Daily Mashriq

ابتری کی بڑی وجہ ریس کے گھوڑوں کی سیاست

ابتری کی بڑی وجہ ریس کے گھوڑوں کی سیاست

ملک پاکستان میں جمہوریت کا استحکام اور جمہوری حکومتوں کے مدت اقتدار مکمل کرنے کی راہ کی رکاوٹیں بڑی حد تک دور ہوگئی ہیں لیکن سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب تک سیاست میں تبدیلی نہ آئے سیاسی ماحول نہ بدلے وطن عزیز اور اس کے عوام جن حالات سے دو چار چلے آرہے ہیں ان حالات سے چھٹکارے کی امید نہیں یا پھر بہت کم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو وطن عزیز کے عوام نے یکے بعد دیگرے مختلف جماعتوں کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا لیکن در حقیقت دیکھا جائے تو یہ محض ایک دھوکہ ہے ایک سراب ہے جو ہر انتخابات کے وقت پر نظر تو آتا ہے مگر جب حکومت بنتی ہے اور تفصیلات سامنے آتی ہیں تو عقدہ کھلتا ہے کہ ساری پرانی شراب نئی بوتل میں نئے لیبل کے ساتھ سامنے آگئی ہے۔ یہ عناصر دو قسم کے ہیں ایک تو یہ کہ یہ عناصر اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرین کے پروردہ اور منظور نظر ہیں دوم یہ کہ ان عناصر کی ایک باقاعدہ جماعت ہے جسے مرغ باد نما کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ہوا کا رخ جدھر چلے اور مقتدرین کا اشارہ جس طرف ہو ان کی منزل وہی ہوتی ہے‘ ان لوگوں کا کوئی نظریہ کوئی لیڈر اور کوئی وفاداری نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی کوئی جماعتی وابستگی ہوتی ہے۔ یہ لوگ ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے نہیں بلکہ ادھر اقتدار کا سورج ڈوبا تو ادھر اقتدار کے سورج کے ساتھ طلوع ہونے والے شاطر ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ عناصر با اثر با رسوخ اور خاص طور پر پاکستان کی انتخابی سیاست میں ریس کے مضبوط اور طاقتور گھوڑوں کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ہر سیاسی جماعت حصول اقتدار کے لئے ان کا سہارا لیتی ہے اور یہ ان کا سہارا بننے کے لئے خود ہی جا کر اپنا کندھا پیش کرنے سے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ ان افراد کا ضمیر بھی ان ہی کی طرح ہوتا ہے جو نہ تو کھٹکتا ہے اور نہ ہی نظر یں ملانے میں چوکتا ہے۔ اس قسم کے عناصر کسی جماعت میں نہیں ہوتے مگر اس کے باوجود سیاسی جماعتوں کی صفوں میں یہی عناصر فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ عناصر حصول اقتدار کی خواہش رکھنے والی جماعت کی ایسی مجبوری بن جاتے ہیں کہ ان کے لئے نظریات اور منشور تک کی قربانی دی جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کو اس کیفیت کا سامنا ہے۔ مخلص کارکنان کو دیگر جماعتوں میں بھی وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں مگر بہر حال کارکنوں کی کچھ نہ کچھ قدر و منزلت ضرور ہوتی ہے۔ ان سے نام کی حد تک مشاورت کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے مگر ہوتا وہی ہے جو زرداری چاہے یا نواز شریف۔ اس مرتبہ تحریک انصاف کی باری آئی تو کم و بیش یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ عناصر جب دوسری جماعت میں ہوتے ہیں تو لوٹے کہلائے جاتے ہیں اور جب شمولیت کرلیں تو گرمجوشی سے گلے لگا کر ہار ڈال کر پارٹی ٹکٹ ان کو تھمایا جاتا ہے۔ کیا یہ دلچسپ حقیقت نہیں کہ یہ عناصر ایک جماعت سے دوسری جماعت کا سفر بغیر کسی وقفے کے کرتے ہیں اور ہر دور اقتدار کا حصہ ہوتے ہیں۔الیکشن 2002 میں 140ارکان اسمبلی پی ایم ایل (ن) چھوڑ کر پی ایم ایل(ق) میں شامل ہوئے تو الیکشن 2008کے دوران 89ارکان اسمبلی نے پی ایم ایل(ق) کو خدا حافظ کہہ کر پی پی پی کے ساتھ ہاتھ ملالیا۔اسی طرح الیکشن 2013میں 121ارکان اسمبلی نے پی پی پی کو چھوڑ کر دوبارہ پی ایم ایل(ن) میں آگئے اورالیکشن2018 میں آج یہ تمام پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔یہی سو دو سو لوگ ہر اس سیاسی جماعت کا حصہ ہوتے ہیں جن کو اقتدار ملنے والا ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ اور مقتدر عناصر کا پروردہ قرار دینا اس لئے غلط نہ ہوگا کہ تقریباً ہر بار اس قسم کے افراد کی مدد سے حکومت بنتی ہے اور یہ لوگ اپنے حقیقی مربیوں کے ایماء پر سیاسی حکومتوں کا حصہ بن کر ان کو دبائو میں رکھتے ہیں۔ وطن عزیز میں جب تک اس قسم کے عناصر کا بول بالا رہے گا۔ ملکی سیاست اور عوام کے حالات میں بہتری کی توقعات کا پورا ہونا مشکل امر ہوگا۔ اگر وطن عزیز میں جمہوریت کا استحکام مطلوب ہے تو اس قسم کے عناصر سے سیاسی جماعتوں کو اپنی صفوں کو پاک رکھنا ہوگا۔ سویلین بالا دستی کی راہ میں اصل رکاوٹ یہی عناصر ہیں جن سے اپنی جماعتوں کو پاک کئے بغیر اقتدار حاصل کرنے والی کوئی بھی جماعت یا اتحاد پوری طرح سے حکمرانی کے قابل نہیں ہوگا۔ مشکل امر یہ ہے کہ ان عناصر کا ہاتھ ملکی سیاست کی نبض پر ہے اور نباض ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ اس وقت بھی دیکھا جائے تو ان مرغان بادنما نے ایک سیاسی جماعت کا رخ کرلیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان کے مقابلے میں مخلص اور دیرینہ کارکنوں کو پارٹی ٹکٹوں میں فوقیت دی جائے ان کے ہاتھوں کارکنوں کو بد ظن کیاگیا جو صرف اسی نہیں قابل ذکر ہر سیاسی جماعت کی قیادت کا المیہ رہا ہے۔ ان عناصر کی بے اعتباری کابھی کوئی اندازہ نہیں یہ عناصر بعد انتخاب بھی ہوا کارخ دیکھ کر قبلہ تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان عناصر کو اگر سیاسی جماعتوں کے لئے نظر انداز اور مسترد کرنا مصلحت نہیں تو عوام ہی ان عناصر کو مسترد کرنے کی ابتدا کرلیں۔ ایک مرتبہ ان عناصر کو ملکی سیاست سے باہر دھکیلا جائے تو ملک میں سیاست و جمہوریت کا مضبوط آغاز ہوگا۔ عوام کے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہوگی۔ ملکی وسائل کا درست اور صحیح استعمال ہوگا اور نتیجتاً قوم بہتری اور تبدیلی کی طرف بڑھے گی۔ ملکی سیاست کو اس کے گھوڑوں سے آزاد کرنے کا فیصلہ سیاسی جماعتوں کی ہم آہنگی اور مشاورت سے ممکن ہوگا۔ مگر یہاں ملک و قوم کے مفاد کی نہیں اقتدار کی کرسی کی دوڑ لگی رہتی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جس طرح دیگر معاملات میں بہتری آرہی ہے ان عناصر پر انحصار نہ کرنے کا فیصلہ بھی ایک نہ ایک دن سامنے آئے گا۔ ان عناصر کا چہرہ سوشل میڈیا جس طرح بے نقاب کرنے میں مصروف ہے اگر نوجوان آنکھوں سے تعصب کی پٹی ہٹا کر ان عناصر کا ماضی کا کردار و عمل دیکھیں تو ان سے از خود متنفر ہونا فطری امر ہوگا جس کی اس دفعہ کے انتخابات میں توقع کی جانی چاہئے اور مثبت نتائج کی امید رکھی جانی چاہئے۔ اس طرح کے عناصر جس جس صف میں نظر آجائیں ان کو مسترد کردینا ہی شعور کا مظاہرہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں