Daily Mashriq

عازمین حج کیلئے روڈ ٹو مکہ پروگرام

عازمین حج کیلئے روڈ ٹو مکہ پروگرام

فریضہ حج ایک مشقت طلب عبادت ہے جس میں حجاج کرام کو مسلسل پیدل چلنا پڑتا ہے، بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور منیٰ، مزدلفہ ومیدان عرفات میں قیام سے لیکر جمرات کی رمی تک یہ سارے مراحل پیدل ہی طے ہوتے ہیں پھر جب لاکھوں کا مجمع ہو تو منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اوردھکم پیل سے مشقت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، حجاج کرام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال خادمین حرمین شریفین کی طرف سے حجاج کرام کی سہولیات میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، آج سے چند سال قبل فریضہ حج کی ادائیگی میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا آج اس کی نسبت بہت سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں،پہلی بار حج یا عمرہ کیلئے جانے والے زائرین کو دفعتاً خیال گزرتا ہے کہ لاکھوں کے مجمع کیلئے اس قدر سہولیات کی فراہمی کیسے ممکن ہے ۔ حجاج کرام کی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل ایئر پورٹس پر امیگریشن کی تھی لیکن امسال اس مشکل کا حل بھی نکال لیا گیا ہے اورپہلے مرحلے میں سعودی عرب کی جانب سے عازمین حج کیلئے خصوصی پروگرام ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پاکستان سمیت پانچ ممالک کیلئے ہے‘ جن میںپاکستان کے علاوہ تیونس بنگلہ دیش‘ انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں اور ان ملکوں کے دو لاکھ پچیس ہزار حجاج اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام کے تحت عازمین حج کی امیگریشن‘ سامان اور بکنگ اور کوڈنگ ملکی ہوائی جہازوں سے ہو رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان کا سامان مکہ یا مدینہ میں ان کی رہائش گاہوں تک پہنچایا جائیگا اور انہیں کسٹم اور امیگریشن کلیئرنس کے لیے سعودی عرب میں ماضی کی طرح طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑیگی۔ خادم حرمین شریفین کی جانب سے عازمین حج کیلئے ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام یقیناً حجاج کرام کیلئے بہت بڑی سہولت ہے اس سے پاکستانی حجاج کرام کو سفر حج میں لاحق دیرینہ پریشانیوںو تکالیف سے نجات حاصل ہو گی۔ سعودی حکام کے مطابق سعودی پاسپورٹ کنٹرول کا عملہ تمام فنی نیٹ ورک کیساتھ ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ پروگرام کے تحت آپریٹ ہونے والے ہوائی اڈوں پر موجود ہو گا اور وہ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے کمپیوٹر کے ذریعے ان تمام سفری دستاویزات کاجائزہ لیں گے اور حجاج کے بورڈنگ کارڈاور ضروری شناختی کارڈ کی چیکنگ کرے گا تاکہ سعودی عرب میں حج ڈائریکٹوریٹ کا عملہ انہیں جلد ازجلد اپنی رہائش گاہوں تک پہنچا سکے۔ یہ انتہائی احسن اقدام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

30لاکھ سے زائد مسلمان ہر برس حج کرتے ہیںاورہر سال اس تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے، لاکھوں افراد کی میزبانی سرزمین حجاز کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے‘ اسلئے سعودی حکومت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ لاکھوں حجاج کرام کو جتنی زیادہ سہولتیں دے سکیں فراہم کی جائیں۔ لاکھوں عازمین میں بڑی تعداد ایسوں کی بھی ہوتی ہے جو پہلی مرتبہ حج پر آتے ہیں اور غیردانستہ طور پر غلطیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں۔ پاکستانی حجاج کرام دو طرح کے سسٹم کے تحت سفر حج پر روانہ ہوتے ہیں ایک سرکاری کوٹہ کے تحت جن سے نسبتاً کم پیسے وصول کئے جاتے ہیں دوسرے پرائیویٹ حج کوٹہ کے تحت۔ سرکاری کوٹہ کے تحت حج پر جانے والے حجاج کرام کی شکایات کے مناسب ازالہ کا انتظام موجود ہوتا ہے لیکن پرائیویٹ حج کوٹہ پر جانیوالے حجاج کرام کی مشکلات کے ازالے کا مناسب بندوبست نہیں ہوتاہے ،حکومت کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے، حج کے موقع پر زیادہ تر حادثات جلدبازی‘ بھگدڑ اور شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران ہوتے ہیں ہر ملک کے عازمین حج کو متعین جگہ و وقت پہلے بتا دئیے جاتے ہیں لیکن بعض حجاج گروپ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کیمپوں کے منتظمین کی تھوڑی سی عدم توجہ کے باعث حادثات رونما ہو جاتے ہیں۔ رمی کے دوران 2004کی بھگدڑکے بعد سعودی حکومت نے جمرات کے پل کے آس پاس بہت بڑا تعمیراتی منصوبہ شروع کیا تھا ‘جس میں اضافی راستے اور ہنگامی صورتحال میں نکلنے کے اضافی راستے بنائے گئے۔ جمرات کے تین ستونوں کی جگہ اب دیواریں لگائی گئی ہیں تاکہ رمی آسان ہوسکے۔ اس کے علاوہ رمی کیلئے پل کی پانچ منزلیں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ مسجد الحرام کے ساڑھے 26ارب ڈالر کی لاگت سے توسیعی منصوبے سمیت عازمین کو مکہ سے مدینہ لیجانے کیلئے 2018ء میں مکہ اور مدینہ کوآپس میں ملانے کی خاطر قریباً آٹھ ارب امریکی ڈالرز سے تیار ہونے والی ہائی سپیڈ ٹرین کا افتتاح ہو چکا ہے۔ سعودی عرب میںیہ اپنی نوعیت کا مہنگا ترین اور اولین منصوبہ ہے۔ 450کلومیٹر طویل حرمین ریلوے کے اس منصوبے سے سالانہ ساٹھ ملین مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ سعودی ولی عہد کے جدت پسند پروگرام وژن 2030ء کے تحت سعودی عرب میں اصلاحات پر بھی تیزی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ جیسے احسن پروگرام سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ سعودی حکومت عازمین کی تکالیف و مسائل کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات پہنچانے کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے وعدے کو پورا بھی کررہی ہے۔ بیماریاںیا قدرتی آفات سمیت حکومت یا نجی حج آپریٹرز کی جانب سے حجاج کرام کو ماضی میں تکالیف کا سامنا رہا ہے۔ اس بار امید کی جا رہی ہے کہ حکومت پاکستان نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہو گا اور اب عازمین حج کو بدانتظامی یا کسی کوفت سے دوچار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں