Daily Mashriq

ذکر قومی خدمات کے اداروں کا

ذکر قومی خدمات کے اداروں کا

ضروری خدمات کے بے شمار ایسے ادارے ہیں جن کی آپ کو کسی وقت بھی ضرورت پڑ سکتی۔ ان پر بھی یہ لازم ہے کہ آپ کے رابطہ کرنے پر آپ کی خدمت کے لئے وہ فوری طور پر حاضر ہو جائیں۔ آپ کے برقی پیغام کا دوسرے ہی لمحے ہی جواب دے دیں اور آپ کے فون کو توجہ سے سنیں، لیکن بالعموم ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں گزشتہ 70سال سے یہ روایت ہی قائم نہ ہوسکی۔ ہسپتال کے شعبہ اتفاقیہ حادثات کی بروقت آپ کو توجہ دے گا اس کا آپ تصور ہی نہ کریں۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ یہی کچھ 30سال پہلے کی بات ہے ڈیلیوری کیس میں میری اہلیہ مردان کے پرانے ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں داخل تھیں۔ ڈیلیوری ہو چکی تھی' رات کے کوئی دو بجے ان کے پیٹ میں شدید درد اٹھا۔ میں ڈیوٹی پر موجود میل نرس کے کمرے کی طرف بھاگا۔ مسلسل دروازہ کھٹکھٹاتا رہا۔ اندر سے صرف یہی جواب آیا درزم' درزم آتا ہوں۔ وہ صبح دس بجے تشریف لائے۔ گردے کی تکلیف تشخیص ہوئی۔ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے آج تک ہماری اہلیہ کو اس روگ سے چھٹکارا نہیں ملا۔ ڈیلیوری کے وقت بھی متعلقہ گا ئنا کا لو جسٹ موجود نہ تھی۔ بعد میں بھی ان کا دیدار نصیب نہیں ہوا۔ گھر سے ہی انہوں نے ہمیں ہسپتال سے فراغت کا پروانہ جاری کیا ۔ بیٹی ہوئی تھی۔ پروانے میں درج تھا مریضہ نے ایک Male child کو جنم دیا ہے' صحت بحال ہے اب اسے فارغ کیا جاتا ہے۔

کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
خیر یہ تو ایک مثال تھی ایسے سینکڑوں لطیفے سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ دائیں ہاتھ کی بجائے بائیں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ پیٹ میں نشتر' قینچی اور تولئے چھوڑ دینے کے واقعات اخباروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ اگر آپ مریض کو شعبہ حادثات تک پہنچا بھی دیں وہ اپنڈکس کے درد سے تڑپ رہا ہوگا' کسی حادثے میں زخمی ہونے پر اس کے زخموں سے خون بہتا ہوگا۔ وہاں ایمرجنسی میں بیٹھا عملہ اس بے دلی سے مریض پر توجہ فرمائے گا جیسے لواحقین ان کی خدمت میں بارات لے کر آئے ہوں۔ یہ تو طبی شعبے جیسے اہم فوری خدمت کے ادارے کا ذکر ہوا۔ آگ لگنے پر فائر بریگیڈ والوں کو تو فون کرکے دیکھیں آپ کو یوں لگے گا کہ آپ نے کسی قبرستان کو فون کیا ہو۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر آپ کے فون کی گھنٹی کسی مردے کو جگانے میں کامیاب بھی ہوگئی اور آپ عرض کریں کہ ہمارے محلے میں آگ لگ گئی ہے اگر زحمت خاطر نہ ہو تو اہل محلہ کو ان شعلوں میں بھسم ہونے سے بچا کر عنداللہ ماجور ہوں۔ جواب میں طویل خاموشی۔ گلہ کھنکھارنے کی آواز' کچھ جمائیاں اور پھر جواب ملے گا خہ دہ سہ چل کوو۔ چلو کچھ کرتے ہیں۔ غالب نے ایسے موقعوں ہی کے لئے کہا تھا
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
بجلی بھی عوامی خدمت کے ادارے کے طور پر شہرت رکھتی ہے۔ بجلی کے بل کی پشت پر شکایت درج کرنے ے لئے بے شمار فون نمبر درج ہوتے ہیں۔ ہم نے جب بھی اپنی کسی شکایت کے لئے ان نمبروں پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی حلفاً کہتے ہیں کسی نے بات سننے کی زحمت نہیں کی۔ جواب نہ ملنے پر جب مقامی لائن مین سے رابطے کی کوشش کی جاتی ہے وہ فون کی گھنٹی کی مسلسل سمع خراشی سے تنگ آکر پورے طنطنے کے ساتھ پوچھتے ہیں وایہ سہ دی' کیا ہے بکو' شکایت گوش گزار کرنے پر بتایا جاتا ہے فارغ ہونے پر آتے ہیں۔ ان کی اس فراغت کے لئے آپ کو قیامت کے تیسرے دن تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اب ذرا گیس والوں کی بات ہو جائے۔ ایک تو ہماری بستی میں ایک مستقل مسئلہ یہ ہے کہ لائٹ چلی جانے کے بعد دوسرے ہی لمحے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں اس ساتھ کی وجہ آج تک سمجھ میں نہ آئی۔ ہم نے کئی بار متعلقہ محکمے کے نوٹس میں یہ بات لانے کی کوشش کی لیکن ہمیں ہر بار کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ ایک ستم ظریف نے تو ہماری شکایت پر یہ مشورہ دیا' پروفیسر صاحب گزارہ کوہ۔ ہمارے آباو اجداد بھی تو جنگل کی لکڑیوں اور اپلے استعمال کرتے تھے۔ ان کا مشورہ صائب تھا۔ اکیسویں صدی کے اس خلائی دور میں اپلوں کے استعمال کا تجربہ بھی کرکے دیکھ لیتے ہیں اور اب لاسٹ بٹ ناٹ دلیسٹ' نیٹ ورک اور اس سے وابستہ ٹیلی فون اور ٹیلی وژن جدید دور کا ایک نیا عذاب ہے۔ لیکن کچھ لوگ یہ گلہ بھی کرتے ہیں کہ بجلی ٹیلی فون کا محکمہ ہی آپ کا فون اٹینڈ نہ کرے تو پھر دوسرے محکموں سے کیوں شکایت کی جائے۔ تاہم ٹیلی فون کا محکمہ قدرے مستعد ضرور ہے اور لوگوں کی ان کی کارکردگی سے نسبتاً کم شکایت رہی ہے۔ کسی کے حق میں کچھ تعریفی کلمات بھی کہنا ضروری ہیں۔ یہ ایک ایسا محکمہ ہے جس کے کارندوں کو اگر زمین کے فرشتے نہ کہیں تو یہ مناسب نہ ہوگا۔ ہماری مراد ایمرجنسی سروس 1122 سے وابستہ کارندوں سے ہے۔ انہیں فون کرکے تو دیکھیں اس تیزی سے جواب دیتے ہیں جیسے انہیں آپ ہی کے فون کا انتظار تھا۔ دوسرے لمحے ہی یہ رجال الغیب کی طرح پردہ غائب سے نمودار ہو کر آپ کی خدمت میں دست بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جبکہ عوامی خدمت گزاری کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے 1122 ایمرجنسی سروس کی بے لوث خدمت کی تعریف ہم پر واجب ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خدمت کے بعد وہ آپ کے ہاتھوں کی طرف بھی نہیں دیکھتے۔

اداریہ