Daily Mashriq


ہمارا علاج کیسے ہو ؟

ہمارا علاج کیسے ہو ؟

ہماری سیاست بھی سٹار پلس کا ڈرامہ ہو کر رہ گئی ہے ۔ کئی دنوں بعد بھی دیکھو تو بات چند جملوں سے آگے نہیں بڑھ پائی ہوتی ۔ وہی باتیں ہیں وہی پانامہ کیس ، وہی ڈان لیکس ، وہی تحقیقات وہی اپنی بے گناہی کے نعرے ، وہی پی ٹی آئی کا لہجہ اور انصاف کے حصول میں حد سے گزرجانے کی خواہش ۔ وہی چند سیاسی بونے جو اچھل اچھل کر حکومت کے سرکس کی تعریفیں کرتے ہیں اور خود بھی مزاحیہ انداز میں کرتب کر کے دکھاتے ہیں تاکہ وقفے میں ناظرین کی توجہ مرتکز رکھ سکیں ۔ لیکن اس سرکس کا معیار بہت گر چکا ہے ۔ اب اس میں کوئی اچھا معیاری کرتب بھی دکھائی نہیں دیتا اور بونے بھی غیر اخلاقی جگت بازی پر اتر آئے ہیں ۔ ایسے میں عدالت عالیہ نے ہمارے معاشرے کے حوالے سے ایک بڑا سچ بولا ہے ۔ جسٹس کھوسہ کہتے ہیں کہ معاشرہ اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ لوگ سچ نہیں بولتے لیکن عدل مانگتے ہیں ۔ ان کے اس سچ کو اس معاشرے کی کسوٹی بنایا جا سکتا ہے ۔ ایک طویل عرصے سے اس ملک کے سوچنے سمجھنے والے لوگ بھی تو اسی جانب اشارہ کرتے نظر آتے ہیں لیکن عدالت عالیہ کی جانب سے اس بات کا کیا جانا اور معنی رکھتا ہے ۔ جب ایک ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یہ بات کہے تو وہ سند ہے اورپھر اس پر بحث کی گنجائش نہیں لیکن جسٹس کھوسہ کے اس جملے میں مجھے جو تاسف دکھائی دیتا ہے اس کے باعث مجھے اپنے ارد گرد موجود اس معاشرے کا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگا ہے ۔ عدالتیں تو ثبوتوں اور شہادتوں پر فیصلے کیا کرتی ہیں جہاں انسان کوڑیوں کے مول بکیں اور سچ بولنے کی سزا بقیہ معاشرے نے گردن زنی رکھ چھوڑی ہو ، وہاں بھلا عدالتوں سے انصاف کیسے مل سکے گا ؟ کیونکہ یہی انسان تو شہادتیں دیں گے اور انہی کے لائے ثبوتوں پر عدالت فیصلہ کرے گی ۔ اور پھر عمران خان کی آواز آتی ہے کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی کی تحقیقات میں رکاوٹ ہیں ۔ سپریم کورٹ ان سے استعفیٰ لے ۔ اب کوئی انہیں کہے کہ عدالت عالیہ بھی تو ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر ہی فیصلہ کرے گی ۔ عمران خان یہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ انہوں نے عدالتوں کے تحفظ کے لیے اپنے کارکنوں کو کال دیدی ہے ۔اگرن لیگ نے حملہ کیا تو ان کے کارکن سپریم کورٹ کا سڑکوں پر دفاع کرینگے ۔ عمران خان کی باتیں دل کو بہت بھلی لگتی ہیں لیکن جانے کیوں ان باتوں سے زیادہ دل یہ چاہتا ہے کہ کوئی ایسا اقدام کیا جائے ، ایسے شواہداور ثبوت اکٹھے کیے جائیں جو ان گناہوں کو ثابت کریں جن کی باتیں کرتے کرتے بھی ہم بے حس ہو چلے ہیں ۔ عمران خان کے لہجے سے ابھی سیاسی نو آموزی ختم نہیں ہوئی اور مسلم لیگ (ن)نے بھی ان کو دیکھ کر ایک نیا لبادہ اوڑ ھ لیا ہے جس میں وہ خود سامنے نہیں آتے اور رجز پڑھنے والے عمران خان کو للکار تے رہتے ہیں ۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی توانائی انہیں جواب دینے میں خرچ ہوتی رہتی ہے ۔ جب ماحول میں کچھ نرمی محسوس ہونے لگتی ہے کبھی میاں شہباز شریف کوئی بیان داغ دیتے ہیں ، کبھی قازقستان کے دورے پر گئے میاں نواز شریف کی آواز آتی ہے کہ'' کبھی پاناما ، کبھی ڈان لیکس ، ان چیزوں سے کچھ نہیں بنتا'' ۔ اور اسی پر موقوف نہیں ان کے وہ صاحبزادے جو اس وقت جے آئی ٹی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی عدالت اورحکومت شکوک و شہبات پر کارروائی نہیں کر سکتی ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ، کچھ ثابت نہیں ہوگا ۔ اسی پلٹ جھپٹ سے وہ عوام کا لہو گرم رکھے ہوئے ہیں تاکہ الیکشن تک معاملات کو عوام کے لیے زندہ رکھا جا سکے اور ہر دو قسم کے فیصلوں کو اپنے مفاد میں استعمال کیا جا سکے ۔ حسین نواز کی بات میں بڑا وزن محسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کچھ ثابت نہیں ہوگا ۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیا وہ ہر ایک شے کا بندوبست کر چکے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ کچھ ثابت نہیں ہو سکے گا کیونکہ شریف خاندان کی اس خصوصیت سے تو بہت لوگ واقف ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ شریف خاندان ہر ایک کو ''خوش ''رکھنے کا عادی بھی ہے اور اس میں کمال مہارت بھی رکھتا ہے ۔ اور پھر ان کے مغل شہزادوں والے خصائص بھی ان کا طرہ امتیاز ہیں جو لوگ خوفزدہ ہو سکتے ہیں انہیں یہ با آسانی خوفزدہ بھی کرلیا کرتے ہیں ۔ اور پھر اس سارے منظر میں کچھ کیفیت بنت کی بھی دکھائی دیتی ہے ۔ مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے ، بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی ۔ انصاف کا تعیش غریب معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ انصاف کے لیے صبر چاہیئے اور برسوں کی بھوک کو تو لمحوں میں اپنے پیٹ میں کھبے پنجو کی تکلیف سے نجات چاہیئے ہوتی ہے ۔ اس لیے نہ کوئی ثبوت نہ کوئی گواہ اور سڑکوں پر عدالتوں کو تحفظ چاہیئے بھی نہیں ہوتا ۔ عدالتوں کو ، کمرہ عدالت کے اندر ان رویوں سے تحفظ چاہیئے ۔ وہ عدالت عالیہ جس کے کمرے کی ہیت پہلی دفعہ جانے والے کے دل پر طاری ہوتی ہے ، اس کمرے میں یہ معاشرہ ، اسکی بھوک اور سیاست مل کر جب چوڑیاں توڑ کر کلائیڈ یسکوپ میں نت نئے ڈیزائن بناتے ہیں تو عدالت عالیہ کو اُلجھا لیتے ہیں ۔ وہ ان کے سامنے آدھا سچ بولتے ہیں اور لوگوں سے بلواتے ہیں ۔ عدالت سب جانتی ہے لیکن یہ معاشرہ کمزور ترین ہے اور جھوٹ اسکی مجبوری بن چکا ہے اس کی عادت جو بن گیا ہے ۔ اور اس وقت ہم خود اپنے ہی جھوٹ سے پناہ بھی مانگ رہے ہیں ، کبھی مسیحا کے منتظر ہیں کہ وہ ہمیں اس کوڑ ھ سے نجات دے لیکن اپنے کوڑھ کو خود ہی سنبھال سنبھال کر بھی رکھتے ہیں ۔ ہمارا علاج کیسے ہو ؟ 

متعلقہ خبریں