے پر کچرے میں پھینک دینے کا واقعہ ناقابل یقین اور سر جھکانے کے قابل واقعہ ہے یقین نہیں آتا کہ صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال جو خود مختار بھی ہو اوراس کے بورڈ آف گورنرز کا سربراہ وزیر اعظم کا قریبی عزیز ہو اس کے باوجود ہسپتال کے سب سے ضروری حصے میں ریفریجریٹر کی خرابی کے باعث خون کی تھیلیاں ضائع ہونے کی نوبت آئے۔ یہ خرابی اچانک رونما نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ برس لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے بلڈ بینک میں مشینوں کی خرابی اور خون کے تھیلے خراب ہونے کی نشاندہی پر ہسپتال انتظامیہ نے مسئلہ حل کرانیکا دعویٰ کیا تھا لیکن گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر ریفریجریٹر نے خرابی پیدا ہونیکی وجہ سے کام بند کردیا جس کے نتیجے میں241بیگ خون ضائع ہوگیا ہے۔ یہ اس قدر سنگین غفلت کا مظاہرہ ہے جس میں ہسپتال کی ہر سطح کا عملہ پوری طرح ذمہ دار ہے خاص طورپر وہ ذمہ دار افراد بطور خاص غفلت کے مرتکب ہوئے جن کی ذمہ داری ہسپتال کے انتظامات چلانا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت دونوں اس سنگین غفلت اور انسان کی سب سے قیمتی متاع کے تحفے کے ضیاع اور مریضوں کے خون سے محروم رہ جانے کی فوری تحقیقات اس طرح سے کرائیں کہ کوئی بھی غفلت کا مرتکب فرد بچ نہ پائے اس غفلت کی ذمہ داری عائد کئے جانے کے مرحلے میں تحقیقات کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کیلئے جملہ متعلقہ عملے کو کام سے روک دیا جائے اور ذمہ داری کے تعین کے بعد سزا پر عملدرآمد یقینی بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا جائے۔

مویشیوں کی افغانستان سمگلنگ سنگین مسئلہ

عیدالاضحی کی آمد پر مویشیوںکے غیر قانونی طریقے سے افغانستان لیجانے پر پابندی عائد کرنے کے عدالتی فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کی نگرانی کے حوالے سے عدالت اگر موزوں سمجھے تو ان سے اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی نگرانی کا مطالبہ غلط نہ ہوگا۔عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر افغانستان کو مویشیوں کی سمگلنگ کے باعث قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے ۔ گزشتہ سال خاص طور پر پابندی کے باوجود تھوڑی دیر کیلئے سرحد کھول کر جس بڑے پیمانے پر مویشیوں کی منتقلی کے باعث مقامی افراد کو مہنگے سے مہنگے داموںقربانی کیلئے مویشی خریدنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کے عدم اعادے کیلئے ضروری ہے کہ مویشیوں کی افغانستان سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سخت سے سخت اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

متعلقہ خبریں