ٹرمپ، عرب تنازعے کے بہترین ثالث؟

ٹرمپ، عرب تنازعے کے بہترین ثالث؟

مسلمان دنیا کا انتشارتیزی سے بڑھ رہا ہے۔تیل کی دولت سے مالامال اوراسرائیل کے گردونواح کے عرب ممالک کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔پورے مشرق وسطیٰ میں عافیت کا صر ف ایک ہی جزیرہ ہے ،امن کی فقط ایک ہی نگری ہے اور وہ ہے اسرائیل ۔ عراق اور شام کی طرح کچھ ملکوں کا سول سٹرکچر امریکہ نے ادھیڑ کر رکھ دیا اور لیبیا ،مصر اوریمن کی صورت میں کچھ عرب بہارکے بالواسطہ انداز کے باعث خانہ جنگی کی صلیب پر جھول رہے ہیں اور سعودی عرب کی طرح کچھ ملکوں کو داعش کے ایک نئے نام اور سٹائل نے نشانے پر رکھ لیا ہے ۔مسلم دنیا کا یہ انتشار اس وقت مزید گہرا ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے کسی پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے ۔ٹرمپ سعودی عرب کو اربوں ڈالر اسلحے کی فروخت کے معاہدے کر کے رخصت ہو چلے کہ چھ عرب ملکوں کی طرف سے اچانک ایک دھماکہ خیز اعلان ہو گیا ۔سعودی عرب ،مصر،یمن ،بحرین ،متحدہ عرب امارات اور لیبیا نے ایک چھوٹے سے عرب ملک قطر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کردئیے ۔عرب ملکوں کے غصے کا یہ آتش فشاں اچانک پھٹ پڑا اور اس کا صدر ٹرمپ کے دور ے ،ان کی سخت بیانی اوراشاروں کنایوں سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔پہلے امریکہ کے بیانات میں لاتعلقی اور تشویش کا رنگ جھلکتا تھا پھر اچانک امریکہ نے فریقین پر ہوش کے ناخن لینے پر زوردینا شروع کیا اور ایک ٹیلی فون اُدھر ایک اِدھر،صلح جوئی کے مشورے ،احتیاط سے کام لینے کی نصیحتیں غرض یہ امریکہ ایک مصالحت کار اور عربوں کے محسن کے تصور کے ساتھ سامنے آنے لگا ۔یہ دلچسپ انداز امریکہ نے خلیج کی پہلی جنگ میں اپنایا تھا ۔جب بغداد میں امریکی سفیر نے صدام حسین کو کویتی علاقوں پر قبضہ کرنے کا اشارہ دیا تھا یا کم ازکم اس عمل کے دوران غیر جانبدار رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور صدام حسین کویتی علاقوں پر چڑھ دوڑے اورپھر ان علاقوں کا قبضہ چھڑانے کے لئے امریکہ کو براہ راست خلیج میں قدم رکھنا پڑا تھا ۔حالیہ عرب تنازعے میں بھی امریکہ کے اسی ماضی کے رویے اور کردار کی جھلک باآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔قطر کی اقتصادی اور فضائی ناکہ بندی کے لئے جو فرد جرم سامنے آئی ہے اس کا پہلا نکتہ عرب سپرنگ میں قطر کا کردار اور اخوان المسلمون اور حماس کی حمایت اورانہیں پلیٹ فارم مہیا کرناہے۔اس فرد جرم کا دوسرا نکتہ ایران کے حوالے سے قطر کا نرم موقف ہے اور غالباََ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر پر سر دھننے میں تساہل برتنا ہے۔کچھ ہی دن پہلے ایران کی حمایت میں امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کا ایک بیان انٹرنیٹ پر گردش گرتا رہا ۔قطری حکام نے اس بیان کی تردید کی اور اسے ہیکرز کی کارستانی قرار دیا ۔اسی طرح سعودی عرب کی شیعہ آبادی والے علاقوں میں ایرانی سرگرمیوں کو قطر کی حمایت بھی اس فردجرم کا حصہ ہے۔تیسرا نکتہ لیبیا میں باغی دھڑوں کی حمایت اور چوتھا نکتہ میڈیا اداروں کے ذریعے سرکشی کے جذبات اُبھارنا ہے۔قطر کومشرق وسطیٰ میں امریکہ کا چھوٹا پنٹاگون کہا جاتا ہے اور یہاں امریکہ کابڑا فوجی اڈہ موجود ہے ۔اسی اڈے سے امریکہ نے خطے کو کنٹرول کیا ۔سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میںاچانک گرم جوشی آگئی ہے اور اسلحہ کی بہت بڑی ڈیل کے ذریعے یہاں امریکہ کا بہت بڑا معاشی مفاد پیدا ہوگیا ہے۔اس لئے دونوں طرف امریکہ کے دوست ہیں اور امریکہ دوستوں کے درمیان اس ناچاقی سے دونوں طرف سے مفادات کا حاصل کرنا چاہتا ہے ۔قطر سے امریکی ایما پر الجزیرہ جیسے آزاد رو اور طاقتور میڈیا کا ظہور ہوااور اس سے واقعی خطے میں آگہی اور شعور کی ایک لہر پھیل گئی ۔جو آگے چل کر ازکار رفتہ عرب بادشاہتوں اور حکمرانیوں کے زوال پر منتج ہوئی ۔یہ لہر صدر خاتمی کے خلاف مظاہروں کی صورت میں ایران کی حدود میں داخل ہورہی تھی تو بھی الجزیرہ اس آگ کو برابر ہوا دے رہا تھا۔ اس وقت الجزیرہ پر بغاوت کے شعلوں کو ہوا دینے کا الزام نہیں تھا ۔اب یوں لگتا ہے کہ شعور اور آگہی کی یہ لہر خطے میں امریکہ اور امریکہ نواز حکمرانوں کے کردار کو بھی موضوع بنانے لگی تھی جس کی وجہ سے اس ساری صورت حال کو کنٹرول کرنا ناگزیر تھا ۔قطر کے فردجرم دیکھیں تو یہ روایتی عرب اور فارس اور شیعہ سنی جھگڑا دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کا پہلا نکتہ ہی اخوان المسلمون او ر حماس کی حمایت ہے ۔اسی طرح قطر کے بحران میں ایران نے بہت حکیمانہ انداز اختیار کرکے جذباتی ہونے کی کوشش نہیں کی اور ترکی کو قطر کی تنہائی دور کرنے کا موقع دیا ۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر قطر میں فوج بھیجنے کا اعلان کیا اور یوں یہ روایتی سعودی ایران کشمکش کا نیا محاذ نہ بن سکا ۔یوں لگتا ہے کہ خلیج کی موجودہ کشمکش کا تعلق دوعالمی بلاکوں کی تشکیل اور اُبھار سے ہے ۔سعودی عرب کی قیادت میں جو عرب بلاک نے اپنا وزن امریکہ کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کر رکھا ہے جبکہ ترکی ،پاکستان اور ایران جیسے ملک دوسری جانب کھسک رہے ہیں۔قطر نے عالم عرب میں الجزیرہ کے ذریعے جس آگہی کا صور اسرافیل پھونکا تھا عین ممکن ہے کہ وہ خود اس کی زد میںآگیا ہواور امریکی اڈے کا بوجھ اتار کر دوسرے بلاک کی طرف ہاتھ بڑھانے کا خواہش مند ہو ۔جس پر امریکہ نے قطر کے کان کھینچنے کا فیصلہ کیا ۔پاکستان سمیت کئی ملک اس تنازعے میں ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں مگر اس کام کے لئے سب سے'' موزوں''شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جن کی خلیج میں آمد نے یہ طوفان کھڑا کیا اور اب وہی اس کی موجوں کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔

اداریہ