بنارسی ٹھگ

بنارسی ٹھگ

انڈیا کے مشہور شہر بنارس کے ٹھگ بہت مشہور ہیں ان کے لیے عرف عام میں بنارسی ٹھگ کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے ٹھگ کو نوسر بازبھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ فن کار ہوتے ہیں جو اپنی غیر معمولی ذہانت کی مدد سے آپ کو اپنی جمع پونجی سے محروم کردیتے ہیں اور آپ دیکھتے رہ جاتے ہیںہم ان کے لیے فن کار کا لفظ اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ یہ پستول دکھا کر آپ سے رقم نہیں چھینتے نہ ہی رات کی تاریکی میں آپ کے گھر کی دیوار پھلانگ کر چوری کرتے ہیں اورصبح جب آپ نیندسے بیدار ہوتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کی نقدی زیورات وغیرہ چوری ہوچکے ہیں۔ چور آپ کی بے خبری یا گہری نیند کا فائدہ اٹھا کر چوری کرتا ہے جبکہ نوسر باز آپ سے دن دھاڑے ملاقات کرتا ہے آپ کے سامنے ایک منصوبہ پیش کرتا ہے آپ اپنے پورے ہوش و حواس کے ساتھ اس کے منصوبے پر غوروفکر کرنے کے بعد اپنی جمع پونجی نوسر باز کے حوالے کردیتے ہیں۔ویسے اس پوری کہانی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ لٹنے والا اپنی لالچ کی وجہ سے لٹتا ہے اگر وہ لالچ ایک بری بلا کی حقیقت سے واقف ہوتا تو کبھی نوسر باز کے بچھائے ہوئے جال میں نہ پھنستا۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ لٹنے والا لالچی شخص دیانتداری کا مظاہرہ بھی نہیں کرتا اسے اگر دو چار پیسوں کا فائدہ پہنچ رہا ہو تو وہ حلال حرام کی پرواہ بھی نہیں کرتا یہ وہ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتااگر کسی کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کی بلا سے اسے اپنے فائدے سے غرض ہوتی ہے یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ نوسرباز کے جال میں پھنس جاتا ہے ! نوسر باز کو اپنا شکار کسی سڑک پر چلتے ہوئے بھی مل سکتا ہے کسی بس میں سفر کے دوران بھی یا کسی لاری اڈے پر بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی !یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وقت کم اور مقابلہ سخت والی کیفیت ہوتی ہے۔ دو دن پہلے یونیورسٹی روڈ پر ایک نوسر باز نے بس سٹاپ پر کھڑے ایک شخص کو سونے کا نقلی ہار تھما کر اس سے ہزاروں روپے ہتھیا لیے نوجوان نے بڑے خشو ع و خضوع کے ساتھ سونے کا نقلی ہار پندرہ ہزار روپے نقد لیپ ٹاپ اور قیمتی موبائل کے بدلے خریدا۔تفصیل اس اجمال کی شکار کچھ یوں بتاتا ہے کہ میں بس سٹاپ پر کھڑا بس کا انتظار کر رہا تھا کہ میرے ساتھ کھڑے ایک شخص نے مجھے سونے کا ایک ہار بتایااور کہا کہ اس کی قیمت 90ہزار روپے ہے مگر اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے اس لیے یہ ہارفروخت کررہا ہے۔ اس نے لالچ میں آکر نوسر باز کو پندرہ ہزار روپے نقد ، ایک لیپ ٹاپ ،ایک موبائل فون دے کر اس کے بدلے اس سے سونے کا ہار خرید لیا۔ بعد میں جب وہ خوشی خوشی ہار فروخت کرنے سنار کے پاس گیا تو اسے پتہ چلا کہ ہار تو نقلی ہے!یہ سچ ہے کہ لالچ بندے کی مت ماردیتی ہے اگر وہ ایک لمحے کے لیے یہ سوچ لیتا کہ اگر اسے پیسوں کی ضرورت ہے تو یہ ہار سستا بیچنے کی بجائے سنار کے پاس جا کر پوری قیمت کیوں وصول نہیں کرتا ؟تو وہ کبھی بھی نوسر باز کے بچھائے ہوئے جال میں نہ پھنستا!اسی طرح ایک پراپرٹی ڈیلر نے ایک شخص کو پچیس لاکھ روپے مالیت کا مکان اٹھارہ لاکھ میں خریدنے کا لالچ دیتے ہوئے کہا کہ مالک مکان مجبور ہے اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے مکان میں کرائے دار موجود ہیں جیسے ہی انہوں نے گھر خالی کیا رجسٹری بھی ہوجائے گی۔ فی الحال آپ دس لاکھ روپے دے دیں باقی پیسوں کی ادائیگی مکان کی رجسٹری اپنے نام کرواتے ہوئے کردیجیے گا۔ یہ صاحب پچیس لاکھ کا مکان اٹھارہ لاکھ میں ملنے کی امید پر خوشی سے جھوم اٹھے۔ گھر آئے بیوی سے زیور لے کر بیچا کچھ نقدی گھر میں موجود تھی دس لاکھ روپے پراپرٹی ڈیلر کے ہاتھ پر رکھے چند دن تو پراپرٹی ڈیلر انہیں یہ کہہ کر بہلاتا رہا کہ بس کرایہ دار گھر ڈھونڈ رہے ہیں جیسے ہی انہیں مکان کا قبضہ ملامکان کی چابی آپ کے حوالے کردی جائے گی جب کچھ ہفتے گزر گئے تو صاحب کو تشویش لاحق ہوئی جب مزید معلومات کی تو پراپرٹی ڈیلر رفو چکر ہوچکا تھا اور وہ مکان تقریباًدس بارہ پارٹیوں پر اسی طرح ہوا میں بیچ کر ایک کروڑ روپے وصول کرچکا تھا۔ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ وہ مکان گلی میں موجود جنرل سٹور والے کی ملکیت تھا جو اپنے مکان کی خریدو فروخت سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ اب اس کا کیا علاج کہ لالچ نے خریدار کو اتنا اندھا کردیا کہ اس نے مالک مکان کا پوچھا اور نہ ہی گھر کے کاغذات کے حوالے سے کوئی بات کی۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے کہنے پر نوسر باز اپنی نوسر بازی کو خیر بادتو نہیں کہہ سکتے اس لیے ا نہیں سمجھانے یا نصیحت کرنے کی کیا ضرورت ہے البتہ ہم یہ تو کرسکتے ہیں کہ اپنے ان بھائیوں کو خبردار کردیں جو تھوڑے بہت فائدے کے لالچ میں اپنی جمع پونجی سے محروم ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ انسان اپنے اس مال سے محروم ہوتا ہے جس میں حرام کی آمیزش ہو یا پھر اس رقم یا سونے پر زکواة نہ نکالی گئی ہو ! نبی کریم ۖ کی ایک خوبصورت حدیث مبارک کا مفہوم ہے: خشکی تری یا کسی جنگل میں بھی جب کسی کا مال ضائع ہوتا ہے تو اس کی وجہ زکواة کی عدم ادائیگی ہوتی ہے ۔