نواز شریف اشرف غنی ملاقات

نواز شریف اشرف غنی ملاقات

شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ملاقات کونسل کے اجلاس کا پاکستان کے لیے مکمل رکنیت کے علاوہ ایک اور ثمر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا جو عزم کیاگیا ہے وہ کارگر اور نتیجہ خیز ہوگا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان کبھی تعاون کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنے اور کبھی شکوک شبہات کی بنا پر باہمی فاصلے بڑھانے کی روایت ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس کی حقیقی وجوہ کیا ہیں اور کون سے عناصر ہیں جو دونوں قریبی ہمسائیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کی راہ میں جارح ہیں' اس کو نظر میں رکھتے ہوئے گزشتہ چند ہفتے کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ ایک دن پاک فوج کی اعلیٰ کمان کا اجلاس پاک افغان صورت حال کے بارے میں ہوا اور اس کے اگلے ہی روز وفاقی کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صورت حال کی گمبھیرتا کا جائزہ لیا گیا۔ شنگھائی تعاون کونسل ایسا فورم ہے جو علاقے کے ملکوں کو حقائق کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے اور اس پلیٹ فارم سے وزیر اعظم نواز شریف اور صدر اشرف غنی وغیرہ نے اپنے ملکوں کے عوام کے امن اور چین کے لیے خوش اسلوبی سے استفادہ کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ہمسائے نہیںبدلتے۔ پاکستان اورافغانستان ایسے ہمسائے ہیں جن کی ہزاروںسال کی تاریخ ایک ہے۔اس لیے دونوںملکوںکی حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنے عوام کی صلاحیتوں سے بھرپورنتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ تیسری قوت کے مفادات کی طرف جھکاؤ باہمی تعاون کے فوائد کاعشر عشیر بھی نہیںفراہم کر سکتا۔ اس لیے پاکستان اورافغانستان بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے جو توقعات وابستہ کر سکتے ہیں وہ تیسرے ملک کے ساتھ تعاون کے امکانات سے زیادہ ہی رہیں گی۔ افغانستان کی صورت حال میں پاکستان کی خواہش اور اصولی مؤقف ہے کہ افغانستان میں درپیش تنازع کا حل کسی تیسری قوت کی بجائے خود افغان قیادت دریافت کرے اور اس پر امن وآشتی کی عمارت کی تعمیر خود افغان عوام کریں۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ، افغانستان کے بعد اس کا دوسرا اہم ترین ہمسایہ بھارت ہے جس کے ساتھ اس کی سرحد مشترک ہے۔ کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تہذیبی فاصلہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی تشکیل ہی بھارت کی ہزاروںسال پرمحیط دروں بیتی پر مبنی ہے جس نے آج کے دور میں شائونزم کی صورت اختیار کر لی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تنازعات اسی صورت میں طے ہو سکتے ہیں کہ بھارتی معاشرے کے قائدین ہزاروں سال کی محرومیوں کا الزام پاکستان پر دینے کی بجائے پاکستان کو ایک برابر کی باوقار حقیقت شمار کریں۔ پاک افغان تعلقات اور پاک بھارت تعلقات کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس لیے افغانستان کے حکمرانوں کو پاکستان کے تعلقات دو طرفہ بنیادوں پر استوار کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں دو طرفہ بنیادیں قوی اور مضبوط ہیں۔ اور دونوں میں سے ایک کا استحکام دوسرے کے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ ان حقائق کے ادراک کی بدولت یا آستانہ میںشنگھائی تعاون تنظیم کے ایک حوالے کے ساتھ تعاون کے راستے کھلنے کے ماحول کے زیرِاثر صدر اشرف غنی نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور ا س ملاقات کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون پر اتفاق کیا گیا اور افغان تنازع کے حل کے لیے چار فریقی تعاون کے احیاء کا فیصلہ کیا گیا۔دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہوتے اس لیے ان پر تکیہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ افغانستان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کے علاقے میں پاکستان کے مفرور و مطلوب افراد ایک بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ تو پھر انہیں محدود کرنے کی ذمہ داری بھی افغان حکومت کو قبول کرنی چاہیے۔ افغان حکمرانوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاقے سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو پھر افغانستان کے حکمرانوں کو پاک افغان سرحد کے انتظام میںتعاون کرنا چاہیے۔ افغانستان میں افغان طالبان ایک حقیقت ہیں یعنی افغان طالبان کی سو چ کو افغان عوام میں پذیرائی حاصل ہے ۔ اس سوچ کو جمہوری اداروں میں منعکس ہونے کا موقع دینا چاہیے تاکہ جمہوری اور پرامن انداز میں ایک متحدہ افغانستان کا وجود نمایاں ہو سکے۔ آستانہ میں وزیر اعظم نواز شریف اور صدر اشرف غنی کے درمیان مذاکرات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون' باہمی سرحد کے احترام اور افغان مسئلہ کے حل کے لیے چار فریقی تعاون کے احیاء کے بارے میں اتفاقِ رائے ہوا ہے یہ بہت سے غلط فہمیوںکے رفع ہو جانے کے بعد پیدا ہوا ہے۔امیدکی جانی چاہیے کہ یہ اتفاقِ رائے دونوں ملکوں کے درمیان ثمربار تعاون اور خطے میں امن وسلامتی لائے گا۔

اداریہ