Daily Mashriq

جنرل قمرجاوید باجوہ کا انتباہ

جنرل قمرجاوید باجوہ کا انتباہ

بھارت ایک عرصہ سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ ہفتہ کے روزبھارتی فائرنگ سے پاکستان کا ایک بزرگ شہری جاں بحق ہو گیا۔ پاک فوج کی طرف سے جب ان اشتعال انگیز کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جاتا ہے تو بھارتی فوجی قیادت بیان بازی پر اُتر آتی ہے۔ پچھلے دنوں بھارت کے آرمی چیف نے پاکستان کو اڑھائی فرنٹ کھولنے کی دھمکی دی جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کامعائنہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج ہر محاذ پر بھارت کامنہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اور بھارت کی ہر کارروائی پر اسے سزادی جائے گی ۔لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ بھارت کی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے ۔ اِکا دُکا واقعات کو تو سرحد پر مامور کمانڈروں کے ذریعے طے کیاجا سکتاہے ۔ لیکن بھارت کے آرمی چیف کی طرف سے آنے والے اشتعال انگیز بیانات کومحض گیڈر بھبکیاں قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ سلامتی کی صورت حال پر گزشتہ دنوں پاک فوج کے کمانڈروں کا خصوصی اجلاس اور وفاقی کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس یکے بعد دیگرے ہوئے جن میں بھارت کو واضح پیغام دیا گیا کہ کسی بھی ایڈونچر کے نتائج بھارت کے لیے خطرناک ثابت ہوںگے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات کی تاریخ پرانی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگیںبھی ہوچکی ہیں۔ دونوں کو معلوم ہے کہ کوئی بھی دوسرے کے لیے ترنوالہ نہیں ہے۔ اس لیے بھارت اور پاکستان کی وسیع آبادی کے امن اور خوشحالی کی خاطر بھارت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تنازع کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی طرف آئے۔ بھارتی آرمی چیف کی دھمکی کے بعد شنگھائی تعاون کونسل کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان مختصر علیک سلیک بھارتی وزیر خارجہ کے چند روز پہلے کے بیان کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھاکہ بھارت پاکستان کے ساتھ تنازعات مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کا خواہاں ہے۔ اگر یہ بیان اور یہ مزاج پرسی جنگوں اور کشیدگی کے بے ثمر تجربے کی بنا پر بہتر مستقبل کی تلاش کا اشارہ ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جا سکتا ہے ۔ اگر یہ ماضی کی طرح امن کے لیے بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے باہمی مذاکرات کی طرف محض اشارہ ہے تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا انتباہ بھارتی قائدین کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ کسی بھی ایڈونچر کابھرپور جواب دیاجائے گا۔
سعودی قطر تنازع اور پاکستان
سعودی عرب اور اس کے حلیف پانچ عرب ممالک کی طرف سے ایک اور عرب ملک قطر کے بائیکاٹ میںصدر ٹرمپ نے امریکہ کا وزن بھی ڈال دیا ہے اور اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر ایک عرصے سے دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی مالی معاونت کر رہاہے۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر پانچ خلیجی ممالک اور ان کے ساتھ ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ریاض میں عرب اسلامی کانفرنس کے بعد ہی کیوں معلوم ہوا کہ قطر دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی مالی معاونت کرتا ہے جہاں صدر ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اربوں ڈالر کے امریکی اسلحہ کی خریداری کے معاہدے کیے اور قطر نے امریکی اسلحہ کی خریداری میں دلچسپی کااظہار نہیںکیا۔امیر قطر نے سعودی امریکی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے اپنے قدموں پر جمے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کااندازہ ان کے دورہ روس کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں سے اخبارات کے مطابق انہیں موثر حمایت کی یقین دہانی حاصل نہیںہوئی ۔ امیر کویت نے سعودی حکمرانوں سے رابطے کیے ہیں اور ترکی نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے سعودی عرب اور قطر دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں ۔ پاکستان کا موقف بھی یہی ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور قطر دونوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھتاہے اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ قطر سعودی تنازع کو رمضان سے پہلے پہلے ختم کرانے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ ریاض کانفرنس کا مقصد تو عالم اسلام میںاتحاد کا اظہار تھا لیکن اس کا اثر یہ نظر آیا کہ عالم اسلام میںاختلافات پیدا ہو گئے۔ اگر قطر پر یہ اعتراض ہے کہ وہ دہشت گردوںاور انتہاپسندوں کاایک عرصے سے حامی ہے تو یہ اعتراض ایک عرصے سے موجود ہے۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ قطر کے خلاف ردِعمل اب سامنے کیوں آیاہے۔ وجوہ فعال سفارت کاری سے سامنے آ سکیں گی اورفعال سفارت کاری کے ذریعے ہی خلیجی عرب ممالک کے درمیان حائل ہونے والی خلیج کو پر کیا جا سکے گا۔اس لیے پاکستان کودیگر غیر عرب اسلامی ممالک کے تعاون سے فعال تر سفارت کاری کے ذریعے اسلامی ملکوں کے اتحاد کوبچانے بلکہ اسے نئی دنیا میںنئی جہات کی طرف لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اداریہ