Daily Mashriq

نظربد سے خدا بچائے مجھے

نظربد سے خدا بچائے مجھے

گھنٹہ گھر پشاور تحصیل گورگٹھری سے 450میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ 1900ء میں تعمیر کئے جانے والے کلاک ٹاور کی اونچائی 85فٹ تھی، ان دنوں فصیل شہر کے اندر اور اس سے باہر پلازوں کا جنگل اُگنا شروع نہیں ہوا تھے، لکڑی، وزیری اینٹوں اور مٹی گارے سے بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی کچی عمارتوں کی بستی تھی، شہر پشاور جن کا قد گھنٹہ گھر پشاور سے اونچا نہیں تھا، اس لئے دور دور سے نظر آتا تھا یہ لمبو، اس کے گھنٹوں کی آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی، خصوصاً آدھی رات کے سناٹے میں جب یہ درجن بھر گھنٹیاں بجاتا تو پشاور والے اس کی ہر گھنٹی کیساتھ ایک سے شروع ہونے والی اور بارہ کے عدد پر ختم ہونے والی گنتی گننے لگتے۔ عہد برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کی خوشی میں اہلیان پشاور کو تحفے میں ملا تھا یہ گھنٹہ گھر، پشاوری اسے ’’بالو دا گھڑیال‘‘ بھی کہتے تھے۔ اس لئے کہ ان دنوں ’بالو‘ کی اینٹوں سے تعمیر ہونے والا یہ پہلا مینارہ تھا، اس سے پہلے یہاں کی تعمیرات میں وزیری اینٹوں کا استعمال ہوتا تھا، پشاور میں ساڑھے چار انچ چوڑی اور 9انچ لمبی ’بالو‘ کی اینٹوں سے تعمیر کی جانے والی عمارتوں کا رواج انگریزی دور اقتدار میں شروع ہوا، گمان ہے کہ بالو کی اینٹوں کا بھٹہ جی ٹی روڈ کے شمال میں اکبرپورہ کو جانے والی سڑک پر واقع ’بالو‘ نامی گاؤں میں تھا جس کی مناسبت سے گھنٹہ گھر پشاور کو ’’بالو دا گھڑیال‘‘ کہا جانے لگا۔ گھنٹہ گھر پشاور کی مینارنما عمارت کی اوپری منزل میں چہار سو گھڑیوں کے ایک سو انیس برس پرانے ڈائل نصب ہیں جن کی سوئیاں اس کے اندر نصب، لیوروں، گراریوں اور مشینری کے دیگر پرزوں کی مدد سے ڈائل پر گھومتی تھیں اور ہر گھنٹہ بعد اس کی انتہائی اوپری منزل پر نصب دھات کے بنے بہت بڑے کٹورے پر ہتھوڑا سا برسا کر اہلیان شہر کو وقت کے گزرنے کا احساس دلاتی رہتی تھیں۔ زبانیں گنگ ہوگئیں شہریوں کی اور کان پک گئے ان انٹیک گھڑیوں کے خراب ہونے کی شکایتیں سننے والے ارباب اختیار کی۔ کوشش کی گئی مگر اس کا کوئی مستقل حل نہ نکل سکا، گھنٹہ گھر کی گھڑیاں عارضی طور پر ٹھیک ہوتیں اور کچھ مدت بعد

اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

کے مصداق یہ بیماری دل لاعلاج ثابت ہوتی رہتی۔ راقم السطور جب بلدیہ پشاور کا ملازم تھا تو مختصر عرصہ کیلئے اسے گھنٹہ گھر پشاور کا برائے نام سا انچارج بنایا گیا جبکہ اس کی تزئین وآرائش کی ذمہ داری اس وقت کے نائب ناظم عبدالواحد قادری کو سونپ دی گئی۔ ان دنوں ہمیں متعدد بار گھنٹہ گھر کے اندر جانے کا موقع ملا۔ لکڑی کے تختوں کی بنی سیڑھیاںہمیں اوپری منزلوں کی طرف لیکر جاتیں جہاں لگی محرابی کھڑکیوں سے ہم اس کے پرہجوم گرد ونواح کا نظارہ کرتے۔ کریم پورہ بازار کے ایک دکاندار کے پاس ہوتی تھی گھنٹہ گھر پشاور کے دروازے کی چابی، وہی اس میں چابی بھر کر توانائی سٹور کرتا جس کے استعمال سے گھڑی کی سوئیوں میں جان پیدا ہو جاتی اور وہ وقت گزرنے کے تناسب سے ڈائل پر اپنی مخصوص رفتار سے گھومنے لگتیں۔ چابی بھرنے سے لوہے کی تاروں کا بنا ایک موٹا سا رسہ ایکسل پر لپیٹا جاتا جو پنڈولم کیساتھ لٹکتے مخصوص مقدار کے وزن کے زور سے غیرمحسوس انداز سے آہستہ آہستہ کھلتا اور گھڑی کی سوئیوں کے گھومنے کا سبب بنتا رہتا۔ جب ہم نے گھنٹہ گھر پشاور کے پنڈولم یا لٹکن کیساتھ بالو کی اینٹیں بطور وزن بندھی دیکھیں تو ہمیں بلدیہ پشاور کی بے سر وسامانی پر کف افسوس ملنا پڑا اور ہم چابی بھرنے والے دکاندار کی عقل رسا کی داد دئیے بنا نہ رہ سکے۔ بلدیہ پشاور والوں نے گھنٹہ گھر پشاور کی تصویر کا مونوگرام اپنی ہر فائل لیٹرپیڈ اور دیگر اہم کاغذات پر پرنٹ کروایا ہوا تھا کہ شہر کے وسط میں ایستادہ یہ تاریخی گھنٹہ گھر ان کیلئے طرۂ امتیاز سے کم حیثیت نہیں رکھتا۔ گھنٹہ گھر پشاور کے پہلو میں قبضہ مافیا نے ملی بھگت سے تجاوزات قائم کر رکھی تھیں لیکن کل کی نسبت آج کی صورت دگرگوں ہے۔ آثار قدیمہ والوں نے گھنٹہ گھر پشاور سے تحصیل گورگٹھری تک کے 450 میٹر کے راستے کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کی شان رفتہ کو بحال کرنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ اسے ہیری ٹیج ٹریل کا نام دیا اور اس میں قدیم طرز کی محرابیں اور تزئین وآرائش کا کام کرکے پشاور شہر کی سیر وسیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے جاذب نظر یا قابل دید مقام بنانے کی کوشش کی لیکن گھنٹہ گھر کے نیچے قائم اس مچھلی بازار یا مچھی ہٹہ کو ختم نہ کرسکے جو کسی زمانہ میں مسلم مینابازار میں قائم تھا اور جس کی مناسبت سے اب بھی پرانے لوگ مسلم مینابازار کو مچھی ہٹہ ہی کے نام سے یاد کرتے ہیں، اگر ہم پشاور کے خوبصورت گھنٹہ گھر کو شہر پشاور کے ایک ناچتے مور سے تشبیہ دیں تو اس مچھی ہٹہ کو ناچتے مور کے پاؤں کہہ سکتے ہیں، ایسے پاؤں جن کو دیکھ کر مور کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔ پشاور کے قابل دید مقامات میں سے اگر آپ ہیری ٹیج ٹریل کی سیر کیلئے آئیں تو گھنٹہ گھر پشاور کے دامن میں مچھلی بازار کے منظرنامہ میں آپ کو مچھلیوں کی باس اور ان کی باقیات کی آلودگی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جسے آپ گھنٹہ گھر پشاور کی خوبصورتی کا نظر بٹوہ کہہ کر قبول کرلیجئے گا کیونکہ بقول گھنٹہ گھر پشاور

ہر کسی کی نظر مجھ پر ہے

نظر بد سے خدا بچائے مجھے

متعلقہ خبریں