Daily Mashriq

وزیر اعظم کاممکنہ دورہ امریکہ

وزیر اعظم کاممکنہ دورہ امریکہ

وزیر اعظم عنقریب واشنگٹن یاترا کرنے کوہیں۔ میڈیا میں ان کے اس دورے کو لے کر کافی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ لوگ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم صدر ٹرمپ سے ملاقات میں کیا مطالبات پیش کریں گے اور کیا اس دورے کے بعد پاکستان ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کسی قسم کی رعایت حاصل کر سکے گا یا نہیںاور کیا اب امریکہ آئی ایم ایف کو پاکستان پر ’’ہلکا ہاتھ‘‘ رکھنے کا کہے گا اور یہ بھی کہ اب امریکہ کو ہم سے افغانستان کے مسئلے پر مزید کیا درکار ہے۔ گو کہ ماضی میں ایسے دوروں کے نتائج کوئی ڈھکے چھپے نہیں البتہ اب کی بار اس نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم کو اس دورے کے حوالے سے نئی سوچ اپنانا ہوگی۔ 

یہ سربراہان مملکت کی کوئی روایتی ملاقات نہیں۔ عموماً ایسی ملاقاتوں کے پیچھے دونوں ممالک کی بیوروکریسی مہینوں تیاری کرتی ہے۔ ایسی ملاقاتوں میں دونوں سربراہان واضح اور ٹھوس پیشکشوں کے ساتھ ملتے ہیں اور ان ملاقاتوں میں کئی طرح کے ایم او یوز اورمعاہدات کے ذریعے تعلقات مستحکم کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان تمام چیزوں کی جھلک آئندہ ملاقات میں نظر آجائے مگر میرے لیے یہ بات ماننا کچھ مشکل ہے کہ اس ملاقات کے پیچھے امریکی بیوروکریسی یا اداروں کی کاوشیں شامل ہیں کیونکہ ماضی قریب میں امریکہ کی جانب سے ایسے کسی بھی دورے یا ملاقات کا شعوری طور پر کوئی موقع پیدا نہیں ہونے دیا گیا اور باوجود اس کے کہ امریکہ افغانستان میں اپنے اتحادی پاکستان کی کاوشوں کو مثبت انداز میں سراہتا ہے، واشنگٹن کا مجموعی طور پر پاکستان کے حوالے سے رویہ خاصا منفی ہی رہا ہے۔ البتہ یہ بات بعید از قیاس نہیںکہ یہ دورہ امریکی صدر ٹرمپ کی اپنے اتحادیوں کیساتھ منفعت بخش ڈیلز طے کرنے کی خاطر کی جانے والی کاوشوں کا نتیجہ ہو۔امریکہ کیلئے، ان حالات میں ان کاوشوں میں کامیابی یا ناکامی ، دونوں برابر ہیں۔ البتہ بین الاقوامی طور پر اس طرح کے اقدامات کو فارن پالیسی بیوروکریسیز کی جانب سے ناپسند کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طور پر ایسی خارجہ پالیسی کو بہتر گردانا جاتا ہے جو ’’گو سلو‘‘ کے برتے پر عمل پیرا ہو، جس میں کسی بھی قسم کے سرپرائز متوقع نہ ہوں اور بات چیت کے راستے ہمیشہ کھلے رہیں۔ آپ چاہے پاک امریکہ تعلقات میں کسی کے بھی حامی ہوں، آپ اس بات سے انکاری نہیں ہو سکتے کہ ہمارے ان تعلقات میں اصول پرستی نے کبھی ہمیں کوئی بڑا فائدہ نہیں پہنچایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے باہمی دلچسپی کے امور پرہمارے مفادات کا نہایت مختلف اور تقریباً متضاد ہونا ہے۔ سکرپٹ کے مطابق ممکنہ طور پر اس دورے میں صدر ٹرمپ پاکستان سے ناراضی کا اظہار کریں گے اور ہمیں افغانستان، دہشت گردی، عالمی پابندیوں، جوہری ہتھیاروں سے لاحق خطرات کے حوالے سے ڈرائیں دھمکائیں گے اور اس بات کا اعادہ کریں گے کہ جب تک پاکستان ان تمام معاملات میںتسلی بخش طرز عمل نہیں اپناتا تب تک امریکہ کی نظریں اس پر ٹکی رہیں گی ۔ جبکہ اس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی جانب سے پاکستان کو جنوبی ایشیاء میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ناجائز طور پر استعمال کرنے اور اس کے نتیجے میں بھارت کیساتھ مزید تلخ تعلقات ہونے کا الزام دھرا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کچھ نرمی ،رعایت اور حمایت کا بھی مطالبہ کیا جائیگا۔ میں ایسے کئی دوروں کا عینی شاہد رہا ہوں، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنے دور حکومت میں دو دفعہ امریکہ کا دورہ کیا ، اور ایک پرچی سے پڑھ کر وہی پرانی باتیں دہرائیں جن کا انہیں وہی روایتی جواب ملا۔ اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ ان دوروں سے امریکہ کے ہاں ہمارے لیے پائے جانے والے منفی تاثر میں ذرہ بھر بھی بہتری نہیں آسکی۔ یہ بات درست ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کو اب ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی ضرورت ہے اور بلا شبہ ٹرمپ اور خان صاحب ان تعلقات پر جمی گرد دھونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ البتہ یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب دونوں ممالک کی بیوروکریسیز اپنا روایتی طرز عمل اپنانے کی بجائے ان دونوں راہنماؤں کو کچھ آزادی دیں۔ وگرنہ وہی پرانے مطالبات کی فہرست دہرانے سے چنداں کوئی فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ دونوں ممالک کے سربراہان کو اپنی اپنی بیوروکریسیز کی کارستانیوں سے ماورا ہو کر ایک دوسرے کیساتھ کھلے دل سے گفتگو کرنا ہوگی اور ان حقیقی مسائل کو ایک دوجے کے گوش گزار کرنا ہوگا جو اس سے پہلے ان کے تعلقات کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کو یہ بتانا پڑیگا کہ اس کیلئے پاک چین بڑھتے تعلقات ایک مسئلہ ہیں اور عمران خان کو بھی پاکستان کی جانب سے یہ گلہ پہنچانا ہوگا کہ ہمیں امریکہ کی جانب سے بھارت کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کاوشوں پر اس کی حوصلہ افزائی کرنا مایوس کن ہے۔ دونوں سربراہان کو ان مسائل کے ایک ایسے حل کے ساتھ سامنے آنا ہوگا جو بروقت، مؤثر اور دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔ ورنہ دوسری صورت میں روایتی کارروائی تک محدود ملاقات جس میں صرف آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور افغانستان مسئلے کے حوالے سے ہی گفتگو ہوگی، سوائے وقت کے ضیاع کے ،کچھ نہ ہوگا۔ اس حوالے سے ایک تجویز یہ بھی پیش خدمت ہے کہ دونوں سربراہان ایسے ورکنگ گروپس تشکیل دیدیں جو ان مسائل پر ملاقات کے بعد تفصیل کیساتھ کام کریں اور کوئی مؤثر حل تجویز کریں البتہ ایسا تب ہی ممکن ہے جب دونوں راہنما خلوص نیت کیساتھ ذاتی طور پر ان مسائل کا حل تلاشنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ میری رائے یہ ہے کہ اگر اس دورے کے بعد دونوں لیڈران ایک دوسرے سے ذاتی تعلق اور قرابت داری پیدا کرنے میں کامیاب ہوں تو میرے نزدیک یہ ایک کامیاب دورہ ہوگا۔

(بشکریہ: ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں