Daily Mashriq

ایران نے برطانوی تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کا الزام مسترد کردیا

ایران نے برطانوی تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کا الزام مسترد کردیا

ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں برطانیہ کی جانب سے تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کا الزام مسترد کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کی خبر ایجنسی 'سپاہ نیوز' نے ایک بیان میں کہا ’گزشتہ 24 گھنٹے میں برطانیہ سمیت کسی غیر ملکی کشتی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی‘۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ اگر انہیں غیر ملکی کشتیوں کو قبضے میں لینے کا حکم دیا گیا ہوتا تو وہ فوری طور پر، فیصلہ کن طریقے اور تیزی سے ایسا کرتے‘۔

ایران نے ہمارے تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کی کوشش کی، برطانیہ

قبل ازیں برطانوی بحریہ نے الزام عائد کیا تھا کہ 3 ایرانی پیراملٹری کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں برطانیہ کے تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

ایک امریکی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ایک امریکی طیارہ فضا میں موجود تھا اور ان کے پاس مذکورہ واقعے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے ایک بیان میں کہا کہ برطانوی بحریہ کا جہاز 'ایچ ایم ایس مونٹروس' آبنائے ہرمز میں برٹش ہیریٹیج نامی کمرشل کشتی کے ساتھ موجود تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ایچ ایم ایس مونٹروس، ایرانی کشتیوں اور برٹش ہیریٹیج کے درمیان آیا اور انہیں زبانی طور پر تنبیہ کی، جس کے بعد ایرانی کشتیاں واپس پلٹ گئیں‘۔

اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم اس اقدام پر فکر مند ہیں اور ایرانی حکام سے خطے میں کشیدہ صورتحال میں کمی لانے پر اصرار کرتے رہیں گے‘۔

اسکائی نیوز نے میری ٹائم انڈسٹری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برطانیہ نے اپنے تمام بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں مزید سیکیورٹی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ اسپین کے جنوبی علاقے میں برطانیہ کے زیر قبضہ علاقے 'جبل الطارق' میں ایرانی تیل بردار ٹینکر کو تحویل میں لینے کے بعد پیش آیا۔

330 میٹر گریس ون ٹینکر جو 20 لاکھ بیرل تیل جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے جبل الطارق میں پولیس اور کسٹمز نے برٹش رائل میرینز کی مدد سے روک لیا تھا۔

ایران نے تیل بردار ٹینکر تحویل میں لیے جانے کو غیر قانونی مداخلت قرار دیا تھا لیکن جبل الطارق کے حکام نے کہا تھا کہ کارگو یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کی طرف رواں دواں تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے برطانیہ کو آئل ٹینکر قبضے میں لینے کے اس بیوقوفانہ عمل کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔

حسن روحانی نے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے نشر کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ’برطانیہ نے سمندر کو غیر محفوظ بنانے کا آغاز کیا اور بعد میں آپ اس کے نتائج بھگتیں گے‘۔

اس سے قبل 8 جولائی کو ایران کے وزیر دفاع نے برطانیہ کے اقدام کا ردعمل دیتے ہوئے تیل بردار ٹینکر ضبط کرنے کے اقدام کو 'سمندری قزاقی' قرار دیا تھا۔

بریگیڈئیر جنرل عامر حتامی نے کہا تھا ہم یہ برداشت نہیں کریں گے اور ردعمل دیں گے۔

ایرانی مفاہمتی کونسل کے سیکریٹری نے خبردار کیا تھا کہ اگر برطانیہ، ٹینکر کو آزاد کرنے میں ناکام ہوا تو ایران پھر جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا تھا کہ ’ اگر برطانیہ، ایرانی تیل بردار ٹینکر کو آزاد نہیں کرتا تو یہ ایرانی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ برطانیہ کا آئل ٹینکر قبضے میں لے لیں۔'

یہ واقعہ حالیہ چند ہفتوں میں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر خلیج عمان میں مختلف تیل بردار جہازوں پر حملہ کرنے کے الزام اور ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔

امریکا نے گزشتہ سال ایران کے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اس پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد یورپی ممالک، معاہدے سے جُڑے رہنے کی خواہش کے باوجود تہران سے معاملات میں بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

واشنگٹن نے ایران کی تیل کی برآمدات مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے گزشتہ دو ماہ کے دوران تہران پر پابندیوں میں مزید اضافہ کیا ہے، جس کے بعد ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔

متعلقہ خبریں